Leave a comment

ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں

اس فورم  کو اپنائے ہمیں زیادہ عرصہ نہیں ہوا  اور اس قلیل عرصے میں جو ہم نے مشاہدہ کیا اس کی رو سے اس فورم پرامتیاز برتا جا رہا ہے۔ وہ کچھ ایسے کہ انٹرویو محض خواتین کے ہوئے۔۔۔۔کم از کم ہم نے جو پڑھے وہ تمام خواتین کے ہی ہیں۔ یہ سیدھا سیدھا مرد حضرات کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہےاس میں کلام نہیں کہ کائنات میں رنگ وجود زن سے ہے مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ مردوں کے بلیک اینڈ وائٹ وجود سے منکر ہو جائے کوئی۔ مرد اور عورت اگر گاڑی کے دو پہیے ہیں تو ایک ہی پہیے کا بار بار انٹرویو لینے سے گاڑی کا توازن خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس سنگین زیادتی کے ازالے کے لئے کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے ‘انجمن تحفظ حقوق مرداں” کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے۔ ہم اس کے بانی ممبر اور سربراہ ہیں۔ اور سربراہ کی حیتیت سے(ناول نگار کی حیثیت سے نہیں) ہم انٹرویو کے حقدار ہیں یوں بھی ہماری تنظیم شیخ رشید  کی عوامی مسلم لیگ کی طرح یک رکنی ہے۔۔ اس دور پر آشوب میں لیاقت اور قابلیت کی قدر نہیں سو ہم ان منتظمات کی اس غلطی کو در گزر کرتے ہوئے از خود انٹرویو پیش کر رہے ہیں۔

اسلام علیکم کیسے ہیں آپ ؟

وعلیکم  السلام۔۔۔۔۔ امید ہے کہ سب بخیر یت ہوں گے

تری بندہ پروری سے مرے دن گزر رہے ہیں

نہ گلہ ہے دوستوں سے نہ شکایتِ زمانہ

اپنے بارے میں کچھ بتائیے۔ پنے اور اپنی فیملی کے بارے میں اپنے فینز کو کچھ بتائیں ؟ ( نام ‘تعلیم’ بچپن’شادی ، ملازمت وغیرہ)

پوچھتے ہیں حضور غالب کون ہے؟

کوئی بنلائے کہ ہم بتلائیں کیا

پنجاب کے ایک ترقی پذیر علاقے سے تعلق ہے۔ ہم تین بھائی اور ایک  بہن ہے۔  عمر  میں سب سسے بڑے اور صحت میں  سب سے چھوٹے  تھے سعودی عرب میں داخلے سے قبل۔ اب البتہ ہمیں اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو قابو میں  رکھنے میں  دقت کا سامنا ہے۔بچپن  کامرہ میں گزرا۔  اور جی ہاں ہم نبھی شادی کا  لڈو   کھا چکے  ہیں۔

تعلیم ہمارے پاس ہے نہیں تاہم ڈگری ماسٹرز کی ہے(انجنئرنگ میں) اور اسی ڈگری کی بنا پر ہم سعودی عرب میں بچوں کو پڑھا رہے ہیں۔

پسند ناپسند کے بارے میں بتائیے۔

پسند ہمیں بہت کچھ ہے۔ اپنا پاکستان، قدرتی مناظر اور سب سے بڑھ کے

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

یعنی کہ ہماری سستی۔

ناپسند بلکہ بہت ناپسند ہمیں کام کرنا ہے۔

کب لکھنا شروع کیا؟

چار یا پانچ سال کا تھا کہ اے بی سی اور الف بے لکھنا شروع کے دی تھی۔ ہمیں تو پڑھنے کا شوق ہے اور وہ بھی صرف اردو۔ تو ہم مختلف فورمز پر پڑھتے تھے تو ایک دن کسی نے کچھ کہا تو ہم نے جواب میں کچھ لکھا۔ پڑھنے والوں کو اچھا لگا تو اسی فورم نے ہمیں رائٹر کا رینک دے دیا۔ ہم ان کے حسن نظر اور دوربینی کے قائل ہیں۔

رنگ، موسم، کھانے میں کیا پسند؟

رنگ سبز، موسم دل کا۔ موسم کوئی بھی برا نہیں لگتا۔ گرمیوں کا ایک نقصان یہ ہے کہ عصر کے بعد تک باہر کا کوئی کام کرنا بہت مشکل اور ہمارے تو کام ہوتے ہی گھر سے باہر کے۔ باقی موسموں میں ایسی پابندی نہیں۔بچپن میں ہم نے تو چٹنی اور ایک پکوڑے کے ساتھ بھی روٹی کھائی اس کا مزہ اب بھی ڈھونڈتے ہیں۔ویسے تنور کی مکھن سے چپڑی روٹی سرسوں کے ساتھ کھانے کا بھی الگ مزہ ہے مگر اب یہ عیاشیاں ہمارے نصیب میں نہیں۔

فیملی نے سپورٹ کیا یا مخالفت کی؟

ہم نے کسی کو بتایا ہی نہیں کبھی۔ بس دوستوں کو خوش کرنے کے لیے لکھتے ہیں۔ اب بیگم اور چھوٹے بھائی کو پتہ ہے۔ لیکن کبھی بتایا نہیں کہ نیا کچھ لکھا۔ خود ہی دیکھ  لیتے ۔

کالم لکھنے میں زیادہ مزہ آتا کہ انشائیے میں؟

میرا تو علم محدود ہے۔ کیا آُپ ان دونوں میں تمیز کر دیں گے تا کہ مجھے سوال سمجھنے میں آسانی ہو

رہنے دیجیے۔ یہ بتائیں کہ کس میگزین میں لکھنا پسند ہے؟

یہ تو وہی بات ہوئی کہ انور مقصود نے وحید مراد مرحوم سے پوچھا تھا کہ کس ہیروئن کے ساتھ کام کرنا پسند ہے۔

پہلی تحریر شائع ہوئی تو کیا فیلنگز تھیں اس سے متعلق کوئی واقعہ جو شئیر کرنا چاہیں؟

بس ہم آدم بو آدم بو پکارتے ہوئے لوگوں کو ڈھونڈ رہے تھے۔ جیسے شاعر کو کلام لکھ کے اپھارہ ہو جاتا ہے اور جب تک وہ داد نہ پا لے اسے چین نہیں پڑتا کچھ ایسا ہی حال ہمارا تھا۔ ہر منٹ بعد دیکھتے تھے کہ کوئی تبصرہ آیا کہ نہیں۔

مشاغل کیا ہیں؟

کرکٹ دیکھنا ( کھیلنا تو وہ خواب و خیال ہوا)۔۔۔۔۔ کتاب پڑھنا انٹرنیٹ۔

جب چاہا لکھ لیتے ہیں یا موڈ پہ ڈپینڈ کرتا ہے

میرا تو جب تک من آمادہ نہ ہو لکھ نہیں پاتا۔ کبھی چند دنوں میں ہی دو تن تحریریں لکھ لیں کبھی مہینوں بیٹھے رہے۔

آپ کے خیال میں کالم کا زیادہ رسپانس ملتا ہے یا انشائیہ کا؟

ہم تو اپنے سکون کے لئے لکھتے ہیں۔ سو ہمیں تو بہت سکون ملتا ہے۔ ویسے

کوئی ایسا ساتھی رائٹر جسکا کام آپکو پسند ہو اور آپ سمجھتی ہیں وہ بہت اچھا لکھ رہی ہیں؟

اگر آپ کسی بھی تحریر کو گہرائی سے پڑھیں گے تو اس میں کوئی مقصدیت اور پیغام ہوگا۔ سو یہ کہنا کہ وہ اچھا نہیں لکھ رہا زیادتی ہے۔ صرف ہوتا یوں ہے کہ جس کی تحریر ہمارے نظریے سے متصادم ہوتی ہے وہ ہمیں پسند نہیں آتا۔ آج کل تو ناول پڑھنا کم ہو گیا ہے وقت کی قلت کے باعت۔ تاہم سباس گل کو پڑھ رکھا۔ اس کے علاوہ مرحومہ فرحانہ ناز کو بھی۔ عمیرہ احمد صاحبہ کو بھی۔ ابتدائی 2000 میں تو سب خواتین مصنفات کو اس طرح پڑھ رکھا تھا کہ گھر میں خالہ خواتیں اور شعاع منگواتی تھیں تو ہم ہر ماہ کا ڈائجسٹ چاٹ لیتے تھے۔

کبھی بے جا تنقید کاسامنا کرنا پڑ؟

نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا

نہ سہی گر میرے اشعار میں معنی نہ سہیی

لکھنا کیونکہ پیشہ نہیں بلکہ دفعالوقتی جز ہے تو اوپر والا شعر ہم پر بھی صادق آتا ہے تاہم لکھنے کے حوالے سے تو نہیں ہوئی کوئی تنقید کہ کوئی  جانتا ہی نہیں۔ البتہ زندگی میں تو ہمیشہ ایسا ہی رہا۔ لیکن اللہ تعا لٰی نے ہمیشہ لاج رکھی۔  اس ذات کے بےپایاں احسانوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔

کوئی ایسا ٹاپک جس پہ لکھنے کی خواہش ہو؟

موضوع کوئی بھی ہو کسی کا میری وجہ سے دل نہ دکھے۔

فیلڈ میں سے کوئی ایسا جس نے سپورٹ کیا یا مخالفت کی؟

پشہ ورانہ زندگی میں چند لوگوں نے بہت مدد کی۔ان سب کو اللہ خوش رکھے۔ اور اس شعبے میں تو ہم ابھی بچے بلکہ نونہال ہیں۔ سو کوئی بھی بڑا انگلی پکڑ سکتا ہے۔

اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ کس کو دیں گے؟

اپنے نانا نانی موحومین کو۔اللہ کا کرم تو یقینًا شامل حال رہتا ہی ہے۔

زندگی کا کوئی خوبصورت اور بد صورت فیز جو آپکو ہمیشہ یاد رہے گا؟

اللہ تعالٰی کی ایک نعمت بھولنا بھی ہے۔ سو ہم میں سے اکثر دوسروں کا احسان بھول جاتے ہیں۔ مگر ہمارے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وقت کے اس حصے سے جو سبق حاصل ہوا وہی یاد رہے تو کافی ہے۔

آپکی زندگی کی کوئی خواہش یا کوئی گول؟

خواہش یہ ہے کہ شہادت ملے چاہے ادنٰی سے ادنی درجے کی ہی کیوں نہ ہو۔ اور ہاکی اب ہماری بہت کمزور ہے شاید خالی پوسٹ میں بھی گیند نہ پھینک پائیں ہم۔

ایک لکھاری کا کیا فرض ہے؟

فرائض تو بہت ہیں۔ سچ لکھنا۔ قلم سے جہاد کرنا۔ بامقصد لکھنا۔ قارئین کی تربیت کرنا۔ ہمارا مقصد (اپنی آپ بیتیاں اور اپنی آرا کو نوک قلم کرنا)۔ بس یہ خیال رہے کہ تحریر اپنے مذہب، اقدار اور ملک کے ہم آہنگ ہو

زندگی کا کل اثاثہ

جس چیز کو یہین رہ جانا اس کو کیا سوچنا۔۔۔۔

محبت پہ یقین رکھتے ہیں؟

محبت وہ ہے جو بلال کو آُپﷺﷺ سے تھی اور آپﷺ کو اپنی امت سے۔ ایسی محبت آج کل نہ میں کر سکتا ہوں نہ یقین کرتا ہوں۔ جسم کی ہوس کو کوئی اور نام دیا جانا چاہیے۔

زندگی کا سب سے عزیز رشتہ؟

ایسا محسوس ہو رہا آج تو بقراط بن کے ہی اٹھوں گا۔ جس میں بھی خلوص ہو۔

کوئی ایسی بات جس پہ پچھتاوا ہو؟

اس دل میں ہر داغ ہے جز داغ ندامت

اپنی اچھی یا بری عادتیں؟

اس سوال کا پہلا حصہ کا جواب خود ستائی پر محلول ہوتا ہے اور دوسرا حصہ ہمارا کام نہیں۔ جس کا کام اسی کو ساجھے

غصہ آتا ہے اور کس بات پہ سب سے زیادہ غصہ آتا ہے؟

جب کوئی اپنی غلطی پر از جائے اور اس کا دفاع کرے

کسی کو کوئی نصحیت کرنی ہو تو کیا کر یں گے؟

نصیحت عمل سے ہونی چاہئے اور ایسا میرا عمل نہیں۔

دوستی کیا ہے

دوستوں میں بس دنیا و مافیھا  بھول جاتا ہے انسان۔

شاعری پسند ہے ؟ فیورٹ شاعر ؟ کوئی فیورٹ شاعری؟

بہت زیادہ۔ بہت سے ہیں پسندیدہ شاعر مگر اس وقت محسن نقوی کی ایک غزل

کب تلک شب کے اندھیرے میں سحر کو ترسے

وہ مسافر جو بھرے شہر میں گھر کو ترسے

آنکھ ٹھیرے ہوئے پانی سے بھی کتراتی ہے

دل وہ رہرہ کہ سمندر کے سفر کو ترسے

ایک دنیا ہے کہ بستی ہے تیری آنکھوں میں

وہ تو ہم تھے جو تیری ایک نظر کو ترسے

مجھ کو اس قحط کے موسم سے بچا اے رب سخن

جب کوئی اہل ِ ہنر عرضِ ہنر کو ترسے

اور یہ میرا پسندیدہ شعر

عمر اتنی تو عطا کر میرے فن کو خالق

مرا دشمن میرے مرنے کی خبر کو ترسے

شورِ صرصر میں جو سرسبز رہی ہے محسن

موسم ِ گل میں وہی شاخ ثمر تو ترسے

کوئی ایسی تصنیف جسے بار بار پڑھا ہو؟

ہم اپنی تصانیف کو ہی بار بار پڑھتے ہیں کہ اور کسی نے تو پڑھنی نہیں۔

پسندیدہ مصنف اور تصنیف؟

ابنِ  انشاء مرحوم اور ان کی تمام تصانیف

پسندیدہ شخصیت؟

اس سوال کا عمومًا جواب نبیﷺ دیا جاتا ہے  تا ہم   میری رائے (جس سے کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں) میں سوال کرنے والے کا مقصد یہ جاننا ہوتا کہ  اس شخصیت  کا  آپ پر  کتنا اثر ہوا؟  اس میں کلام نہیں کہ ہم مسلمان   آپﷺ کی بدولت ہیں مگر ہم میں سے شاید ہی کوئی آپﷺ کی کسی ایک خوبی  اپنے اندر موجود ہونے  کا دعوٰی کر پائے۔

فلسفہ برطرف ہماری پسندیدہ شخصیات کی ایک طویل فہرست ہے۔ جیسے لیڈران میں قائداعظم، علامہ اقبال ، نیلسن منڈیلا، شاعری میں  ابن انشاء  ناصر کاظمی، محسن  نقوی،  گلوکاروں میں احمد رشدی، محمد رفیع، مکیش، کشور، اداکاروں میں وحید مراد،  معین اختر،  خدمت خلق میں ایدھی صاحب، حکیم محمد سعید وغیرہ وغیرہ۔ ان مین سے اکثریت اب ہم میں نہیں۔ اللہ سب پر اپنا کرم کرے ۔ آمین

آٹوگراف پر کیا لکھتے؟

ابھی تک تو ایسا اتفاق نہیں ہوا۔ اگر لکھنا پڑے  تو یقینًا  اچھی اچھی  نصیحتیں کریں گے  جن پر ہم خود عمل نہیں کرتا۔

مزاجًا کیسے ہیں؟

بندہ اگر ویلنٹائن  ڈے کے   دوسرے دن پیدا  ہوا ہو تو آپ خود اندازہ لگا لیں۔ گو ہمارے جاننے والے اس بات کی تردید ہی کریں گے  ۔

پسندیدہ رشتہ؟

کوئی بھی جس میں خلوص ہو۔ اگر خلوص نہ ہو تو ماں بیٹا، باپ بیٹی، بہن بھائی، میاں بیوی صرف الفاظ ہیں  اور الفاظ ضرورت کے وقت  استعمال ہوتے ہیں۔

فیس بک’گروپس اور پیجزکے بارے میں آپ کی رائے

زیادہ تر گروپس تو وقت کا ضیاع ہیں( جو کہ ہم خوب کرتے ہیں) تاہم بعض بہت مفید بھی ہیں۔ اچھی کتب، ناولز اور ہماری ہیروز سے متعلق معلومات کے علاوہ آپ ان شخصیات سے بھی ایک رابطے میں رہتے ہیں کہ جو آپ کی زندگی کا ایک اہم جزو اور حصہ ہیں۔

کوئی پیغام جو آپ دینا چاہیں۔

” اس ایمان والو تم ایسی  بات نہ کرو جس پر تم عمل نہیں کرتے” ۔  اس آیت کو سامنے رکھ کر  صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ  دوسروں کی بات کو خندہ پیشانی سے سننا  بھی سنت ہے۔نبی ﷺ سے تو بہت سخت  سوال نبوت اور اللہ کے متعلق کیے گئے مگر آپﷺ نے تو کسی کو واجب القتل نہیں قرار دیا۔ اپنا نظریہ  رکھنا آپ کا حق ہے مگر یہ دوسرے کا بھی حق ہے۔  اور ان کے حقوق کا احترام بھی اسلام ہے نہ کہ آپ کی کمزوری۔

ہم اپنے دوستوں  کے  شکرگزار ہیں کہ جن کے کہنے پر ہم نے یہ تحریر لکھ دی۔ اگر آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ گئی  یا اس میں سے آپ نے کوئی سبق  سیکھا ( جس کا کوئی امکان نہیں) تو یہ آپ کا  مجھ پر احسان ہو گا۔ اور اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو ہمیں آپ سے گلہ نہیں کہ ہماری تحریریں کسی کو سمجھ نہیں آتیں اور وہ شکریے کے ساتھ واپس کر دیتے ہیں تو  یہ بالکل فطری ہے۔ غالب کا حال آپ کے سامنے ہے کہ زندگی میں تو کوئی  اس کو ادھار نہیں دیتا تھا اور اب ان کا دن منایا جاتا ہے۔ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کہ ہم انٹرویو دینے والی خواتین کی ہمت کے بھی قائل ہو گئے کہ ہم نے تو آج تک اتنا لمبا پرچہ  کبھی نہیں دیا جتنا طویل یہ انٹرویو ۔  پرچہ میں کچھ سوالات کے انتخاب کا اختیار بھی ہوتا مگر یہاں ایسا کچھ بھی  نہیں تھا۔ تاہم شعبہ تدریس سے   اپنے دیرینہ تعلق کی بنا پر ہم نے کچھ ڈنڈی مار ہی لی ہے۔ اب آپ سمجھ پائیں تو  خوب ورنہ کوئی مسئلہ نہیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s