Leave a comment

ہم وی آئی پی ہیں

کون نہیں چاہتا کہ اسے اہمیت دی جائے۔ یہ انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ اور اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز کرنے کے لئے انسان کیا کیا کرتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم بھی اسی دنیا کے رہنے والے ہیں سو ہمیں بھی یہ کہنے میں عار نہیں کہ ہم بھی اس خواہش سے مبرا نہیں ہیں۔ مگر مقام پانے کے لئے کوئی کارنامہ کرنے کی پخ ہمیں پسند نہیں ہے۔ حالانکہ یہ کچھ ایسا مشکل بھی نہیں ہے۔

آج کل آپ کوئی بھی کام کریں آپ مشہور ہو جائیں گے۔آپ قوم کی اربوں کی رقم ہڑپ کر سکتے ہیں۔ ملک کو دو لخت کیا جا سکتا ہے۔  بیرون ملک زمینیں جائیدادیں بنائی جا سکتی ہیں۔ اور پھر وہاں سے ملک کے حالات پر بیان دیے جا سکتے ہیں۔ اپنے ملک میں رہ کر غیروں کے مشن کو تکمیل تک لے جائیں۔ میچ فکسنگ کریں اور اپنی ٹیم کی جیتی ہوئی لٹیا ڈ بو دیں ۔۔ آپ مشہور ہو جائیں گےاور اندرون و بیرون ملک چینلز پر آپ کی خبریں چلیں گی۔

 اس کے علاوہ بھی اپنی اہمیت منوانے کے کئی طریقے ہیں ۔۔۔۔مگر ان میں پڑتی ہے محنت زیادہ۔ کئی سال دن رات ایک کر اور اپنے ارمانوں کا خون کر کے کوئی اعلٰی ڈگری لے لیں۔ تا ہم اس میں ممکن ہے کہ آُپ کو ڈگری کے باوجود نوکری ہی نہ ملے۔ سو کسی قسم کی ضمانت اس معاملے میں نہیں دی جا سکتی۔  کسی مشہور آدمی کی فرزندی میں جا کر شہرت دوام کی مثالیں بھی  موجود ہیں۔ تاہم اس میں بھی کافی الجھنیں ہیں۔ مشہور آدمی کو ڈھونڈنا اور ایسے کہ اس کی کوئی رشتہ دار شادی کی عمر کی ہو، کوئی آسان کام نہیں۔ اور اس کا آپ کو اپنی فرزندی میں لینے پر تیار ہو جانا تو گویا جوئے شیر لانے کے مترادف ہو گا۔

بعض کمزور دل یا سہل پسند افراد جو یہ کام نہیں کر سکتے۔ ان کے لئے بھی اب وی آئی پی بننا چنداں مشکل نہیں۔ کوئی چھوٹا موٹا جرم کر کے جیل چلے جائیں اور وہاں عزت کی روٹی کھائیں۔جب آپ واپس آئیں گے تو وی آئی پی بن چکے ہوں گے۔ جتنا بڑا آپ کا جرم ہو گا اتنا بڑا آپ کا مرتبہ ہو گا۔کسی بینک میں ڈاکہ ڈال لیں۔  یا پھر کچھ لوگوں کو قتل کر دیں۔ ( اس میں  ہرج ہی کیا ہے؟ آپ نہیں کریں گے تو کوئی دوسرا یہی کام کر دے گا۔ ویسے بھی اس کام کے بعد آپ کسی قدر محفوظ ہو جائیں گے ناگہانی واروں سے، کہ یہاں مظلوم پر ہی سب ظلم ہوتے ہیں)۔ ان کاموں پر تو آپ کو وزارت یا پھر گورنری بھی مل جائے تو باعث تعجب نہیں۔

ہماری بھی مدت سے خواہش تھی کہ ہم بھی کبھی وہ آئی پی بنیں۔ مگر یہ سب کام ہمارے بس سے باہر تھے۔ ایسا نہیں کہ ہم میں صلاحیت  نہیں۔ ہم ہر معاملے میں خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ مگر تمام صلاحیتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ یا پھر یہ ہوتا ہے کہ قدرتی میلان کے باعث کچھ صلاحیتیں دوسری صلاحیتوں کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ہو جاتی ہیں۔ یہی کھ ہمارے ساتھ بھی ہوا۔ ہم پڑھاتے بھی ہیں۔ الٹا سیدھا لکھ بھی لیتے ہیں۔ چھوٹی موٹی ہیراپھیری سے بھی یقینًا ہمارا دامن خالی نہیں ہے۔ تاہم بندہ مارنا ہمارے بس میں نہیں۔( یہاں ہماری مراد باتوں سے مارنا نہیں کہ اس میں تو ہم شیر ہیں)۔ جو خوبی ہمیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ہے ہماری سستی۔

ہیں اور بھی دینا میں کہل بہت زیادہ

کہتے ہیں کہ ابن دریاض کا ہے انداز سستاں اور

سو ہماری سستی کے کارن ہم یہ سب کام نہ کر سکے اور کسی کو ہمارا جوہر قابل بھی نہ دکھا کہ ہمیں خود ہی کسی تقریب میں مہمان خصوصی کا شرف بخشتا۔ سچ ہے کہ زمانہ لیاقت اور قابلیت کی قدر نہیں کرتا۔ چونکہ کاہلی اور قناعت پسندی میں چولی دامن کا ساتھ ہے سو ہم نے بھی اپنی زندگی پر قناعت کر لی اور وی آئی پی بننے کا خیال دل سے نکال دیا۔

تا ہم قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ ہم ادوفینز  کی  ویب سائٹ پر عرصہ تین سال سے ہونے کے باوجود کچھ نہیں کر پائے۔ زندگی بھر کی عادتیں دنوں میں تو بدلنے سے رہیں۔ نتیجتًا تین سال میں ہزار پوسٹس بھی نہیں ہو پائیں۔  سال بھر ہماری وردی کالی رہی تو انتظامیہ نے شاید ہمیں نیلسن منڈیلا کا پیرو سمجھتے ہوئے نیلے رنگ کی سزا سنا دی اور ساتھ ہی ایک عدد قلم ٹانگ دیا ہمارے نام کے ساتھ۔ مگر ہم بھی اپنے نام کے ایک ہیں۔ ہم نے انتظامیہ کی سازشوں کو قلم کرتے ہوئے اپنی پوسٹ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھی۔ سال بھر انتظامیہ نے اپنی سی کوشش کی مگر ہم ان اوچھے ہتھکنڈوں میں آنے والے نہیں تھے۔ اس بات کو سمجھنے میں انتطامیہ کو سال سے زیادہ لگا۔

بہرحال دیرآید درست آید۔ انھوں نے  اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہوئے ہمیں وی آئی پی بنا دیا یوں ہماری ایک دیرینہ خواہش کی تکمیل ہوئی۔ ہمیں یہ عہدہ بلکہ اعزاز کہیے قلم والے عہدے سے یوں زیادہ پسند آیا کہ  وہ عہدہ قید با مشقت تھا   ۔  اپنی نہ سہی قلم کی آبرو کا پاس رکھنے کے لئے کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا تھا۔ اب اس جھنجٹ سے بھی نجات ملی۔

اس نئے عہدے کا رنگ بھی سنہرا ہے۔ اور یہ رنگ وی آئی پی کے لئے بہت مناسب ہے۔ کیونکہ اس سے وہ آئی پی کا قیمتی ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

ہم فورم انتظامیہ کو اس دانشمندانہ فیصلے پر مبارک باد دیتے ہیں اور اس ساعت سعید پر ان کی پچھلی کوتاہیوں کو درگزر کرنے کا اعلان کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ وی آئی پی اراکین کی تکریم یقینی بنائیں اور شرپسند عناصر سے آہنی ہاتھوں  سے نبٹیں۔

ہمارے بعض بد خواہ اس موقع پر ضرور یہ کہیں گے کہ ایک فورم پر وی آئی پی بننے پر اتنا اترانا اور خود کو حقیقی وہی آئی پی لوگوں سے ملانا چہ معنی؟ ان کے اس سوال پر ہم صرف اتنا عرض کریں گے کہ جیسے ادب محبت کے قرینوں میں پہلا قرینہ ہوتا ہے بالکل اسی طرح یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔لھذٰا  ہمارے دوست ہمیں عنقریب کسی یونیورسٹی کانووکیشن، افطار پارٹی، کسی ادبی کانفرنس  میں خطاب کرتا یا کسی کانفرنس یا نمایش کا افتتاح کرتا دیکھیں تو انھیں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

ہمارے ملک کے ایک دانشور کے مطابق جب اصلی اور جعلی ڈگری ایک ہو سکتے ہیں تو حقیقی اور فورم کے وی آئی پی  میں فرق کیوں؟

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s