Leave a comment

پاکستان سپر لیگ

نیوزی لینڈ پاکستان کی ایک روزہ میچوں کی سیریز کیویز نے دو صفر سے جیت لی اور اس پر ہم کچھ نہ لکھ سکے۔ اب تو پاکستان سپر لیگ کا میلہ بھی عروج پر پہنچ چکا ہے۔ ہمارے رائے میں 20 اووز کی کرکٹ اصل کرکٹ کو ختم کر رہی ہے مگر چونکہ اس میں پیسہ بہت ہے اور نتیجہ بھی جلد مل جاتا ہے تو اس کو رہنا تو ہے باقی کہ اب دور ہی پیسے کا ہے۔ پاکستان سپر لیگ کو ہم پھر بھی خوش آمدید اس لئے کہتے ہیں کہ ہمارے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی کچھ کمانے کا موقع ملے گا۔ ہم یہاں ان پندرہ سولہ کھلاڑیوں کا ذکر نہیں کر رہے کہ جو قومی ٹیم کا حصہ بن جاتے ہیں بلکہ ہماری مراد ان لڑکوں سے ہے جو سالہا سال کھیل کر بھی اپنے لئے کچھ کما نہیں پاتے تھے۔

اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے قبل ہی ہماری ہمدردیاں کوئٹہ کے ساتھ سب سے زیادہ تھیں جو کہ اب تک برقرار ہیں۔ وجہ محض یہ کہ کل جب یہ لیگ پاکستان میں آئے گی (ان شا اللہ) تو اس فرنچائز کی بدولت شاید ملک کے اس صوبائی دار الحکومت میں بھی کوئی بین الا قوامی معیار کا سٹیڈیم ہی بن جائے اور ہمارے بلوش بھائی بھی اپنے علاقے میں اپنی ٹیم کو کھیلتا دیکھ سکیں۔ جب کھیل کے میدان اور کتب خانے ویران ہو جائیں تو وہاں ان کی جگہ تشدد اور دہشت گردی لے لیتی ہے۔ آپ 1980 کے عشرے کا پاکستان دیکھ لیں۔ اس میں کھیل بھی عروج پر تھے اور کتب بینی کا شوق بھی۔ ہمارے ڈرامے بھی تفریح کا بہترین ذریعہ تھے۔  ہمارا دشمن اس بات سے آگاہ ہے سو کبھی وہ سکولوں کا رخ کرتا ہے تو کبھی کھلاڑی اس کا نشانہ بنتے ہیں۔

بات چلی اور کہاں سے کہاں نکل گئی۔  پاکستان سپر لیگ میں پانچوں ٹیموں کے نام بہت ہی زبردست ہیں۔ اور آج ٹیموں کے نام و صفات ہی ہمارا موضوع ہیں۔

اسلام آباد یونائیٹڈ:

اسلام آباد کی ٹیم اپنے نام کی طرح متحد ہے۔ پہلے ہی دن یہ بات پر متحد ہو گئے تھے  کہ کوئی میچ نہیں جیتنا اور ابتدائی ہر میچ اسی نیت سے کھیلے۔ اس میں اانھیں کامیابی بھی ہوئی مگر بعد میں دوسری ٹیموں کو بھی پتہ چل گیا تو انھوں نے اس کا توڑ بھی ڈھونڈ نکالا۔ وہ یہ کہ اگر وہ نہیں جیتتے تو کوئی مسئلہ نہیں، ہم ہار جاتے ہیں۔ یوں اب تک اسلام آباد والے دو میچ جیت چکے۔ وزیر اعظم ان کی کارکردگی سے بہت نا خوش ہین اور انھوں نے کابینہ سے کہا ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے تیس فیصد شیئر بیچ دیئے جائیں جس پر اسلام آباد کے کھلاڑیوں نے ہڑتال پر جاتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ وہ نجکاری کا فیصلہ   واپس ہونے تک کوئی میچ نہیں ہاریں گے۔

لاہور قلندر:

اس ٹیم میں سب قلندر ہیں۔ قلندروں کے لئے دنیاوی کامیابی کوئی معنی نہیں رکھتی سو یہ ٹیم ہر میچ ہار کر اپنےحمایتیوں کو دنیا کی بے ثباتی کا درس دے رہی ہے۔ خود اس کے کپتان بھی قلندر بلکہ مہا قلندر ہیں۔بیس اوورز تو انہیں سیٹ ہونے میں لگ جاتے ہیں۔اور ابھی وہ سیٹ ہوتے ہی نہیں کہ رخصتی کا پروانہ آ جاتا ہے۔ اسی ٹیم میں کرس گیل بھی ہیں۔ جن کے متعلق کسی دل جلے کا تبصرہ تھا ‘ نہ نو من تیل ہو گا نہ رادھا ناجے گی۔ نہ قلندر جیتے گی نہ گیل ناچے گا’۔ تب ہمیں پہلی بار پتہ چلا کہ رادھا کیسی ہوتی ہے اور اس رادھا کے لئے تو شاید نو من تیل بھی ناکافی ہو۔ پھر بےشک تیل سستا ہوا ہے لیکن اتنا بھی نہیں کہ رادھا کے ناچ پر لگا دیا جائے۔ ویسے کرس گیل بھی پیدائشی قلندر ہیں۔ وہ دھمال ڈالتے ہیں کہ دیکھنے والے بھی وجد میں آ جاتے ہیں تا ہم اس سپر لیگ میں ابھی تک وہ وجد میں نہیں آ پائے۔ وزیر اعلٰی پنجاب قلندروں کی اس کارکردگی پر سخت نالاں ہیں اور انھوں نے کپتان کو فوری برطرف کر دیا ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ میچوں میں وہی کپتانی کے فرائض سر انجام دیں گے۔

کراچی کنگز:

یہ ٹیم بادشاہوں پر مشتمل ہے۔ تو اس کا کپتان بھی ‘ملک’ ہی ہونا چاہیے۔جس علاقے کی یہ ٹیم ہے اس علاقے کی ایک پارٹی بھی بادشاہ گر(یعنی کہ کنگ میکر) ہے۔ اس ٹیم میں بہت نامی گرامی کھلاڑی موجود ہیں مگر ان کے اختیارات محدود ہیں۔ وہ رنز بنا سکتے ہیں مگر چوکا چھکا لگانے سے پہلے سائیں کو بتانا پڑتا ہے۔ ‘کیچ’ کرنا تو اور بھی مشکل کہ سائیں کی اجازت کے بغیر ‘کیچ’ اختیارات میں تجاوز کے زمرے میں آتا ہے۔ اس لئے کپتان کے لئے لازمی ہے کہ وہ کیچ پکڑنے سے قبل سائیں کو بتائے کہ کس کو کیچ کرنا اور کیوں؟ اگر سائیں اجازت دیں تو سو بسم اللہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس ٹیم کو آپ اکثر کیچ چھوڑتا ہی پائیں گے۔ کپتان کی شدید اصرار پر سائیں نے یقین دلایا ہے کہ یہ مسئلہ عارضی ہے۔ اگلی سپر لیگ سے قبل ہی صوبائی اسمبلی سے ‘کپتان’ کے اختیارات کی توسیع لے لی جائے گی۔

پشاور زلمی:

ہمیں آج ہی کسی نے بتایا کہ زلمی کا مطلب ہے نوجوان۔ سو اس ٹیم میں تمام نوجوان شامل ہیں اور یہی خیبر پختونخواہ میں حکمران پارٹی کا منشور بھی ہے۔  سو اس ٹیم کے قائد بھی اسی صوبے کے نوجوان وزیر اعلٰی ہیں۔ اس ٹیم کا نام بالکل اسم بامسمٰی ہے کہ سبھی نوجوانوں کی پسندیدہ ٹیم یہی ہے کہ اس میں شاہد آفریدی ہیں۔ اور وہ تمام لڑکیوں کے پسندیدہ۔ کہتے ہیں کہ ہاتھی کے پائوں میں سب کا پائوں تو لڑکوں کو بھی وہی ٹیم پسند آنی۔ اس ٹیم کی خوبی یہ ہے کہ اس کو خود بھی نہیں پتہ کہ اگلے یہ کیا کرنے والے ہیں۔ ایک لطیفہ ہے کہ ایک اندھا آرمی سینٹر میں نوکری کے لئے گیا۔ انھوں نے کہا کہ آپ کیا کرو گے تو اس نے کہا کہ میں اندھا دھند فائرنگ کروں گا۔ یہ ٹیم بھی ایسی ہے کہ ہر لمحہ فائرنگ ہی کرتی ہے۔ اب اس کی زد میں کون آتا ہے، یہ ان کا مسئلہ نہیں۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز:

یہ سب سے مشکل نام تھا۔ اس کے لئے ہمیں اپنے دوستوں اور گوگل سے مدد لینا پڑی۔ یہ لوگ شمشیر زن ہیں۔ بلوچوں کے متعلق بھی ہم نے سنا کہ بہت جنگجو ہوتے ہیں۔ اور اس ٹیم میں بھی اوپر کے چار پانچ بلے باز اپنے شعبے کے شمشیر زن ہی ہیں۔ تا ہم شمشیر زنی اب متروک ہو چکی ہے اور اب تو دنیا جدید ہتھیاروں سے لیس ہے مگر ان کی خوش قسمتی کہ ان کے مخالفین نہتے ہیں اور اقبال کے مصرعے’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی’ کے قائل ہیں سو ان کا کام چلا جا رہا ہے

13-02-2016

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s