Leave a comment

ناموں کے بھی حقوق ہیں

معلوم ہوا ہے کہ ایک  ڈرامہ نویس کو کسی مصنفہ نے اس لئے ڈانٹ دیا کہ ان ڈرامہ نویس نے  ڈرامے کا جو نام رکھا، اس نام کا ان کا ناول ہے۔  ڈرامہ نویس خاتون نے لاکھ کہا کہ مجھے آپ کے ناول کا علم نہیں تھا اور دیکھ لیں کہ کہانی میری اپنی ہے مگر اس مصنفہ کو نہ ماننا تھا اور نہ مانی۔ سننے میں آیا ہے کہ وہ ڈرامہ نویس  بھولی بھالی  مصنفات سے ڈرامہ  تحریر کروا کے اپنے نام سے پیش کرتی ہیں اگر ایسا ہے تو بہت ہی غلط بات ہے۔ اللہ اعلم بالصواب دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے، ادھر جاتا ہے یا دیکھیں ادھر پروانہ آتا ہے۔

ہمارے لئے یہ مقام تعجب ہے کہ محض نام پر اتنی افتاد مچانا چہ معنی؟ ہماری معلومات کے مطابق تو امربیل نام سے بانو قدسیہ صاحبہ کا بھی ناول ہے اور محترمہ عمیرہ احمد  نے بھی  اسی نام سے ناول لکھ رکھا۔ یقینًا اور بھی ایسی مثالیں ہوں گی جو کہ اس وقت ہماری دوربین عینکوں سے پرے ہیں۔  ناولوں کے تو نام چھوڑیں فلمیں اور ڈرامے تو ایک ایک نام کے کئی کئی بنتے ہیں۔ ہماری رائے میں تو کم و بیش سبھی فلموں کی کہانی ایک ہی ہوتی ہے بس نام بدل دیا جاتا ہے ۔ کبھی کسی دوسرے کہانی نویس یا فلم پروڈیوسر نے اعتراض نہیں کیا۔ ان کی یہ امداد باہمی اور جذبہء ہمدردی قابل ستائش ہے۔ ہمارے ادیبوں اور شعراء کو بھی اس سے سبق لینا چاہئے۔

بجا کہ مصنوعات کے مختلف اقسام کے نام ہیں اور وہ نام ہی ان کی پہچان ہیں۔ جیسا کہ جوتوں میں باٹا یا سروس۔ اگر کوئی اپنی جوتوں کی دوکان کھولنا چاہےتو اس کو ان کے علاوہ کوئی نیا نام سوچنا پڑے گا یا ان کی اجازت سے ان کے برانڈ کے جوتے عوام کو دے گا۔ جوتے یوں بھی عوام کو بہت پسند ہیں۔ بقول کسی دانشور کے اس عوام کو مہنگی کتاب سے زیادہ مہنگے جوتے پسند ہیں۔ یہ اب راز نہیں رہا۔ سرکار کو بھی معلوم ہو گئی یہ بات۔  جوتے تو عوام کو سرکارسے بھی ملتے ہیں کبھی بجلی ، کبھی سوئی گیس اور کبھی پٹرول غائب کر کے۔ مگر بیس کروڑ عوام کا ہجوم۔ سرکار کتنوں کی تواضح کرے۔  کچھ اگر کچھ اور رضاکار بھی حکومت کی نصرت میں لگ جاتے ہیں تو عوام کو ان کا مشکورہونا چاہیے۔

جوتوں  کے علاوہ دیگر کھانے کے برانڈز بھی ہیں جو اونچی دکان پھیکا پکوان کے  مقولے پر کاربند ہیں اور بڑے  کامیاب ہیں اپنی حکمت عملی میں۔ ہمیں ان کا نام لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں آپ بخوبی واقف ہیں۔

پرانے وقت بھلے تھے کہ اس وقت یہ روایت نہ تھی۔ اپنا نام کسی کی اتنی ذاتی ملکیت نہ تھا کہ بات ذاتیات پر اتر آتی۔ سرسید احمد خان اور علامہ اقبال فاطمہ جناح نے اپنی زندگیاں تو قوم کے لئے  وقف کی ہی تھیں، دنیا سے جانے کے بعد اپنا نام بھی قوم کو دے کر صدقہء جاریہ کر گئے۔ یہ نام کھل جا سم سم کا کام کرتے ہیں۔ انسانوں پر ہی موقوف نہیں یہ نام ہر چیز پر یوں فٹ بیٹھتے ہیں جیسے مولانا فضل الرحمان ہر حکومت میں۔ کسی سکول کالج کا نام رکھنا ہو اور نہ مل رہا یو تو یہ حاضر۔  ہائوسنگ سوسائٹی بنائیں اور نام موزوں  نہ  ملےتو بھی ان سے استفادہ فرمائیں۔ شاہراہ ہو، ائیر پورٹ ہو یا کھیلوں کا میدان کا نام رکھنا مقصود ہو، ان ناموں کو آپ کہیں بھی ناموزوں نہیں پائیں گے۔ ہمیں ان ناموں کے رکھنے پر اعتراض ہر گز نہیں مگر کیا ہی اچھا ہو کہ ان کے پیغام پر عمل کر کے ان کو خراج تحسین پیش کیا جائے۔

اگر یہ روایت دوسرے شعبوں میں بھی آ گئی تو پھر بہت سی قباحتیں پیدا ہوں گی۔ سنا ہے کہ لاہور نامی شہر امریکہ میں بھی ہے۔ امریکہ نے تو یہ نام ہم سے چھین لینا کہ  امداد تب ہی ملے گی جب لاہور ہمارے حوالے کرو گے۔ گجرات اور  حیدرآباد بھارت میں بھی ہیں۔ اس نے پاکستان میں دہشت گرد کاررائیوں کی آڑ لینی اپنے نام علاقوں کے واپس لینے کے لئے۔ ایسا نہیں کہ پاکستان چپ کر کے بیٹھا رہے گا۔ ہماری وزارت داخلہ اس پر زور احتجاج کرے گی اور دنیا پر واضح کرے گی کہ بھارت ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ نام متنازع ہیں جن پر  اقوام متحدہ کی قراردار سنہ 2015 کے مطابق استصواب رائے ہونا چاہیے۔

ڈراموں، کتابوں اور شہروں کے نام جب وجہ تنازع بن جائیں تو انسان کے نام کس شمار میں۔ ناموں کا یہ مسئلہ نیا نہیں ہے اور اس پر انشا جی بھی کالم لکھ چکے ہیں تاہم ہماری رائے میں جب مقامات اور اداروں کو انسانی نام دیں گے تو انسانوں کے نام اشیا اور چیزوں پر مشتمل ہونے چاہییں۔ رکھنے والوں کا بھلا یہ ہو گا کہ جانور اوراشیاء کو اپنے نام اور حقوق کا علم ہی نہیں اور نام کنندہ کسی استحصال کا شکار نہیں ہوگا۔ اس  سلسلے میں ہم اپنے پٹھان بھائیوں سے مدد لے سکتے ہیں۔ دریا خان، سمندر خان، بارود خان، عجائب  خان، گلاب خان۔  اردو یونیورسٹی میں ایک بار ہمیں اپنے شعبہ میں نئے داخلوں کا کام سونپا گیا۔ ہماری نظر سے تمام داخلہ فارم گزرے مگر جو ذہن میں رہ گیا وہ تھا “امرود خان ولد موسم خان”۔

جانوروں کے ناموں میں بھی مضائقہ نہیں۔ہمارے ممدوح ابن انشاء کا  نام شیر محمد خان تھا۔ استاد طالب علموں کو مرغا بناتے ہیں۔   بے تکلف دوست آپس میں ایک دوسرے کو گدھا کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ خود والدین بھی اکثر بچوں کو بےدھیانی  میں یا خودی سے آگہی کی بنیاد پر الو کا پٹھا کہہ جاتے ہیں۔ ہم جہاں آج کل مقیم ہیں وہاں ‘بندر’ بھی عام نام ہے۔  خود ہمارے کئی طالب علم اس نام کے ہیں اور بعض تو اسم بامسمٰی ہی ہیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s