Leave a comment

‘اِس کا ہو تو سامنے آئے’

ہماری نظر سے ایک پوسٹ گزری جس میں محبت کرنے سے منع کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ محبت کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ(بندی نہیں) مرغی پال لے۔ کبھی اس کا انڈا بوائل کر کے کھائے، کبھی فرائی کر کے تو کبھی سوپ میں دال کر نوشِ جان کرے۔ ایک انڈے کے کتنے کثیر الجہت فوائد ہیں جبکہ محبت نرا سیاپا۔ہم ان کی بات سے کسی حد تک متفق ہیں۔ محبت سیاپا ہے کہ نہیں اس کا ہمیں تجربہ نہیں، جب ہوا تو بتائیں گے مگر انڈے کے فوائد کے ہم بھی معترف ہیں۔ مرغی کے بھی ہم قدردان ہیں خصوصًا بھنی ہوئی کے مگر پرغی پالنے والی شرط کچھ ٹیڑھی کیونکہ مرغی بھیڑ کی طرح مینگنیوں والا دودھ دیتی ہے۔ مرغی بیٹیں کر کرکے گھر سارا گندہ کر دیتی ہے۔ نیز انڈا دینے کے لئے اسے دانا دنکا ڈالنے کی ذمہ داری بھی آپ کی۔ آج کل کے ماحول کے مطابق خود کو نہیں ڈھال سکتی کہ نو دس بجے اٹھنے کی بجائے تہجد کے وقت ہی بانگ دے کر (یعنی کٹ کٹ کر کے)اٹھا دیتی ہے۔ یہ ساری مشقت اٹھا کر آپ مرغی پالیں،وہ انڈے بھی دے مگر بقول اقبال صاحب کے وہ نئی تہذیب کی مانندگندے نکل آئیں تو پھر؟

ہماری دانست میں اس سے بھی اچھی چیز موجود ہے۔ جس کو آپ کو دانا دنکا نہیں ڈالنا پڑتا جو بیٹیں نہیں کرتی۔ شور شرابا نہیں کرتی۔ جہاں رکھو آرام سے بیٹھی رہے گی۔کم خرچ اور بالانشین ہونے میں تو شبہ ہی نہیں۔ فوائد اس کے گنوائوں تو بس یہ سمجھیے کہ وقت ہی ٹھہر جائے۔ حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ہم ذکر کر رہے ہیں ‘نسوار’ کا۔ نسوار ایک امرت دھارا ہے جو ہر مرض کے لئے مفید ہے۔ ہر مشکل کا حل ہے۔ ہمارے پٹھان بھائی اسے زیادہ استعمال کرتے ہیں تاہم دیگر قومیں بھی اس سے مستفید ہونے میں پیچھے نہیں۔ ہمیں اس سے متعلق گمراہ کیا جاتا ہے اور ہمیشہ اس کے مضمرات سے ہی آگاہ کیا جاتا ہے اور اس کے اور پٹھانوں کے متعلق مختلف لطیفے بنا کر ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ تاہم اس کے کچھ فوائد سے ہم آپ کو روشناس کرتے ہیں۔
نسوار کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ یہ دردکش ہے۔ بڑے بڑے نسوارخور جب وہ درد سے کراہ رہے ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کی دوائیں اور ٹیکے انھیں آرام پہنچانے سے قاصرہوتے ہیں تو نسوار کی ایک پڑیا ہی ان پر وہ مرہم رکھتی کہ جیسے ذخم پر محبوب اپنا ہاتھ پھیر دے۔ہمارے جاننے والوں میں ایک صاحب کا آپریشن ہوا۔ آپریشن کے بعد ان کو ٹانکے لگے۔ وہ ہوش میں آکر ہائے ہائے کرنے لگے۔ ڈاکٹر نے پوچھا کہ کیا ہوا تو پتہ چلا کہ درد بہت ہے۔ ڈاکٹر نے دوا لکھ دی۔ اگلے روز ان کی حالت دیکھ کر انجکشن بھی لگایا مگر ان کی ہائے ہائے میں فرق نہ آیا۔بیٹے نے پوچھا ابا مسئلہ کیا ہے تو کہنے لگے کہ پتر تین دن سے نسوار نہیں لی۔ بیٹے کا دل پسیج کیا۔ ایک پڑیا کہیں سے لاکر ڈاکٹر سے چھپا کروالد کو کھلائی اور کچھ ہی دیر میں ابا جان ہشاش بشاش ہو گئے۔
نسوار کا اثرگرمیوں میں ٹھنڈا ہوتا ہے ۔نسوار کے کسی عادی کو آپ دو پڑیاں نسوار کی دے کر باآسانی ایک گھنٹا دھوپ میں کھڑا کر رکھ سکتے ہیں۔بلوچستان کے ایک معروف سیاست دان جن کے اقوال زبان زدِ عام کا ہی کہنا ہے کہ جتنی ٹھنڈک ڈیڑھ ٹن کا ایئر کنڈیشنر آدھ گھنٹے تک اوسط رفتار سے چلتے ہوئے فراہم کرتا ہے، اتنی ٹھنڈک صرف ایک پائو نسوار مہیا کر سکتی ہے۔ ہم اس کی تصدیق نہیں کر سکتے کہ نسوار کی خصوصیات پر بحث کوئی کیمیائی انجنئر ہی کر سکتا مگر فرض کریں کہ ایک پائو کی بجائے اگر آدھ کلو سے ہی مطلوبہ معیار کی ٹھنڈک حاصل ہو جائے تو کیا مضائقہ ہے اس میں؟ حکومت بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو سبسڈی دینے کی بجائے یہ رقم اگر نسوار کی مد میں خرچ کرے تو ملک میں بجلی کا بحران بھی ختم ہو جائے گا اور عوام کی گرمی بھی۔
نسوار کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ گردش دوراں سے نجات دلاتی ہے ناصر صاحب نے کہا
فرصتِ بے خودی غنیمت ہے
گردشیں ہو گئیں پرے کچھ تو
۔پسند کی شادی کا مسئلہ ہو، نوکری نہ مل رہی ہو، محبوب بے وفا نکلے، گھر میں لڑائی جھگڑا ہو یا کوئی اور لاینحل مسئلہ، کسی عامل کے پاس جانے کی ضرورت نہیں وہ آپ کے ایمان کو خراب کرے گا۔ بس تھوڑی سی مقدار میں نسوار لیں اور اثر دیکھیں۔ چند منٹوں میں آپ کو ایسا سکون ملے گا کہ آپ خود محسوس کریں گے کہ کچھ ہوا ہی نہیں۔ پھر جب آپ پرسکون دماغ سے سوچیں گے تو اپنا مسئلہ تو ایک طرف،پاکستان میں بے روزگاری، دہشت گردی، بجلی، امن و امان کی صورت حال سے لے کر بین القوامی مسائل مثلًا کشمیر، فلسطین، داعش، کوریا کا تنازعہ، ایران کا ایٹمی پروگرام سمیت تمام مسائل کا حل آپ کے سامنے ہو گا۔ اس سے ہمیں یہ خیال آرہا ہے کہ ان مسائل کے حل نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اولوالامر حضرات بھی نسوار کی ان خصوصیات سے ناواقفیت کی بنا پر اسے استعمال نہیں کرتے۔
مزید براں نسوار یہ مساوات کو فروغ دیتی ہے۔ نسوار کھانے والے کی نظر میں عربی عجمی،کالا گورا،سنی شیعہ،پنجابی پٹھان سب بے معنی ہوتے ہو جاتے ہیں۔ تفریق کا معیار بس نسوار ٹھہرتی ہے۔ اس کی نظر میں دنیا میں بس دو گروہ ہوتے ہیں۔ نسوار کھانے والا اور نسوار نہ کھانے والا۔
نسوار کی خوبیاں اتنی کہ ہمارے لئے بیان کرنا ناممکن۔ یہ جو کھاتا ہے وہی اس کی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ کنارےپر کھڑے ہو کر جیسے پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا بلکہ ایسے ہی بغیر کھائے صرف پڑھ کر نسوار کی خوبیوں سے کماحقہ واقف ہونا بھی ممکن نہیں۔ انسان جب جذب کی کیفیت میں ہوتا تو وہ لذت بیان کھو دیتا ہے وہ صرف محسوس کر رہا ہوتا ہے۔اپنی تمام کیفیات بیان کرنا اس کے لئے ممکن نہیں ہوتا۔ بالکل ایسے ہی نسوارکا عادی وہ سکون و کیف و سرور لفظوں میں بیان نہیں کر سکتا جو اسے نسوار سے ملتا ہے۔ نسوار کے عادی سے آپ نسوار کی قیمت پوچھیں۔ وہ ایک پڑیا کے لئے اپنا موبائل بھی دے دے گا۔
نسوار کی ان خوبیوں کے بعد اس کی افادیت اظہر من الشمس ہے۔ ۔یہاں سعودی عرب میں بھی ہم ایک بقالے پر کھڑے تھے کہ ایک پٹھان بھائی آیا۔ اس نے پوچھا کہ نسوار ہے تو دوکاندار نے اپنے کائونٹر کے کسی دراز سے اسے ایک پڑیا نکال کر دی۔ اسی سے اندازہ لگائیے کہ نسوار کتنی مقدر چیز ہے جو سعودی عرب میں بھی موجود ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ اس کے فروغ کے اقدامات کرے۔ ہم اسے بیرون ملک برآمد کر کے خطیر زرِ مبادلہ بھی کما سکتے ہیں تاہم اولین حق عوام کا ہے۔ مزید براں قرضہ دینے کی بجائے عوام کو ارزاں نرخوں پر نسوار بہم پہنچائی جائے۔

 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s