Leave a comment

پاکستان بمقابلہ بھارت

1986 میں جاوید میانداد نے چیتن شرما کو وہ تاریخی چھکا مارا تھا کہ جس کے بعد قریب دو دہائی پاکستان نے محدود اوورز کے مقابلوں کی کرکٹ میں بھارت پر راج کیا ماسوائے عالمی کپ مقابلوں کے۔ اس میچ پر چند برس قبل ایک ڈاکومنٹری دیکھ رہا تھا تو سنجے منجریکر کے کہا۔’یہ وہ میچ ہے کہ جس کے بعد پاکستان کا بھارت پر راج شروع ہوا۔ میں ابھی جو بات کہوں گا وہ سن کے بہت سے بھارتی مجھ سے ناراض ہوں گے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی ایک روزہ میچوں کی ٹیم پاکستان سے بہتر تھی۔ اس میں ایک روزہ کے حساب سے بہتر بلے باز، گیند باز اور آل رائونڈرتھے’۔اب صورت حال یکسر بدل چکی ہے۔ پاکستان کا کوئی بھی بلےباز یا گیند باز عالمی درجہ بندی میں پہلے دس نمبروں پر بھی نہیں ہے۔

کرکٹ سمجھنے والے جانتے ہیں کہ ٹیسٹ میچ آپ بائولرز کے زور پر جیتتے ہیں۔اس کے مقابل بلے باز بڑا سکور بنا کر جیت کے لئے میچ بناتے(یعنی کہ سیٹ کرتے) ہیں-۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی کارکردگی ٹیسٹ میچوں میں قدرے بہتر ہے۔ محدود اوورز کے میچوں میں چونکہ ہر گیند باز کے اوورز محدود ہوتے ہیں تو بلے بازوں کا کردار زیادہ اہم ہوتا ہے۔اچھے گیند باز کے اوورز اچھے بلے باز اسے احترام دے کر کھیل لیتے ہیں اور اس کے بعد کمزور گیند بازوں پر حساب پورا کر لیتے ہیں۔اور ضروری نہیں کہ ہر روز اچھا گیند باز ایک جیسی گیند بازی کرے تو اس کو بھی مار پڑ جاتی ہے کیسے کہ ڈیل اسٹین کے ساتھ انگلینڈ کے کیا۔ اچھے گیند باز پر خطرہ لیے بغیر احتیاط سے بھی کھیلا جائے تو اسے بھی قریب پانچ چھ رنز فی اوور پڑ ہی جاتے ہیں۔

میچ سے ایک روز قبل دوست نے پوسٹ لگائی تھی جس پر لکھا تھا کہ کل بھارت جیتے گا تو بہت سے لوگوں نے بہت واویلا مچایا اور اظہارِ ناراضی بھی کیا۔ اس پوسٹ پر بھی ہم نے کہا تھا کہ بھارت کی جیت کے امکانات ساٹھ فیصد جبکہ پاکستان کے چاپیس فیصد ہیں۔ہمیں پنتیس فیصد لکھنا تھا مگر بنگلہ دیش پر فتح اور اسی میدان میں میچ جبکہ ہار کی صورت میں بھارت کے عالمی کپ سے باہر ہونے کے امکانات کے دبائو کی بنا پر پاکستان کو چاپیس فیصد امکانات کہا۔

میڈیا نے بھی عوام کے جذبات سے خوب کھیلا۔ ایک میچ کو جنگ کی مانند پیش کیا۔ اور بنگلہ دیش سے ملنے والی فتح کی بنیاد پر بھارت ڈھانے کے امکانات کی بات ہونے لگی۔

اگر دونون ٹیموں کا کھلاڑی بہ کھلاڑی موازنہ کیا جائے تو شاید ہمارے تین یا چار کھلاڑی ہی اپنے مقابل سے بہتر ہوں گے مگر مقابلہ  کاغذوں پر نہیں ہوتا یہ میدان میں ہوتا ہے۔ کمتر اور کمزور ٹیمیں بھی مضبوط حریفوں کو شکست دیتی ہیں مگر اس کی عمومًا وجہ یا تو مضبوط حریف کی سہل پسندی اور مقابل کو آسان لینا ہوتا ہے یا پھر کمزور حریف بہتر حکمت علمی سے میدان میں اترتے ہیں اور اس پر پورا عمل کرتے ہیں۔

کل کے  میچ میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔پہلی غلطی تو چنائو میں ہی ہو گئی جب جیتی ہوئی ٹیم کا ایک کھلاڑی باہر کر کے محمد سمیع کو ڈالا گیا۔ اگر پرتھ کی پچ ہوتی تو سمجھ میں بھی آتا مگر کولکتا میں یہ عجیب ہی لگنا تھا۔بنگلہ دیش کے میچ کے بعد محمد سمیع کے اعتماد کا جو عالم تھا اس کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ یہاں آفریدی کے ساتھ وقار اور انتخاب عالم بھی قصور وار ہیں کہ پچ کو ہی نہیں پڑھ پائے۔ ٹاس پر کسی کا کوئی اختیار نہیں۔ تاہم دوسرے اوور میں جب ایشون نے گیند کرانی شروع کی تو ہی سب کو سمجھ آ گیا کہ بہت بڑی غلطی ہو چکی۔

ابتدا مین رنز کی رفتار بہت سست رہی۔وجہ بڑے میچ کے دبائو کے ساتھ ساتھ پچ کا عجیب رویہ بھی تھا۔ مگر ہمارے بلے بازوں کی فطرت میں سنگل ڈبل کرنا بھی نہیں ہے۔ آفریدی پہلی وکٹ گرتے ہی میدان میں آ گئے مگر یہ دو دن پہلے والی پچ تو تھی نہیں کہ وفا کرتی۔ اس کے بعد ملک اور عمر اکمل کی تھوڑی کوشش سے اسکور 118 تک جا پہنچا۔ یاد رہے کہ میچ اٹھارہ اوورز پر مشتمل تھا۔ اسکور کم از کم بیس رنز کم تھا مگر پھر بھی قوم نے عامر سے آس لگا لی۔ اتنے سکور پر تو تمام ٹیم کو آئوٹ کر کے ہی میچ جیتا جا سکتا ہے۔

شروع میں گیند بازی بری نہیں رہی بلکہ سمیع نے بھی دو وکٹیں لے لیں اور چھ اوورز میں تیس پر تین آئوٹ پر میچ بن سکتا تھا مگر یہاں پھر  غلط حکمت علمی ہمیں لے ڈوبی۔ اس وقت تک کوہلی نی صرف دو بالیں کھیلی تھیں۔ اور وہ پاکستان کے لئے سب سے بڑی وکٹ تھا۔ عامر یا عرفان سے ایک اوور اور کروا لینا کچھ غلط نہ تھا مگر انھیں کبھی نہ آنے والے آخری اوورز کے لئے بچا کے رکھ لیا گیا۔

سمیع نے پہلے اوور کا حساب اگلے ہی اوور میں پورا کر دیا جب دونوں بلے بازوں کو ایک ایک تحفہ دیا اور دونوں نے چوکا لگا کر شکریہ ادا کیا۔ آفریدی نے گیند کو فلائٹ ہی نہیں کیا تو وہ کیا ٹرن لیتی۔ ملک کو اوور دیا تو یوراج نے پہلی ہی گیند سلپ میں کھیلی مگر کوئی وہاں ہوتا تو پکڑتا۔جب کہ ترجیح وکٹیں لینا ہی ہونا چاہیے تھی۔ اس کے بعد تو شعیب ملک نے بھی پیروں پر ہی گیندیں پھینکیں اور اس حرکت کا انجام بھی پایا۔ بعد میں یوراج آئوٹ بھی ہوا مگر تب تک پانی سے سے گزرچکا تھا۔

عالمی کپ روز روز نہیں ہوتے۔ اب پاکستان کو بھارت سے ہارنے کے لئے مزید انتظار کرنا پڑےگا۔ اچھی بات یہ کہ اگر پاکستان جیت جاتا تو نیوزی لینڈ اور پاکستان تقریبًا سیمی فائنل کے لئے پکے ہو جاتے۔ یوں گروپ میچز میں کوئی مزہ کوئی سنسنی نہ رہتی۔ سوا ارب کی آہیں ہمیں کھا جاتیں۔ اس کے علاوہ اتنی آسانی سے سیمی فائنل میں پہنچ جاتے تو وہیں ہار جاتے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ قوم تن آسان ہو جاتی اور اللہ کو بھول جاتی۔ جب تک قوم ناک رگڑ رگڑ کر اللہ سے جیت نہ مانگے ہماری ٹیم کا دل ہی نہیں کرتا جیتنے کو۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s