Leave a comment

کوئٹہ بمقابلہ پشاور

گذشتہ چوبیس گھنٹے کرکٹ کے لئے بہت ہی شاندار رہے۔ پہلے جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کے درمیان انتہائی سنسنی خیر مقابلہ ہوا اور اس کے کچھ ہی دیر بعد کوئٹہ اور پشاور کی ٹیموں میں بھی اعصاب شکن جنگ ہوئی جو کہ کوئٹہ کی فائنل میں رسائی پر ختم ہوئی۔ جب کہ آج صبح صبح اپنا آخری میچ کھیلنے والے میکولم نے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی تیز ترین سینچری کا ریکارڈ بنا ڈالا۔انھوں کے کوئٹہ کے کوچ ویوین رچرڈز اور قومی کپتان مصباح الحق کا ریکارڈ توڑا اور اس میں خاص بات یہ تھی کہ جب وہ کریز پر آئے تو ان کی ٹیم  ہر قسم کی مشکلات میں گھری ہوئی تھی اور بیس اوورز میں نیوزی لینڈ کا سکور بتیس رنز پر 3 آئوٹ تھا۔

پاکستان سپر لیگ کا یہ پہلا میچ تھا جس کا نصف سے زیادہ حصہ ہم نے دیکھا۔ کوئٹہ کی ٹیم سنگارا اور پیٹر سن کے بعد بیٹنگ ہی بھول گئی اورمقررہ بیس اوورز مین ایک سو چونتیس رنزز ہی بنا پائی جب کہ ایک موقع پر ایک سو ساٹھ ستر قابل رسائی تھا۔ کوئٹہ کی بائولنگ ابتدائی تین اوورز کے بعد بہت ہی اچھی تھی مگر ڈیرن سامی کے لاٹھی چارج نے ان کے حواس خطا کر دیئے۔ تاہم سامی کے آئوٹ ہونے کے بعد وہاب ریاض نے میچ میں جان بنائے رکھی اور صورت حال یہ تھی کہ آ خری تین بالوں پر تین رنز درکار تھے اور تین ہی وکٹیں باقی تھیں۔یہاں پر اعزاز چیمہ ہیرو بن کر ابھرے اور انھوں نے رنز کا شاندار دفاع کیا۔  چیمہ نے یارکر کرنے کی کوشش کی جسے وہاب ریاض نے بائونڈی سے پار بھیج دیا۔ یارکر چیمہ کا مضبوط پہلو نہیں ہے سو اس کے بعد وہ اس سے باز آ گئے اور انھوں نے اپنی طاقت یعنی کہ شارٹ اور گڈ لینتھ گیندیں کرانا اور بیٹسمین کو ہٹ مارنے کے لئے جگہ نہ دینے کی پالیسی اپنائی اور اس کا انھیں خاطر خواہ فائدہ ہوا۔ دوسری بڑی وجہ ان کی کامیابی کے لئے کوشش کرنا اور جان لڑانا تھی۔ جب وہ اپنی گیند پر کیچ کی کوشش کر رہے تھے تو رمیض راجہ کہہ رہے تھے کہ چیمہ کوئی بہت اچھے فیلڈر نہیں۔ وہ بے شک کوئی بہت اعلٰی فیلڈر نہیں مگر انھوں نے جان لڑائی اور ان کی کوشش کا صلہ یہ ملا کہ وہ ایک مشکل کیچ پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

تصویر کے دوسرے رخ پر وہاب ریاض ہیں۔ وہ قومی ٹیم کے باقاعدہ رکن ہیں اور انھوں نے وہی کیا جو کہ ایسے موقع پر ہماری ٹیم آج کل کر رہی ہے۔ یعنی کہ جب تک کوئی دبائو نہیں خوب کھیلو اور جونہہ دبائو کا مقام ہے معاملہ کسی اور پر ڈال کر بھاگ جائو۔ گذشتہ چار چھ سالوں سے ہم ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی میں یہی دیکھ رہے ہیں۔ ٹیسٹ میں ابھی یونس اور مصباح باقی ہیں سو ابھی آس ٹوٹی نہیں۔سو وہاب ریاض نے یہی کیا۔ یاد رہے کہ وقار یونس پشاور کے کوچ نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ویوین رچرڈ کی وہاں موجود گی کے باوجود آکری پانچ اوورز میں کوئٹہ کی ٹیم نے محض بیس رنز بنائے اور اس کی  غالبًا پانچ وکٹیں گریں۔ نیز یہ کہ اعزاز چیمہ کو سر ویوین نے مشورہ نہیں دیا تھا کہ یارکر نہ کرائو۔ ویوین رچرڈ کا جڈبہ بلاشبہ قابل ستائش ہے اور ہر وکٹ پر ان کا جوش بلاشبہ میچ کی جان تھا مگر آپ کو ٹیم بھی لڑتی نظر آتی ہے۔ آپ سرفراز کا میچ جیتنے پر انداز ملاحظہ کیجیے۔ کبھی پاکستان ٹیم کے کسی کپتان کو ایسے خوش ہوتے دیکھا ہے۔ کیونکہ ہم نے حال ہی میں ایسا کوئی میچ جیتا ہو تو ایسا موقع آیا ہو ناں۔

کل کا میچ بیرطور شاندار تھا اور یہ پاکستان سپر لیگ اور کرکٹ کی جیت تھا۔ امید ہے کہ اگلے تینوں میچ بھی ایسے ہی شاندار ہوں گے۔ سب سے بڑھ کے جب لکھا آیا کہ آج کا میچ فل ہائوس اور وہ بھی دیارِ غیر میں تو از حد خوشی ہوئی۔

20-02-2016

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s