Leave a comment

تصویر بدل دو بھائی

فاروق سلیم ایسا نام ہے کہ جن کا رکن ہونا اس فورم کے لئے باعث افتخار ہے۔ ابھی اس کا زیادہ کام سامنے نہیں آیا محض دو عمران سیریز کے ناول مگر پڑھنے والے جانتے ہیں کہ کیا ہی کمال لکھے انھوں نے۔ اس کا انداز بیاں مظہر کلیم صاحب سے کافی مماثلت رکھتا ہے اور ان کے اس اعتراف  نے  کہ وہ خود بھی مظہر صاحب کے پرستاروں میں شامل ہیں ہمارے دل میں ان کا مقام اور بھی بڑھا دیا ہے۔

ہماری فاروق سلیم سے گاہے گاہے بات چیت ہوتی رہتی ہے اور حال احوال سے آگاہی بھی رہتی ہے۔ پچھلے دنوں ان کے ناول کی اشاعت کا پتہ چلا۔ اور ہم بے صبری سے اس کے اپ لوڈ ہونے کا انتظار کرنے لگے۔ یہاں دیار غیر میں تو اردو کتب ملتی ہی نہیں سو انٹرنیٹ ہی ہمارے لئے واحد ذریعہ ہے کتاب پڑھنے کا۔ فاروق سلیم سے بات ہوئی تو فرمانے لگے کہ آپ نے پڑھ کے رائے دینی ہے بلکہ تنقید کرنی ہے تا کہ مزید پختہ لکھنے کی تحریک ہو۔ ہم نے کہا کہ اگر کوئی بات قابل تنقید ہوئی ہی نہ تو؟ فرمایا کہ بغور پڑھنے سے مل جائے گی۔ ہم نے کہا کہ کوشش کرتے ہیں

اب ہم نے سپرمائنڈ پڑھنا شروع کیا تو بس پڑھتے ہی رہ گئے۔ بہت ہی خوبصورت پلاٹ اور پھر جس مہارت سے انھوں نے اسے انجام تک پہنچایا اس سے ان کے زور قلم کی داد نہ دینا زیادتی ہو گی۔ خیر ہمیں اعتراف میں عار نہیں کہ باوجود کوشش کے ہم ناول میں کوئی کمی یا خامی نہ پا سکے اور جب ہم اپنی اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے ہی والے تھے تو ہماری نظر آخری صفحے یعنی کہ بیک کور پر جا ٹکی اور ہم نے فاروق سلیم سے استفسار کیا کہ آپ کی یہ تصویر کب کی ہے؟ فرمایا کہ جدید ہے؟ ہمیں ان کی عمر کا کچھ کچھ اندازہ تو ہے کہ راتیں نکال کر تیس سے اوپر ہیں مگر انھوں نے یہ عمر راتوں سمیت بتائی۔ ہم نے کہا کہ بھائی تصویر کے لحاظ سے تو آپ کسی صورت چالیس کے پیٹے سے کم کے نہیں لگتے تو فرمایا کہ ان دنوں وزن بڑھ گیا تھا جس سے تصویر ایسی آئی۔ اب پھر سے وزن کم کر رہا ہوں پھر نئی تصویر لگوا دوں گا۔ میں نے کہا کہ تب تک خلقت آپ کی اس تصویر کی عادی ہو جانی اور پھر کسی نے نہیں ماننا کہ یہ آپ ہو لھذٰا پہلی فرصت میں تصویر بدلو۔

فرمانے لگے کہ بھائی ہو جائے گی ایسی بھی جلدی کیا ہے؟ لو جی یہ تو ہمیں بھی سستی میں پیچھے چھوڑ گئے۔ ہم نے کہا کہ بندہ خدا اپنا بھلے نہ سوچ ہمارا تو خیال کر۔ پوچھا کہ میری تصویر سے آپ کا تعلق چہ معنی؟ ہم نے کہا کہ آپ کا ہم عصر ہونے کے ناطے لوگ میری اور لودھی(ابن  نیاز) کی بھی عمر کا اندازہ لگا لیں گے اور یہ ہمیں قطعًا منظور نہیں ہے۔ اس فورم پر ہمیں دو تو نوجوان ہیں اور اگر آپ نے ہماری بات نہ مانی تو ہم نے آئندہ کوئی تنقید نہیں کرنی۔

ہماری اس دھمکی نے تو ان تو ان کو ادھ موا ہی کر دیا۔ روہانسے ہو کر بولے کہ پھر کیا کروں ؟ ہم نے کہا کہ کسی اور کی تصویر لگا دو۔ کون آ کر تصدیق کرے گا۔ کہنے لگے کس کی؟ ہم نے روانی میں کہہ دیا کہ ہماری ہی لگا دو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ یہ سن کر ایک دم خوش ہو گئے اور بولے کہ پروفیسر آپ اپنی تصویر دو میں اگلے ناول میں وہی لگاؤں گا۔ اس سےناول کی بکری بھی بڑھ جائے گی ۔ ہم نے کہا کہ ہمارے تصویر سے کیسے بکری بڑھ جائے گی ۔ الٹا ہمارے طالب علم تو خریدیں گے نہیں کہ شائد یہ بھی ناول کے اندر کورس کی کتاب ہے ہم تو صرف اس لئے دے رہے اپنی تصویر کہ آپ کی وجہ سے لوگ ہمیں بھی بابا نہ سمجھ لیں۔ تو جواب آیا کہ آپ کی شکل تو وحید مراد  سے ملتی ہے  اندر میں رومانی کہانی لکھ دوں گا تو بکری بڑھ ہی جائے گی۔

وحید مراد ہونے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر ہمارے تو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ بھائی صاحب نے اندر واقعی رومانی کچھ لکھ دیا تو ہم شادی شدہ تو نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔ ہم نے ان کوعرض کیا کہ ہم عمران ضرور ہیں اپنی اسناد کے لحاظ سے مگر بخدا عمران ہاشمی نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں دینی اپنی تصویر۔ بخشو بی  بلی چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ آپ کی یہی تصویر ٹھیک ہے۔ ہم تو آپ سے مذاق کر کے اپنی خفت مٹا رہے تھے۔ آپ نے بہت خوب لکھا ہے۔  لکھتے رہیے اور  ہمیں محظوظ کرتے رہیے۔ تہہ دل سے مبارک باد قبول فرمائیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s