Leave a comment

ہمیں تو ایسی شادی نہیں کرنی

ہفتہ کی شام جب ہمارے ایک عزیز استاد اور ہم منصب نے ہمیں ایک شادی کے ولیمے میں شرکت کی دعوت دی تو ہمیں بہت حیرت ہوئی کیونکہ شادی بھی ہمارے ایک سعودی ہم منصب کی ہی تھی اور ہم اس سے لاعلم تھے۔ پتہ چلا کہ جناب نے کوئی دعوت نامے نہیں چھپوائے اور نہ ہی ای میل کی بلکہ فردًا فردًا سب کو ان کے دفتر کے کمرے میں آ کر شرکت کی دعوت دی او ہم چونکہ اس وقت اپنے کمرے میں موجود نہ تھے سو ہمیں غائبانہ دعوت  بلکہ خیالی دعوت پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔

احباب جانتے ہیں کہ ہم دعوت پر جانے میں کبھی پس و پیش سے کام نہیں لیتے مگر ۔ ایسی دعوتوں کے لئے ہم پہلے سے اہتمام کر رکھتے ہیں کہ ایک آدھ وقت کا فاقہ کر لیتے ہیں تا کہ میزبان کو میزبانی کا پورا اجر ملے اور وہ ہماری کم خوری کو تکلف پر محلول نہ کرے مگر اب کے مسئلہ کچھ ٹیڑھا تھا ایک گھنٹے کے نوٹس پر تیار ہونا آسان نہ تھا۔ کپڑوں کا مسئلہ نہ تھا کہ صبح دفتر پہننے والے ہی زیب تن کر کے کام چلایا جا سکتا تھا۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ہم انجانے میں تاخیر سے ظہرانے کے مرتکب ہو چکے تھے اور اتنی جلدی ہمارا معدہ عشائیے کے لئے تیار نہ تھا۔اس ملک میں ہم خود کو پاکستان کا سفیر سمجھتے ہیں۔ ہمیں ھرگز یہ گوارا نہ تھا کہ چند لقمے حلق سے اتار کر ہاتھ اٹھا دیں اور ملک عزیز کے نام پر آنچ آئے کہ پاکستانیوں کو کھانے کے آداب بھی نہیں معلوم۔ چنانچہ ہم نے معدہ کو سمجھانے کے لئے  اقبال صاحب کے شعروں سے گرمایا کہ

تندٰئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

اور  مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

  اقبال کے اشعار سے تو بڑے بڑے قائل ہو جاتے ہیں یہ تو معدہ تھا۔ ساتھ ہی اسے کچھ لالچ بھی دیا کہ کوئی نہیں تھوڑا کام مزید کر لو قریب ہی رمضان ہے۔ پھر بے شک سارا دن اونگھنا۔

کھانے کے علاوہ ایک مقصد یہ بھی تھا کہ عربوں کو دیکھیں گے۔ ان  کے رسم و رواج دیکھیں گے۔ اور اگر اچھے لگے تو ان کو رقم کر کے اپنے ہم وطنوں کو ان پر عمل کی دعوت دیں گے۔ ہم تو شادی شدہ ہیں ان پر عمل نہیں کر سکتے۔ تاہم اپنے لوگوں کو ضرور اس کی تلقین کریں گے۔ اور اگر لوگوں نے اوروں کو نصیحت خود میاں فضیحت بولا تو ہر چند کہ ہم ایک بار یہ لڈو کھا چکے ہیں تاہم عوام کے پرزور اصرار  اور ان کے اجتماعی مفاد میں اپنے ذاتی مفاد کر قربان کرنے میں تامل سے کام نہیں لیں گے۔

معلومات حاصل کرنے پر پتہ چلا کہ عربوں کی شادیاں بہت ہی بے رونق ہوتی ہیں۔ خاندان کے بزرگ خواتین و مرد بات چلاتے ہیں اور اگر انھیں کوئی اعتراض نہ ہو تو لڑکی لڑکے کی ملاقات کرا دی جاتی ہے جہاں وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکتے اور کچھ باتیں کر کے ایک دوسرے کے خیالات کا اندازہ لگاتے ہیں اور پھر اگر دونوں کو کوئی اعتراض نہ ہو تو منگنی کر دی جاتی ہے جو بعد ازاں نکاح پر منتج ہوتی ہے زیادہ تر۔

 ہم جس علاقے میں ہیں کہ سعودیہ کا روایتی علاقہ ہے اور یہاں خواتین باقاعدہ نقاب کر کے نکلتی ہیں سو قریب قیاس یہی ہے کہ مندرجہ بالا طریقے سے ہی رشتہ طے ہوتا ہوگا۔ ریاض، جدہ اور دیگر شہروں میں جہاں پردہ پر اس طرح زور نہیں اگر کوئی لڑکا یا لڑکی والدین کی مرضی بنا شادی کر لیں تو اس بارے میں ہم لا علم ہیں۔ اگر کبھی علم ہوا تو آپ کے ساتھ ضرور بانٹیں گے۔

 شادی کا طریقہ بھی بہت سادہ ہے کہ خاندان کے چند لوگ جاتے ہیں اور نکاح پڑھا کے لڑکی کو لے آتے ہیں۔ اور لڑکی والوں کے ذمے کوئی کھانا وانا بھی نہیں ہوتا۔ ہمیں تو بہت تعجب ہوا یہ جان کر۔ یہ بھی بھلا کوئی شادی ہوئی۔ جہاں ہفتہ بھر پہلے سے تیاریاں نہ شروع ہوں۔ اور ہر تقریب کے الگ سوٹ نہ سلیں۔ نہ مھندی کی رسم ہو۔ نہ ہی دولھا سہرا پہنے اور چہرے پر معصومیت سجائے آئے۔ نہ دودھ پلائی ہو نہ جوتی چھپائی۔ اور نہ ہی لڑکی والےچار چھ سو بندوں کی ضیافت کا اہتمام کریں اور نہ ہی لمبا چوڑا جہیز۔ولیمے کا اہتمام لڑکے والے کرتے ہیں۔ تعدد ازواج البتہ یہاں ہے اور اسے معیوب نہیں سمجھا جاتا۔اس کے برعکس زیادہ شادیاں سٹیٹس سمبل کے زمرے میں آتی ہیں۔

ولیمے میں ہم نے دولھا دیکھا ہم نے سوچا کہ کچھ غیر روایتی لباس میں ہو گا دولھا۔ کوئی شیروانی  کوئی سر پہ کلا۔ یا پھر پینٹ کوٹ اور گلے میں ہار۔۔ یہاں بھی مزا کرکرا ہو گیا۔ وہی روایتی عربی لباس اور اس پر وہ گائون جو ہمارے ہاں طلباء حصول ڈگری کے وقت کنووکیشن پر پہنتے ہیں۔ ڈگری تو ملی کہ نہیں تاہم بیگم مل گئی۔ شاید عربوں کی نظر میں وہی ڈگری ہو۔ اگر وہ ڈگری ہے تو چند برس میں ڈپلوموں کی بھی لائن لگ جانی۔  ہمارا دل بد مزہ ہو گیا ایسی شادی دیکھ کر اور ہم نے فیصلہ کر لیا کہ ایسی شادی ہم نے تو نہیں کرنی۔ایسی شادی سے ہم لنڈورے ہی بھلے۔

ولیمہ میں ایک  بڑا سا تھال تھا جس میں چاول گوشت تھا جو کہ میز پر موجود چھ سات افراد کے لئے کافی تھا۔اچھا بنا ہوا تھا تاہم چاتھ چمچ نہیں تھے۔ ہمیں تو ایسا کھانے کا خاص تجربہ نہیں۔آدھا لقمہ منہ میں اور آدھا میز کی زینت بنتا رہا۔ کھانے کے دوران علم ہوا کہ گوشت اونٹ کا ہے۔ سو اونٹ گوشت بھی چکھ لیا۔ خدا لگتی یہی کہ لذیذ تھا۔ اس کے بعد ہم نے کچھ پھلوں پر ہاتھ صاف کیے اور پھر ہاتھ دھو کر واپسی کی راہ لی۔ یہاں تحفہ دینے کا بھی رواج نہیں کم از کم ہمارے یعنی خارجیوں کے لئے۔ سو ہم نےدعائیں دے کے گھر کی راہ لی۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s