Leave a comment

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں

وہ سب بہت خوش تھے۔ اس دن کا انہوں نے کتنا انتظار کیا تھا۔شادی کے سات سال بعد اللہ تعالٰی نے ان کی سن لی تھی۔ اور ایک پیاری سی بیٹی سے نوازا تھا۔

شہاب خود تو خاموش تھا مگر اس کی خوشی دیدنی تھی۔ مسرت اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی۔ زینب بچی کی بلائیں لے رہی تھی۔ بچی کے دادا دادی تو دوبارہ سے جی اٹھے تھے۔ انھوں نے بچی کا صدقہ دیا اور سارے خاندان کی دعوت کی تھی۔

شہاب خود بھی والدین کا اکلوتا تھا۔ ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ ماں باپ نے اچھی تربیت کی تھی اور تعلیم بھی مقدور بھر دلائی تھی۔ ماسٹر کے بعد ایک پرائیویٹ ادارے میں ایک اچھی جاب مل گئی تھی۔ مکان تو اپنا تھا ہی سو گزر بسر کا مسئلہ نہیں تھا۔ روزگار کے کچھ ہی عرصے بعد اس کی شادی کر دی اس کے والدین نے اپنے جاننے والوں میں۔

شہاب کے والدین کو اسکی اولاد کی شدت سے تمنا تھی۔ وہ بھی گھر کے سونے آنگن میں نئے وجود کی کلکاریاں سننے کو بے تاب تھے۔ سال بھر جب کچھ نہ ہوا تو شہاب اور زینب دونوں نے علاج کا فیصلہ کیا۔ علاج شروع ہو گیا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ اسی میں تین سال مزید گزر گئے اور اب اس کے والدین نے اس کو دوسری شادی کے لئے کہنا شروع کر دیا۔ زینب کے لئے یہ ایک صدمے سے کم نہ تھا۔ تاہم شہاب نے اسے یقین دلایا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم صاحب اولاد ہو جائیں گے مگر زینب عورت تھی۔ اس کے دل میں وسوسے موجود تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی صحت خراب ہونے لگی۔ شادی کے پانچویں سال وہ امید سے ہوئی مگر خراب صحت کی بنا پر ایک ماہ بعد ہی اس کی جان بچانے کے لئے اسقاط کرنا پڑا۔ ایک بار پھر وہ خاندان امیدوں کے دیوں سے مایوسیوں کے اندھیرے میں گر چکا تھا۔

چھٹے برس ایک بار پھر وہ امید سے ہوئی۔ اب تو اسے ہاتھ کا چھالا بنا لیا گیا۔ اس سے کوئی کام نہیں کروایا جاتا اور اس کی خوراک کا خاص خیال رکھا جاتا۔ ان سب کوششوں اور بے پناہ دعائوں کے باوجود بھی طبی پیچیدگی کے باعث بچی کی ولادت بڑے آپریشن سے ہوئی اور بتا دیا گیا کہ زینب اب دوبارہ ماں نہیں بن سکتی۔ انھیں کچھ دکھ تو ہوا مگر بچی کی خوشی میں کچھ خیال نہ کیا اور یوں ننھی صالحہ اس گھر میں آ گئی

اب گھر کے در و دیوار میں ایک عجیب سے سرخوشی تھی۔ دادا دادی کو بھی ایک کھلونا مل گیا تھا۔ زینب کام کاج میں مصروف ہوتی تو صالحہ کا خیال دادا دادی رکھتے۔ دادی گود میں بٹھائے رکھتیں تو دادا کندھے پر سر ٹکا کے باہر کی سیر کراتے۔

اب وہ سال بھر کی ہو چکی تھی اور توتلی آواز میں باتیں کرتی تھی جس پر گھر والے سو جان سے فدا ہو جاتے تھے۔اس کی معصومانہ شرارتیں زندگی کی ضامن تھیں۔

زندگی اپنی ڈگر پر رواں تھی کہ ایک دن جب وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ گھر کے قریبی پارک میں کھیل رہی تھی۔ بہار کا موسم تھا۔ ٹھیڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی اور بادل چھائے ہوئے تھےکہ اچانک ایک دھاتی ڈور آئی اور صالحہ کے گلے سے خون کا فوارہ ابل پڑا۔ والدین کے تو ہوش ہی اڑ گئے یہ حالت دیکھ کر اور اسے اٹھا کر ہسپتال بھاگے۔ والدہ اپنے دوپٹے سے اپنی بیٹی کا خون روکنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی اور والد شہاب سرپٹ گاڑی دوڑا رہا تھا۔ صالحہ کی غیر ہوتی حالت اور اس کے چہرے پر چھا جانے والی زردی ان کی آنکھوں کے سامنے تھی اور ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کی حالت خود پر لے کر اسےدوبارہ پہلے والی حالت پر لے جائیں۔

خیر آدھ گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد جب وہ ہسپتال پہنچے تو ایک اور مصیبت ان کی منتطر تھی۔ ڈاکٹر کم تنخوائوں کے خلاف احتجاج پر سڑک پر تھے اور ایمرجنسی خالی پڑی تھی۔ ادھر صالحہ کی حالت تھی کہ بگرٹی جا رہی تھی۔ ایک نرس نے کچھ ذخم صاف کیا اور انجکشن لگایا اورکسی پرائیویٹ ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ شہاب اور زینب پرائیویٹ ہسپتال کی طرف روانہ ہوئے مگر ابھی رستے میں ہی تھے کہ صالحہ کی تکلیف اور اذیت ختم ہو گئی اور اس کے والدین اور دادا دادی کو عمر بھر کی اذیت میں مبتلا کر گئی۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s