Leave a comment

ٹُک نظرِ کرم چاہیے

ہم مزاح نگاروں کا ایک المیہ ہے۔ وہ یہ کہ ہم کوئی سنجیدہ بات کریں تو لوگ ہنس ہنس کر دوہرے ہو جاتے ہیں اور اگر کبھی دل لگی کریں تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔ اس لئے میں آغاز میں ہی واضح کر دوں کہ یہ تحریر مکمل طور پر ایک انتہائی سنجیدہ موضوع کے متعلق ہے اور چونکہ مجھے کبھی سنجیدہ موضوع پر لکھنے کا اتفاق نہیں ہوا سو ایک لحاظ سے میرا بھی امتحان ہے۔

آج میرا موضوع زبان ہے- زبان کسی قوم کا تشخص ہوتی ہے۔ اس قوم کی ثقافت ہوتی ہے اور اس قوم کی زندگی ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اور کسی ایسی قوم کا نام بتا دیں جو خود تو موجود ہو مگر اس کی زبان زندہ نہ ہو۔ زبان اکیلے ہی دم نہیں توڑتی، یہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی غرق کرتی ہے- جب انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کیا تو انھوں نے بھی سرکاری زبان فارسی کی بجائے انگریزی کر دی اور اس کا مقصد یقینًا مسلمانوں کی ثقافت اور تشخص پر ضرب لگانا تھا- برصغیر کے مسلمان عہدِ برطانیہ میں اپنی زبان کے تحفظ کے لئے کوششیں کرتے رہے اور اس سلسلے میں آپ یقینًا بابائے اردو مولوی عبدالحق کی کاوشوں سے آگاہ ہوں گے۔

میری نظر میں قیامِ پاکستان کے بعد اردو کے ساتھ زیادہ ظلم ہوا- اردو بحیثیت قومی زبان محض قراردادوں کے نکات تک رہی۔ کسی حکمراں نے اسے اپنانے کی کوشش نہیں کی۔نتیجتًا ہماری قومی زبان اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی لاوارث ہو گئی۔ اپنوں کی زندگی میں ہی یتیم قرار پائی اور ایک غیر زبان وجہء تفاخر ٹھہری۔

اب ہمارا دنیا میں جو مقام ہے اس کی ایک وجہ ہماری زبان بھی ہے- دنیا کی پانچ بڑی زبانوں میں شامل اردو اس وقت حالتِ مرگ میں ہے کہ دوسرے رہنما ہمارے ملک میں آ کر ہمارے لوگوں سے اپنی زبان میں مخاطب ہوتے ہیں اور ہمارے لئے چونکہ ہماری زبان باعثِ ندامت ہے تو ہم انھیں اپنی انگریزی سے متاثر کرنے میں لگے ہوئے ہیں اور بھول گئے ہیں کہ کوا چلا ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔

حکمرانوں سے گلہ کرنا بھینس کے آگے بین بجانا ہے- تاہم حکمرانوں کا طرزِ عمل نچلے طبقوں میں منتقل ہو رہا ہے- لوگ انگریزی کو ہی ذریعہ عزت سمجھنے لگے ہیں- اور اپنے بچوں کو الف بے سے پہلے اے بی سی سکھاتے ہیں۔ چنانچہ نئی نسل بھی اردو کی اہمیت سے نا بلد ہے اور اردو کے ایک جملے میں انگریزی کے کئی الفاظ بولتے ہیں۔

اردوفینز اردو کی بقا کے لئے جو کچھ کر رہی ہے وہ قابلِ تحسین ہے-اردو کی نادر و نایاب کتب اب ہر اس شخص کی دسترس میں ہیں جو انٹرنیٹ کے استعمال سے واقف ہے اور اس سلسلے میں یہاں کی انتظامیہ مبارکباد کی مستحق ہے-اور یہاں کے اراکین کی اردو دوستی بھی ہر قسم کے شبے سے بالاتر ہے۔

گذشتہ ماہ اسی فورم کی دوسری سالگرہ تھی اور بندہ ناچیز کو دو تحریری مقابلوں میں منصف کے فرائض سونپ دئے گئے۔ ہم نے یہ سوچ کر کہ چلو اس بہانے کچھ پڑھنے کو مل جائے گا منصف بننے کی حامی بھر لی- اب ہم نے پڑھنا شروع کیا تو مصنفین کے اندازِ بیاں اور خیالات کی فراوانی سے کافی متاثر ہوئے مگر جب املا کی غلطیاں دیکھیں تو دل خون کے آنسو رویا- اب فورًا کو فورن، عقبٰی کو عقبہ، ادنٰی کو ادنا لکھنا کیا انصاف ہے؟ آپ تمام لوگ کتب پڑھتے ہیں تو یہ الفاظ یقینًا آپ کی نظر سے گزرتے ہوں گے سو جلدی میں اور خیالات کی فراوانی میں غلط لفظ لکھنے سے اجتناب کریں اور اگر کوئی لفظ آپ لکھ نہیں سکتے یا اس کی صحیح املا کے بارے میں کشمکش میں ہیں تو اس کا متبادل لکھ دیں- مزید براں حتٰی الامکان کوشش کریں کہ الفاظ اردو کے ہی ہوں تاکہ اپنی زبان کے الفاظ کو زندگی ملے- اگر بزی کی جگہ مصروف اور فری کی جگہ فارغ لکھ دیا جائے تو بلاشبہ کوئی آپ کی انگریزی کی قابلیت پر مشکوک نہیں ہو گا مگر آپ کی زبان کو ضرور نئی زندگی و توانائی ملے گی اور اس سائٹ پرآپ کی شمولیت کا اصل مقصد بھی یہی ہے۔

مزید گزارش ہے کہ کسی کا کلام پیش کریں تو اس مصنف یا شاعر کا نام لکھنے کی حتٰی الامکان کوشش کریں کیونکہ یہ خراجِ تحسین اس تخلیق کار کا حق ہے اور اس میں ہمیں بخل سے کام نہیں لینا چاہیے اور آخری درخواست یہ ہے کہ شاعری پیش کرتے ہوئے انتہائی احتیاط کریں اور بٖغور دیکھ لیں کیونکہ شعر میں ایک لفظ کی کمی بیشی اس کے وزن کو خراب کر دیتی ہے۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s