Leave a comment

تم جیو ہزاروں سال

فیس بک پر اکثر معروف شخصیات کے پیجز اور گروپس ہیں۔ ادب میں ان کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ ان پیجز کے ذریعے قارئین اپنے پسندیدہ مصنفین سے نہ صرف رابطے میں رہتے ہیں بلکہ اس ملک میں جہاں کتاب کا رواج نہیں وہاں قارئین کی ادبی تخلیقات سے آگاہی بھی حاصل کرتے ہیں اور انھیں پڑھنے کی سعادت بھی حاصل ہوتی ہے اور اس میں سب سےاہم کردار پیج اور گروپ کے منتظم یعنی کہ ایڈمن کا ہوتا ہے۔ ان کا کام اس پیج کو قائم و دائم اور متحرک رکھنا ہوتا ہے کہ قارئین کی اس میں دلچسپی قائم رہے۔

پیجز کی کمی نہیں اور ان پر منتظم بھی بہت۔ تاہم منتظموں میں اکثریت خواتین کی ہے۔ اگر اس کا معاوضہ بھی ہوتا تو خواتین تو گھر بیٹھ کر کما سکتی تھیں۔ممکن ہے کہ یہ مستقبل قریب میں ہو بھی جائے۔ تاہم خواتین کی اکثریت کی وجہ جنسی تعصب نہیں بلکہ حقیقتًا لڑکیاں اور خواتین زیادہ نفاست پسند ہوتی ہیں۔ مرد خال خال ہی ہیں اس شعبے میں مگر ہماری نظر میں تو ایک ہی راجہ اندر ہیں۔جنھیں ہم نے اتنے پیجز پر دیکھا ہے جتنوں پر ہم گئے نہیں اور وہ ہیں ہمارے دوست عمران رضا بٹ۔ماشاء اللہ ہر فورم کے منتظم کے عہدے پر ایسے فٹ بیٹھتے ہیں جیسے انگوٹھی میں نگینہ۔

ان کے کام کے متعلق میں کیا کہوں کہ ماشاء اللہ بہت محنتی ہیں۔ شکایت کا موقع ہی نہیں دیتے کہ جو کوئی شکایت کی کوشش کرے اس کا گلہ تو نہیں منہ بند کر دیتے ہیں۔ اپنے میٹھے بولوں سے۔ ماشاء اللہ بہت نرم ہیں لہجے کے بس ماتھے پر تیوری چڑھا لیتے ہیں جو کہ کسی کو دکھتی ہی نہیں۔ حتٰی کہ ہمیں بھی نہیں دکھی۔

ہماری ان کو پسند کرنے کی ایک وجہ یہ بھی کہ ہمارے ہم نام بھی ہیں۔ ادبی و قلمی نام کے نہ صحیح۔۔دستاویزی نام تو ہم دونوں کا ایک ہی ہے اور یہ بھی کوئی کم ناتا نہیں ۔

 سو بقول غالب 

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا

غالب کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے

عمران رضا ہونے کے ساتھ ساتھ بٹ بھی ہے۔ اب ہمیں نہیں پتہ کہ کیسے بٹ ہیں۔ جو ہمارے دماغ میں راسخ ہے وہ تو بس یہ کہ بٹ ایک تو کشمیری ہوتا ہے سو خوش شکل ہونا تو فطری بات ہے۔اور خوش خوراک ہونا اس سے بھی زیادہ فطری۔ بٹوں کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی خوراک سے تعصب نہیں برتتے۔ سو پسند و ناپسند ان کے  ہاں نہیں ہوتی۔ بس کھانا ہونا چاہیے اور بہت ہونا چاہیے۔ اور اتنا کھائو کہ پیٹ میں جگہ نہ بچے۔ایک بار ایسے ہی ایک خوش خوراک صاحب ایک تقریب میں کھانا کھانے گئے اور مقدور بھر سے بھی زیادہ کھا لیا۔ طبیعت زیادہ خراب ہوئی تو بیٹے نے کہا کہ ابا جی میں آپ کو پھکی دوں؟ والد بزرگوار نے فرمایا ۔۔او پتر اتنی جگہ ہوتی تو میں ایک چمچ اور زردہ نہ لے لیتا۔ اب یہ بھی ایسے ہی خوش خوراک ہیں کہ نہیں یہ ہم نہیں جانتے۔۔۔ آپ کی طرح ہم بھی انھی سے یہ سوال کرتے ہیں کہ جناب آپ حقیقی بٹ ہیں کہ بٹوں کے نام پر بٹا؟ بٹوں کے نام پر بٹا وہ ہوتا ہے جو کہ کچھ نہ کھاتا ہو اور دھان پان سا ہو۔۔۔یوں لگے کہ ہینگر پر کپڑے ٹانگے ہوئے ہیں۔

ہمارے دوست عمران رضا بٹ کی آج سالگرہ ہے۔ کونسی ہے؟ ہم نہیں جانتے؟ لیکن اتنا معلوم ہے کہ آخری ہے جو کہ وہ غیرشادی شادہ کی حیثیت سے منا رہے ہیں۔ سو ہمیں تو اب کی بار ہی مبارک باد دینی کہ اگلی بار ہماری مبارک باد کی انھیں ضرورت ہی نہیں پڑے گی بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ

دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے

اگلی بار انھیں اپنی سالگرہ یاد ہی  نہ ہو۔ ہماری طرف سے عمران رضا بٹ کو اپنی سالگرہ بہت بہت مبارک ہو۔ ہماری دعا ہے کہ انھیں ہر میدان میں کامیابی ملے اور یہ ایسے ہی سب کے دلوں پر راج کرتے رہیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s