Leave a comment

خوش رہو اہلِ وطن

چند روز قبل کا قصہ ہے کہ ہمیں ایک فیس بک پیج کا علم ہوا کہ وہ ادبی صفحہ ہے۔ ہم نے اس میں شمولیت کی درخواست کی جو کہ بصد احترام قبول کر لی گئی۔ ہم اب اس پیج پر جانے لگے اور وہاں موجود مواد سے بھی مستفید ہونے لگے۔ فورم پر انٹرویوز کا سلسلہ جاری تھا۔ تاہم ہمارے لئے یہ حیران کن امر تھا کہ خواتین کے ہی انٹرویوز ہو رہے ہیں۔ اک روز ہم نے یونہی سوالات دیکھ کر ان کے جوابات تحریر کیے اور پیج کےمنتظم کو بھیج دیئے۔ منتظم کو غالبًا ہماری تحریر پر کشش محسوس ہوئی اور انھوں نے مزید سوالات ارسال کیے کہ ان کے جوابات بھ بھیجے جائیں۔ ہم نے تعمیل ارشاد کی۔ اس کے بعد ہمارا انٹرویو بھی چھپا نامی گرامی مصنفات کے ساتھ۔ جس کے لئے ہم منتظم کے مشکور ہیں کہ ہم نہ تین میں نہ تیرہ میں مگر انھوں نے ہماری عزت افزائی کی۔
ہمارا انٹرویو بس ہلکے پھلکے جوابات پر مشتمل تھا اور ہماری توقع سے زیادہ ہی کامیاب رہا جس پر ہم اس پیج کے ممبران کے مشکور ہیں۔ ہمیں اپنی تحاریر اس فورم پر بھی پشے کرنے کا کہا گیا اور ہم نے بھی مثبت جواب دیا
دوران انٹرویو ہم سے کچھ غلطیاں بھی سرزد ہوئیں۔ ایک خطا یہ ہوئی کہ ہم نے دوران انٹرویو ہی مردوں کے حقوق کی بات کر کے خواتین( جو کہ ملک کی آبادی کا باون فیصد اور اس صفحے کی نوے فیصد ہیں) کے غیض و غضب کو دعوت دے دی۔ اور دعوت سے کون انکار کرتا ہے۔پھر یہ کہنا کہ فورم پر امتیاز برتا جا رہا ہے، کچھ مناسب بات نہ تھی۔ یہ تو جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والی بات ہوئی اور انجام بھی وہی ہوا جو ایسی حرکت کرنے والوں کا ہوتا ہے یعنی کہ ہماری پہلی ہی تحریر پر ہمیں پیج بدر کر دیا گیا۔
مقدر کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے کہ ہم آج تک اک کے علاوہ کسی بھی فورم یا صفحے پر اپنی چند سے زائد تحاریر ںہیں دے پائے۔ وجہ اس کی یہ کہ جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے۔۔۔۔ یعنی کہ شاید ہمارے آگے کسی کا رنگ کلام نہیں جما۔ اس میں بخدا ہمارا کمال نہیں’ قبول سخن تو خداداد چیز ہے۔ مگر اس کی سمجھ نجانے ان منتظمین کو کیوں نہیں آتی۔ نتیجتًا ہمیں اکثر گروپس میں سے یوں نکال دیا گیا جیسے حکومت محنتی ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دے دیتی تھی۔
جس طرح پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتیں بالکل اسی طرح سب منتظمین بھی ایک سے نہیں ہوتے۔ بعضوں نے ہماری خوب آئو بھگت بھی کی۔ ہماری تحاریر کی تعریف و توصیف کے علاوہ مزید کی فرمائش بھی کرتے تھے مگر وہ تمام فورم کچھ ناگزیر وجویات کی بنا پر بند ہو گئے۔ بعض حاسدین اسے ہماری تحاریر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں مگر آپ تو جانتے ہیں کہ اس میں ذرہ برابر بھی سچائی نہیں ہمارے جاننے والوں کا فرمانا ہے کہ کسی فورم، میگزین کو بند کروانا ہو تو اس میں اپنی تحریر بھیج دو۔تمھاری تحریر کا ڈسا پانی بھی نہیں مانگتا۔
ہم وہ سیاہ بخت ہیں طارق کہ شہر میں
کھولیں دکان کفن کی تو سب لوگ مرنا چھوڑ دیں

ہم تو اب کسی سے بیان ہی نہیں کرتے کہ کسی منتظم کا دل برا نہ ہو۔ معلوم نہیں اس صفحہ والوں کو ہمارے سبزقدم ہونے کا کیونکر علم ہوا اور انھوں نے بھی ہم سے بات کرنا گوارا کرنے کی بجائے فیصلہ صادر فرما دیا۔ جو بھی ہوا بہتر ہوا۔ ہمیں کسی سے گلہ نہیں۔ ہم سب کے لئے دعا گو ہیں کہ سب اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں اور ان سب قارئین کا تہہ دل سے شکر گزار ہیں کہ جنھوں نے ہماری ادنٰی سی کاوش کو سراہا اور ہمارا انداز تحریر ان کو ابن انشاء مرحوم و مغفور کی مانند لگا۔ یہ قارئین کا حسن ظن ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔ اب ہم کسی اور فورم کی راہ تکتے ہیں

خوش رہو اہلِ وطن، ہم تو سفر کرتے ہیں

 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s