Leave a comment

کانگر کے ابتدائی شب وروز

ٹیکسی والے کو کرایہ اوردل ہی دل میں صلواتیں دینے کے بعد ہم نے ہوٹل استقبالیہ کا رخ کیا۔ استقبالیہ پر ایک خاتون تھی۔ بکنگ تو پہلے ہی ہو چکی تھی تا ہم انھوں نےہمارا پاسپورٹ لیا اور کچھ اندراج کرکے ہمارے حوالے کر دیا۔چابی لے کرہمارے ساتھ گئی اور ہمیں مطلوبہ کمرہ دکھا دیا۔ ہم نے سامان رکھا اور سب سے پہلے ٖغسل خانے کے دروازے کو عزت بخشی۔دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ پہلے باہر سےہی معائنہ کیا۔کچھ اطمینان کر کے اندر داخل ہوئے۔ موبائل اور ہوٹل والوں کے فون نمبر والا صفحہ بھی ہماری جیب میں تھا۔ دل دھک دھک کر رہا تھا مگر خوش قسمتی سے ہمارے بدترین اندیشے غلط ثابت ہوئے اور ہم بسلامت غسل خانے سے باہر آ گئے۔

بھوک نے ستایا، تھکن بھی جسم پر حاوی تھی۔ہم باہر آئے اور استقبالیہ خاتون سے کہا کہ ہمارے لئے جائےنماز کا انتظام کر دیں جو کہ ہم کھانے کے بعد لے لیں گےنیز کسی ہوٹل کا پتہ پوچھا۔ اس نے بتایا کہ قریب ہی ہے۔ ہم بتائے ہوئے پتے پر روانہ ہوئے تو کچھ ہی فاصلے پر ایک ہوٹل نظر پڑا۔ ہم بھی وہیں پہنچ گئے۔ یہ ہوٹل پاکستانی چھپر ہوٹلوں کے مشابہ تھا۔ما سوائے اس کے کہ اس کی چھت لوہے کی تھی اور دو ایل سی ڈی بھی لگی ہوئیں تھی۔کانگر بلکہ ملائشیا میں ایسے ہوٹلوں کی کوئی کمی نہیں۔ ہر گلی کے نکڑ پر ایسے ہوٹلز موجود ہیں۔ہم نے کائونٹر پر کھڑے لڑکے سے پوچھا کہ کھانے میں کیاہے؟ وہ پٹ پٹ ہماری طرف دیکھنے لگا۔ حالانکہ ہم نے اردو میں نہیں پوچھا تھا مگر وہ اللہ کا بندہ انگریزی سے بھی نابلد۔معلوم نہیں کہ فیس بک کیسے استعمال کرتا ہو گا؟
اس نے آواز دی اور ایک نوجوان لڑکی باہر آئی۔ اس لڑکی کا لباس بہت مناسب تھا کوالمپور والوں کی نسبت۔ ادھر خواتین عام کام کرتی ہیں مردوں کے شانہ بشانہ۔ ہر ہوٹل پر ہم نے دو تین خوتین کو دیکھا۔ ہم نے اس سے پوچھا کہ کیا کھلا سکتی ہو؟ اس نے کچھ ڈشوں کے نام گنوائے جو کہ ہمارے اوپر سے گزر گئیں۔ ملائشین ڈشز جو ہوئیں۔ ہم نے پوچھا کہ نان روٹی، کوئی کدو کوئی دال ہے تو وہ بیچارگی سے بولی کہ نہیں۔ ہم نے کہا کہ پھر کیا مل سکتا ہے تو اس نے انگریزی کھانے جیسا کہ برگر اورسینڈوچ کا کہا۔ ان سے ہمارے پیٹ کے چوہوں کی بھوک نہیں مٹنی تھی تو ہمارا کیا ہوتا؟ ہم نے اسے بھی رد کر دیا۔اچانک اسے خیال آیا کہ سبزی والے چاول بھی ہیں اس کے پاس۔ ہم نے کہا کہ وہی لے آئو۔ ہم ایک میز کے گرد کرسی پر بیٹھ گئے۔ کائونٹر والا لڑکا ہمارے لئے پانی کا گلاس لایا۔ پانی کیا تھا کہ آدھا گلاس برف کے چھوٹے کیوبز سے لنریز تھا اور نصف پانی سے۔ گلاس میں سٹرا بھی تھی کہ چسکیاں لے لے کرپئیں۔
کچھ سمے بعد چاول بھی آ گئے۔ ان پر سبزیاں بالخصوص ٹماٹروں کا راج تھا۔ قریب قریب ہمارے آدھ ٹماٹر کے قریب جسامت کے کئی ٹماٹروں نے چاولوں کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ چند دن پہلے پاکستان میں ہم نے ایس ایس جی کمانڈوز پرپروگرام دیکھا تھا جو کہ سانپ، مینڈک اور دیگرجانور بڑے شوق سے نوش جاں کر رہے تھے۔ ان سے ہم نے ہمت پکڑی کہ اگر ہمارے فوجی بھائی یہ سب کچھ کھا سکتے ہیں تو ہم یہاں کے چاول کیوں نہیں۔ اس کے علاوہ پیٹ نے بھی سمجھایا کہ نخرے نہ کر، یہ گھر نہیں ہے۔ اللہ کا نام لے کر شروع کر دیے۔ ذائقہ ان کا برا نہیں تھا۔ اس پر ساتھ میں کچھ سوپ بھی تھا جو کہ ہم نے ان سے پوچھا کہ کیا ہے تو ان کی انگریزی جواب دے گئی۔ سوپ چاولوں پر انڈیل کر ہم نے کھا لیا۔ پیٹ پوجا ہو گئی تو خیال آیا کہ صبح سے چائے نہیں پی تبھی سربھاری ہو رہا ہے۔ چائے کا کہا تو پوچھا گیا کہ گرم کہ سرد؟ ہم نے کہا کہ گرم والی مع دودھ کے۔ کچھ دیر بعد جو چائے آئی وہ کالی تھی۔ دودھ شاید یہاں کا کالا ہو۔اس میں کوئی قباحت نہیں آخر ہمارے ہاں بھی توبعض لوگوں کا کاں(کوا) چٹا(سفید) ہوتا ہی ہے۔ ہم نے خود کو حوصلہ دیا اور پی گئے۔ ہم جب بل ادا کرنے گئے تو وہ عفیفہ بولی کہ پسند آیا کھانا؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو کہنے لگی کہ پھر آئیے گا۔ ہم نے پوچھا کہ صبح ناشتے میں کیا ملے گا تو وہ کچھ بولنے لگی۔ ہم نے کہا کہ چلو کوئی نہیں، صبح دیکھیں گے۔
واپسی پر استقبالیہ سے گزرتے ہوئے ہمیں جائے نماز کا خٰال آیا۔ وہ خاتون کسی کام مین منہمک تھیں’ ہم نے کہا کہ ہم جائے نماز لے کر جا رہے ہیں تو یک دم گرتے گرتے بچیں۔ یقینًا ہمیں انھوں نے بھوت سمجھ لیا تھا۔ پھر ہمیں دیکھ کر شرمندہ سی مسکراہٹ چہرے پر سبا لی۔ ہم نے بھی مسکراتے ہوئے معذرت کی اور کمرے میں چلے آئے۔ اب کمرے پر بھی نظر کرم کی۔ دوھرا پلنگ مع فوم، سنگھار میز، ایل سی ڈی، کپڑے لٹکانے والا ہینڈل سب تھا اور ساتھ ہی منسلک غسل خانہ بھی۔ کمرہ کرایہ کے حساب سے بہت مناسب تھا اور کمرے سے نکلتے ہی باہر باورچی خانہ تھا۔ جس میں قد آدم فرج موجود تھا۔ضرورت کے تمام برتن کپ، پیالی، گلاس،چمچ کے ساتھ ساتھ برقی کیتلی بھی موجود تھی۔ غسل خانہ بھی صاف ستھرا تھا جس میں دو صاف تولیے بھی موجود تھے۔ صابن اورٹشو پیپر بھی پائے گئے۔ اس کمرے کے متعلق ہمارے رائے کافی بہتر تھی۔
سامان کھولنے کی توہمت نہیں تھی مگر ہم نے صابن اور ٹوتھ پیسٹ نکال لئے۔ بعد ازاں تازہ دم ہوئے اور پھر لیٹ گئے۔ تھکے ہوئے تو تھے ہی فورًا ہی نیند آ گئی۔ اگلی صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی۔ سورج کی روشنی کھڑکی سے آ رہی تھی۔ ہم نے خود کو تسلی دی کہ پاکستان میں ابھی پانچ بجے ہیں۔ آج تو یوں بھی اتوار ہے، سو جائو اوردوبارہ خواب خرگوش کے مزے لینے لگے۔ دس بجے آنکھ کھلی اور اب کے بھوک بھی لگ رہی تھی۔ ہم اٹھے منہ ہاتھ دھویا اور چل پڑے ناشتہ تلاشنے۔ رات والے ہوٹل پر پہنچے تو وہ بند تھا۔ ہم دوسری سمت گئے تو یہاں بھی دو تین ایسے ہوٹل دکھے مگر سب کے سب بند۔ ہم حیران کہ ہم ان کو پیسے دینے پر تیار(ناشتے کے عوض) اور ان لوگوں کو پیسے کمانے کا شوق ہی نہیں ہے۔ کچھ دور جانے پر ایک جنرل سٹور نظر پڑا۔ اس سٹور پر بھی ایک بزرگ خواتین تھی۔ ہم نے وہاں سے کھانے کا سامان لیا۔ اس بزرگ نے ہم سے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں سوال کیا کہ بچے کہاں سے ہو۔۔۔۔ ہم نے پاکستان کا نام لیا۔ اس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور پاکستان کی تعریف کی۔ ہمیں بہت اچھا لگا اور اس کا شکریہ ادا کیا۔ ہم نے پوچھا کہ ہوٹل کیوں بند ہیں تو کہنے لگی کہ اتوارکی صبح کو نہیں کھلتے یہ۔ شام کو کھلیں گے۔ ہم نے رقم ادا کر کے اپنا سامان اٹھایا اور اپنے کمرے میں پہنچ کر دو سیندوچز اور دو جوسوں سے گزارا کیا۔ دوپہر کو چکر لگایا تو بھی وہی ہو کا عالم۔ ہمیں اس بزرگ نے بتایا تو تھا کہ دن میں نہیں کھلتے ہوٹل مگر ہم نے اس کا اعتبار نہ کیا تھا۔ اب چل چل کے جو کچھ کھایا تھا وہ بھی ہضم ہو گیا اور شام تک آثار بھی نہیں کسی چیز کے ملنے کے۔یوں بھی اگلے روز جامعہ کی خاک چھاننی تھی وہ آرام کرنا ہی مناسب تھا۔ اب ہمارے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے سونے کے۔سو ہم نے یہی کیا۔

 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s