Leave a comment

ہم بھی مِیرا سے کم نہیں

میرا کو کون نہیں جانتا۔ ہمارے خیال میں تو سب ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ ان کی خوبیوں کا  کیا کہنا؟ ہمہ جہت شخصیت ہیں۔ ۔ جتنا انھیں ادب سے رغبت ہے اتنی ہی ہمیں اداکاری سے ہے۔ وہ شاعری کرتی ہیں تو ہم بیگم کے سامنے اداکاری کرتے ہیں گھر دیر سے آنے پر۔ گویا کہ دونوں کا بنیادی شعبہ  فنون لطیفہ ہے۔ ایک اور خوبی ان کی یہ ہے کہ  وہ بےتکان اور بلا سوچے سمجھے بولتی ہیں سو یہ خوبی بھی ہم میں بدرجہء اتم موجود ہے۔ یوں بھی استاد کا کام  بولے بغیر نہیں چلتا۔ ہم دونوں پاکستانی ہیں اور دور سے ایک دوسرے کے عزیز بھی ہیں۔ دونوں کے جد امجد بھی ایک ہیں یعنی کہ حضرت آدم علیہ سلام ۔

 دونوں کا سنہ پیدائش بھی ایک ہے، یہ الگ بات کہ وہ سولہ کی ہم اڑتیس کے۔ ابھی کرکٹ کا ورلڈکپ جاری ہے اور لوگ 2015 کے ورلڈ کپ کا  1992 سے موازنہ کرتے رہے ہیں کہ دونوں ٹیموں کے کپتان نیازی تھے۔ دونوں کے فاسٹ باولر عالمی کپ کے آغاز سے قبل ہی ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئے تھے۔ اور پاکستانی مہم کا آغاز بھی دونوں مرتبہ  ملتا جلتا تھا۔ کراچی آپریشن 1992 میں بھی ہوا اور 2015 میں بھی۔ تب بھی نواز شریف کی حکومت تھی اور اب بھی۔ تاہم سب لوگ ایک اہم مماثلت بھول گئے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آگے نہ بڑھ پایا۔ وہ یہ کہ میرا 1992  میں بھی سولہ سال کی تھی اور 2015 میں بھی اتنی ہی ہے۔

اداکاری کے لئے آئیں تھیں مگر نام انھوں نے اور کاموں سے کمایا ہے بالکل ہماری طرح جس طرح ہمیں لوگ تدریس کی نسبت کالم نگاری کی بناء پر زیادہ جانتے ہیں۔ ان کی اداکاری بھی ہماری تدریس کی مانند ہے۔جسے کوئی اہمیت نہیں دیتا۔

میرا کی ایک اور خوبی ان کی انگریزی ہے۔ جب بولتی ہیں تو  بڑے بڑے انگریزوں کی بولتی بند کر دیتی  ہیں۔انگریزی ہماری بھی بہت اچھی ہے۔ ہم بھی جب انگریزی بولتے ہیں تو انگریز ہکا بکا ہمیں دیکھتے ہیں کہ اتنی زبردست انگریزی ہم نے کہاں سے سیکھی تو ہم بتا دیں کہ یہ ہماری پیدائشی صلاحیت ہے۔ نمونے کے طور پرچند جملے ملاحظہ کیجیے۔

 What is your pillow talk?                                                                                               آپ کا تکیہ کلام کیا ہے؟

What goes of your father?                                                                                       آپ کے باپ کا کیا جاتا ہے؟

              Pillow was on jin                                                                                                                جن پہ تکیہ تھا

Who lives till your hair is head?                                                                  کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک

انصاف سے کہیے کہ یہ فیصلہ کرنا  کوئی آسان ہے کہ ہماری انگریزی زیادہ اچھی ہے یا میرا کی۔   ہمارا تو یہی خیال ہے کہ میرا ضرور ہماری شاگرد رہی ہے اور اس نے ہم سے فیض حاصل کیا ہے۔ لیکن یہاں اس بات کو تسلیم نہ کرنا زیادتی ہو گی کہ ہماری یہ صلاحیت گردش حالات کے باعث ماند پڑ چکی تھی کہ ایک دن ہم نے میرا کی انگریزی سنی اور پھر یہ آگ دوبارہ بھڑک اٹھی۔ ہم بھی میرا سے کسب فیض سے منکر نہیں ہو سکتے۔

بھارت یاترا بھی میرا کی زندگی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔یوں تو بہت سے پاکستانی فنکار جیسے نصرت فتح علی خان، راحت فتح علی  خان، علی ظفر اور فواد خان وغیرہ۔ بلکہ وسیم اکرم اور شعیب اختر کو بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ تاہم جو ‘عزت’ میرا اور وینا ملک نے کمائی ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آئی۔ اس میں کلام نہیں ہے کہ ہمیں بھارت جانے کا ابھی تک موقع نہیں ملا مگر ہمارا بھی ایک کالم بھارتی اخبار کی زینت بن چکا ہے سو وہاں ہماری بھی نمائندگی  ہو چکی۔

ہم جب اردو یونیورسٹی میں تھے تو وہاں اساتذہ کے نمائندگان کے لئے الیکشن ہوئے تھے۔ بعض بہی خواہوں نے ہمیں بھی کھڑا ہونے کا مشورہ دیا۔ خود ہم نے بھی سوچا کہ ہم سے بہتر کون نمائندگی کر پائے گا۔ سو ہم نے کاغذات نامزدگی داخل کروا دیئے۔ہمیں امید تھی کہ اگر ہم جیت نہ پائے تو بھی کانٹے کا مقابلہ ہو گا اور آئندہ الیکشنز میں یہ تجربہ ہمارے کام آئے گا۔ ہمارے حمایتیوں نے بھی یقین دلا رکھا تھا کہ بہت ووٹ پڑیں گے ہمیں مگر الیکشن کے بعد نتیجہ آیا تو ہم کو پورا ایک ووٹ ملا تھا۔ کس کا تھا یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف

اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

تا ہم تجربہ ہمارے کام ضرور آیا اور ہم نے آئندہ ایسی کسی سرگرمی میں حصہ لینے سے توبہ کر لی۔میرا نے بھی ہماری پیروی میں گذشتہ الیکشن میں حصہ لینے کا ارادہ کیا۔ کاغذات نامزدگی  بھی تقریبًا جمع کروا دئے تو کسی نے انھیں بتایا کہ الیکشن نہ لڑو۔ اس میں تو مخالف امیدوار کپڑے تک اتار لیتے ہیں۔ اس بات پر وہ شرم سے پانی پانی ہو گئیں۔اپنی ۔مزید انھیں یہ بھی بتایا گیا کہ آپ چونکہ معروف شخصیت ہیں اور سب آپ کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں تو آپ کی لازمًا ضمانت ضبط ہو جائے گی اس پر انھوں نے اپنی والدہ کو کھڑا کر دیا۔

حسرت ان غنچوں پر جو بن کھلے مرجھا گئے

سب  مشترکات ہی نہیں ہیں ۔ کچھ تضادات بھی ہیں۔  مثلًا وہ جنس مخالف سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں اعتماد بہت زیادہ ہے جبکہ ہمارا شمار شرمیلوں میں ہوتا یے۔ ان کو پچاس کروڑ جانتے ہیں جبکہ  ہمیں صرف پچاس۔ مگر یہ کوئی فرق نہیں۔ صفروں کی تو ویسے بھی کوئی وقعت نہیں ہوتی سو اسے برابر ہی جانئیے۔

تضادات چند ایک ہیں جبکہ مشترکات کی ایک فہرست ہے۔ اس بات کی معترف خود میرا بھی ہیں کہ وہ قسمت کی دھنی ہیں اور انھیں دولت شہرت جلد مل گئی۔وہ ہماری قدرتی صلاحیتوں سے بخوبی آگاہ ہیں اور ان کا فرمانا ہے کہ  اسے گردش لیل و نہار کا چکر ہی سمجھا جائے کہ ابن ریاض کو وہ پذیرائی نہیں ملی جس کے وہ حق دار ہیں۔ یہ ان کا بڑا پن ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔کچھ عرصہ قبل  میرا نے ہمیں شادی کی پیشکش بھی کی تھی۔جس کا میڈیا پر بہت چرچا بھی ہوا تھا کہ میرا نے عمران خان کو شادی کی پیشکش کی ہے۔ اس خبر کی حقیقت کچھ یوں ہے کہ میرا نے ‘عمران اعوان’ کہا تھا جسے میڈیا نے ‘زیب داستاں’ اور کچھ ذاتی مقاصد(عمران خان کو شادی کا لالچ دے کے دھرنے سے ہٹانا) کے لئے اسے عمران خان بنا دیا۔ میرا نے ایک واقف کار کے ذریعے بھی ہمیں پیغام بھیجا مگر ہم نے منع کر دیا کہ

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

ہماری تو شادی ہو چکی ہے۔ اب عمران خان سے ہی کر لیں آپ مگر افسوس کہ یہ بیل بھی منڈھے نہ چڑھ سکی۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s