Leave a comment

من آنم کہ من دانم

آپ کے اس فورم یعنی کہ خواتین، شعاع اور کرن ڈائجسٹ پر اپنی تحریر پیش کرنا ہمارے لئے کسی سعادت سے کم نہیں۔ ہماری تو ایک مدت سے خواہش تھی کہ اپنی کوئی تحریر ان شماروں میں سے کسی میں شائع ہو اور ہم اپنی قسمت پر نازاں ہوں مگر ان کا یہ اصول کہ تحاریر صرف خواتین کی ہی  قابل قبول ہوں گی، ہمارے ارمانوں کا خون کرتا رہا۔ متعدد بار یہ خیال دامن گیر ہوا کہ تحریر لکھ کر کسی فرضی نام سے ارسال کر دی جائے جس میں جنس غیر واضح ہو مگر ہماری سستی کے باعث یہ خیال شرمندہء تعبیر نہ ہو پایا۔ کیونکہ ہم تحریر کو آج کی بجائے کل پر ٹال دیتے تھے۔ ہمارا یہ اصول ہے کہ جو کام پرسوں ہو سکتا ہے اسے(آنے والے)  کل پر کیوں ٹالا جائے۔اگر تحریر لکھ پاتے تو طلعت،رفعت، نسیم، شمیم یا ملتا جلتا نام بھی مل جاتا مگر بوجوہ ہم یہ نہ کر پائے۔ بالفرض محال اگر یہ ہو بھی جاتا تو تحریر کو ڈاک خانے لے جا کر ارسال کرنا۔ خدا خبر مطلوبہ مقام پر پہنچ بھی پاتی کہ نہیں اور ایسا ہو بھی جاتا تو کیا معلوم اس کا مقدر ایڈیٹر کی ردی کی ٹوکری بنتا۔

عشق میں دو چار بڑے سخت مقام آتے ہیں

انھی  مسائل نے ہمیں تحریر سے باز رکھا۔ بارے یہ دور آیا اور ہر چیز اب انٹرنیٹ پر موجود۔ بس کپمیوٹر میں اردو لکھنا آنا چاہیے۔ جو کہ خوش قسمتی سے ہمیں آتی ہے۔ پہلے تحریر نہ بھیجنے کی ایک وجہ جو ہم تحریر کرنا بھول گئے ہماری لکھائی بھی تھی۔ ہم جب سکول میں تھے تو ہماری ٹیچر فرماتی تھیں کہ بیٹا آپ پائوں سے اتنا اچھا کیسے لکھ لیتے ہیں۔ ہماری تحریر قابل قرات نہ ہوتی۔  کمپیوٹر نے ہمیں اس درد سے نجات دی۔ اب ہماری تحریر دیکھ کر صادقین اور گل جی بھی عش عش کر اٹھیں۔ الغرض تحریر لکھی اور کسی صفحے پر شائع کر دی یا کسی اخبار کا میگزین کو ای میل کر دی اور ہمارا     کام ختم۔

چند دوز قبل ہمیں ہمارے دوست نے اس فورم کا بتایا کہ تو ہم نے کہا کہ وہاں تو ہمیں کوئی اندر ہی نہ جانے دے۔ ہمارا نام ہی ہماری جنس مخالف ہونے کی چغلی کھاتا ہے تو معلوم ہوا کہ یہاں جنس کا تعصب نہیں۔ سب کو فورم میں داخلے کی آزادی ہے۔  ہم نے ڈرتے ڈرتے دوخواست برائے شمولیت دی جو کہ اگلے روز منظور ہو گئی۔ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے مصداق ہمیں بے طرح خوشی ہوئی کہ ڈائجسٹ نہ سہی اس کا صفحہ ہی سہی۔ تاہم ابھی ہم نے کچھ پوسٹ کرنے سے اجتناب برتا کہ  کہیں ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو۔

چند روز بعد ایک تحریر بھیجی  جس کا در عمل حوصلہ افزا تھا۔ اب ہماری خواہش تو یہاں مزید پوسٹس کرنے کی ہے تاہم جو رب کی رضا۔ اس فورم میں شمولیت کی وجہ یہ نہیں کہ ہمیں راجہ اندر بننے کا شوق ہے۔ گو یہ بھی اتنا غلط نہیں تاہم بات یہ ہے کہ خواتین ملک کی آبادی کا باون فیصد ہیں تو ہم ملک کی نصف سے زائد آبادی کو اپنی تحاریر سے محروم نہیں کرنا چاہتے۔ رہا بقیہ اڑتالیس فیصد کا حق تو ہمیں اس کی چنداں فکر نہیں کہ ہمیں علم ہے کہ ہمارے بھائی ان ڈائجسٹوں میں بھی تانکا جھانکی کرتے رہتے ہیں۔  ہم نے بھی تو اتنا عرصہ کی تو ان تک ہمارا پیغام خود ہی پہنچ جائے گا۔

ان ڈائجسسٹوں سے ہماری وابستگی بہت بچپن سے ہے جب ہمیں ناول افسانہ کا معنی  بھی نہیں پتا تھا۔ تا ہم خواتین ڈائجسٹ میں آغاز انشاء جی کے کسی کالم یا شاعری سے ہوتا تھا۔ ہمیں انشاء جی سے بے انتہا عقیدت ہے تو اس عقیدت کی بناء پر خواتین ڈائجسٹ معتبر ہو گیا۔ بعد میں ہم نے کلیاں اور شگوفے اور پھر انٹرویو بھی پڑھنا شروع کر دیے۔ ناول یا افسانہ پہلی بار کب اور کونسا پڑھا اب یاد نہیں۔ تاہم نوے کے عشرے کے وسط سے دو ہزار کے ابتدائی سالوں کے تو بہت خواتین پڑھے بلکہ شائد چاٹ بھی لئے  ہوں گے کچھ۔۔

وقت گزرا اور کچھ علم ہوا تو یہ حقیقت کھلی کہ یہ ڈائجسٹ نیز شعاع اور کرن بھی ابن انشاء مرحوم کے بھائی محمود ریاض مرحوم کے ہیں اور وہ بھائی کی محبت میں گرفتار ہیں۔انشاء جی کے بھتیجوں محمود بابر اور محمود خاور کی رحلت بھی اسی دور میں ہوئی۔ اور پھر محمور ریاض صاحب بھی خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالٰی ان سب کے درجات بلند کرے۔

کچھ دن پہلے ہمیں جنس تانیت سے فیس بک پر دوستی کی پیشکش ہوئی۔ ہم نے قبول کی۔ اگلے روز سلام دعا ہوئی تو کہا کہ آپ واقعی ابن ریاض ہیں؟ ہم نے کہا کہ ایسا ہی ہے۔ اگر آپ ابھی بھی مشکوک ہیں تو شناختی کارڈ کی تصویر بھیج دوں۔ کہنے لگی کہ مجھے انکل ریاض اور آپ کے بھائی بہت یاد آتے ہیں۔ ہم تھوڑا پریشان ہوئے کہ یہ تو ابھی سے ہمارے گھر پہنچ گئی ہیں اللہ خیر کرے۔ ہم نے اچھا جی۔ تو کہنے لگیں کہ آپ محمود بابر اور محمود خاور بھائی مرحومین کے چھوٹے بھائی ہین تو ہمارا ماتھا ٹھنکا۔  ہم نے ان کی تصحیح کی کہ ہمارے والد صاحب کا نام بھی ریاض ہے تاہم جو آُپ سمجھیں ایسا کچھ نہیں۔  انھیں ہماری تصحیح اتنی ناگوار گزری کہ اپنی دوستی واپس لی اور یہ جا وہ جا۔

ہم نہ کہتے تھے حالی چپ رہو

راست گوئی میں ہے رسوائی بہت

کچھ لوگوں کو ہمارا انداز بیاں انشاء جی کے مماثل لگتا ہے۔  ہم اسے ان کا حسن ظن(زن نہ سمجھئے گا) گردانتے ہیں۔ اور یہ ہمارے لئے اعزاز ہے اگر قارئین کو ہماری تحریر میں اس عظیم اور بے مثل ادیب کی جھلک نظر آتی ہے۔ ورنہ من آنم کہ من دانم

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s