Leave a comment

کرکٹ اورلڑکی ایک دوسرے کی سوکن ہیں

نذر محمد پاکستان کے اولین اوپنر تھے۔ انھیں پاکستان کی جانب سے پہلی سینچری اور پہلا ‘بیٹ کیری’ کرنے کا اعزاز ہے۔پاکستان کی اولین فتح میں فضل محمود کے ساتھ ان کی اس اننگ کا بھی بہت حصہ ہے۔ بلکہ نذر محمد اور مدثر نذر کرکٹ کی تاریخ کے واحد باپ بیٹا ہیں جنھوں نے بیٹ کیری کیا۔ان کی دوستی اپنے وقت کی معروف گلوکارہ سے تھی۔ ان کی ایک ملاقات جاری تھی کہ گلوکارہ کے شوہر کو پتہ چل گیا اور وہ ان کے کمرے تک جا پہنچا۔ جب دروازہ کھٹکھٹایا گیا تو نذر محمد کے کھڑکی سے کودنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا۔ وہ کودے اور ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی اور یوں ان کا کرکٹ کیریئر پانچ ٹیسٹ میچوں سے  آگے نہ بڑھ پایا۔

محسن حسن خان بھی اتفاق سےخوبرو ہونے کے علاوہ اوپنر ہی تھے اور ان کا دور نذر محمد صاحب کے بیٹے یعنی کہ مدثر نذر کے ساتھ تھا۔ ان کا آغاز بھی بہت اچھا تھا اور ابتداء میں انھوں نے کئی کامیابیاں سمیٹیں، جن میں آسٹریلیا میں دو ٹیسٹ سینچریاں اور کرکٹ کے گھر لارڈز میں ڈبل سینچری قابل ذکر ہے۔ وہ بھی اپنے کیریر کے عروج میں رینا رائے کی زلفوں کے اسیر ہو گئے اور کسی سے رائے لئے بغیر ان سے شادی کرلی۔کچھ ہی عرصے بعد ان کے کرکٹ کیریئر نے غوطہ کھایا اور کچھ ہی عرصے بعد وہ ٹیم سے بھی باہر ہو گئے۔ کرکٹ تو گئی بعد ازاں رینا رائے بھی ان سے علیحدہ ہو گئیں۔

عمران خان کو بھی کئی اداکارائوں نے شادی کی پیشکش کی مگر وہ ان کے جال سےبچ گئے۔ ایسے ہی سرفراز نواز نے مشہور اداکارہ رانی سے شادی کی مگر اس وقت جب دونوں کا کیریئر ختم ہو چکا تھا۔ کامران اکمل کی شادی 2006 میں ہوئی۔ اگرچہ انھیں کوئی بھی قدرتی وکٹ کیپر نہیں مانتا مگر وہ محفوظ کیپر ضرور تھے اس وقت تک انھوں کے کئی بار بوقت ضرورت اپنی بیٹنگ سے ٹیم کی نیا پار لگائی۔مگر شادی ان پر ایسی غالب آئی کہ وہ گیند پکڑنا ہی بھول گئے اور اس کا اثر ان کی بیٹنگ پر بھی پڑا۔ ان کی وکٹ کیپنگ پر کئی لطیفے بھی بنے۔ ان میں سے ایک ہمیں بھی یاد ہے۔’ جب آپ کسی بچے کو ہوا میں اچھالو تو وہ ہنستا ہے، قہقہے لگاتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ نیچے کامران اکمل نہیں ہے’۔ شعیب ملک کی شادی 2010 میں ہوئی اور ان کے کیریئر کے پانچ سال کھا گئی۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ انھیں جب دوسرا موقع ملا تو وہ فائدہ اٹھانے میں کامیاب ہو گئے۔ پچھلے سال عمر اکمل کی شادی ہوئی اور وہ اب بمشکل ٹی20 ٹیم کا حصہ ہے۔ احمد شہزاد کی شادی کے بعد کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے۔ بلکہ اب تو وہ ٹی ٹوینٹی کی ورلڈکپ کے لئے منتخب ٹیم کا حصہ بھی نہیں ہیں۔ جنید خان پچھلے ورلڈ کپ سے قبل ان فٹ ہوئے تھے اور اس دوران انھوں نے شادی رچا لی مگر اب ٹیم کو دور دور سے اور ٹھہر ٹھہر کے دیکھتے ہیں۔ یاسر شاہ کے معاملے میں بھی کہیں نہ کہیں بیوی کا کردار آتا ہے۔

مندرجہ بالا مثالوں سے بات بالکل عیاں ہے کہ کرکٹ اور لڑکی آپس میں سوکن ہیں۔ کرکٹر کا کسی لڑکی سے دوستی یا شادی ہونا کرکٹ کو ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اس سے کنارہ کشی کر لیتی ہے۔ دوستی یا غیر ازدواجی تعلقات خواہ وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں زیر بحث نہیں مگر کرکٹرز کی اکثریت کو شادی راس ہی نہیں آتی اور ان کی کارکردگی کا وہ پہلا سا معیار نہیں رہتا۔

   شادی کوئی غلط چیز نہیں۔ مکمل طورپر فطری اور جائز کام ہے بلکہ پسندیدہ کاموں میں سے ہےمگر کرکٹ کا اس سے اینٹ پتھرکا بیر ہے۔ ہم نے جہاں تک سوچا ہے اس اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کرکٹ ایک کل وقتی معشوقہ ہے۔ مگر وہ زیادتی نہیں کرتی۔ وہ اپنے عاشقوں کو عزت، دولت، شہرت سب دیتی ہے۔انھوں ملکوں ملکوں کی سیر کرواتی ہے۔ اس کے عاشقوں کو ہر جگہ وی آئی پی پروٹوکول ملتا ہے تاہم اس سب کے بدلے وہ اپنے عاشقان سے صرف توجہ چاہتی ہے۔ اسے اپنے عاشق کا دھیان اپنے سے ہٹنا گوارا نہیں۔ سو جب بھی کبھی ایسی صورت حال پیدا ہوئی، کرکٹ نے اپنے عاشق سے علیحدگی اختیار کرلی۔ شعیب ملک کا معاملہ یوں الگ ٹھہرا کہ اس نے شادی کی بھی تو کرکٹ کے خاندان کی عورت سے(تمام کھیل آپس میں ایک خاندان کی مانند ہیں) سو اس کو پانچ سال کے بعد کرکٹ نے معاف کر دیا جیسا کہ عامر کو بین الاقوامی کرکٹ کونسل نے۔

کہتے ہیں کہ رزق بیوی کے نصیب سے ہوتا ہے اور اولاد مرد کے نصیب سے۔ اس سے ہم کھلاڑیوں کی بیگمات پر ہرگزتہمت نہیں لگا رہے کہ وہ اپنے میائوں کی آمدنی میں خسارے کی ذمہ دار ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اب اتنی لیگز ہیں کہ شاید خسارہ ہوتا ہی نہ ہوالٹا کھلاڑیوں کی پانچوں گھی میں ہوں بلکہ ہوتی ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کی نمائندگی (نیک نامی کے معاملے نہ کہ بدنامی کی خاطر) سے بڑا اعزاز صرف شہادت ہی ہے۔ یہاں ملک کی نمائندگی کو صرف کھیل یا کرکٹ تک محدود نہ سمجھا جائے بلکہ یہ ہر شعبہ زندگی پر محیط ہے۔

سو ہماری کرکٹ بورڈ سے گزارش ہے کہ قومی ٹیم کے اہم کھلاڑیوں پر شادی کی پابندی لگا دیں(اگر کوئی غیر شادی شدہ باقی ہے تو)۔معاہدے کی شقوں میں ایک شق یہ بھی ہونی چاہیے کہ شادی کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی اجازت سے مشروط ہو گی۔ بلکہ زیادہ بہتر یہ ہو گا کہ شادی کے لئے کوئی این ٹی ایس کی طرز کا امتحان رکھ لیا جائےجس کا پاس کرنا لازم ہو۔ اگر ایسا ہو گیا تو ہمارے کھلاڑی تو شاید عمر بھر غیر شادی شدہ ہی رہیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s