Leave a comment

بچے ہمارے عہد کے

 

ہم اپنے بچپن کا آج کے بچوں سے موازنہ کرتے ہیں تو انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ہمیں نہ تو کھانے پینے کا پتہ تھا اور نہ ہی بڑوں سے بات کرنے کا طریقہ۔ جدھر کسی نے بٹھایا بیٹھ گئے۔ جو ملا پہن لیا اور جو کھانے کو کسی نے دیا وہی کھا لیا۔ ‘لیز’ اور ‘چپس’ جیسی وبائیں تو ابھی آئی ہی نہیں تھیں۔ سو دال روٹی اور چٹنی پر ہی گزارا تھا۔ کسی چیز کی فرمائش بھی نہیں کی کہ حالات اجازت ہی نہیں دیتے تھے۔

 ہم تو بالکل ہی بدھو تھے۔ ایک مدت تک حیران و پریشان رہے کہ ٹی وی میں بندے اندر گھستے کہاں سے ہیں۔ریموٹ کنٹرول، موبائل، لیپ ٹاپ تو اب تک ہم گزارا لائق ہی استعمال کر پاتے ہیں۔ہمارا کیا ہمارے اکثر ہم عصروں کا یہی حال ہے۔ کہیں مشکل مقام آئے تو اپنے بچوں سے کام لیتے ہیں۔موبائل، ویڈیو گیمز اور دیگر برقی آلات تو دو دو سال کے بچے بھی ایسے استعمال کرتے ہیں گویا اوپر سے ہی کوئی تربیت لے کر آئے ہیں۔

 ہمارے بھائی کے ایک دوست کا کہنا ہے ‘ آج کل والدین اولاد کو نہیں، بلکہ اپنے ماں باپ کو جنم دیتے ہیں’۔ایک بیان میں مولانا ذوالفقار صاحب فرما رہے تھے کہ بچےگناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔   معصوم تو ہر گز نہیں ہوتے۔ اپنی بات پہنچانے اور منانے کا ہر ڈھنگ انھیں آتا ہے۔ آپ ان کی مرضی کے خلاف کوئی کام کریں تو وہ اودھم مچائیں گے، روئیں گے پیٹیں گے، زمین پر لیٹیں گے کہ آپ کے پاس ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں رہے گا۔

ایسی ایسی حرکتیں اور شرارتیں سوجھتی ہیں کہ دوسرا بندہ دنگ رہ جاتا ہے کہ یہ کام کوئی بھلا چند سال کا بچہ کر رہا ہے۔ ہمارا طہٰ محض دو سال کا ہے مگر شرارتوں میں کسی سے کم نہیں۔ اس کی والدہ بڑے بہن بھائی کو کسی بات پر تنبیہہ کے لئے اگر تھپڑ مارے تو رخسار کی دوسری سمت وہ مار دیتا ہے کہ توازن برقرار رہے۔  جب اپنی امی کو دیکھتا ہے کہ بڑے بھائی اور بہن پر غصہ کر رہی ہیں تو فورًا انھیں جوتا پکڑاتا ہے کہ دو لگا کر اپنا غصہ ٹھنڈا کر لین۔ والدہ بچوں کو پڑھنے کے لئے کہیں گی تو بڑوں کے بستے لا کر فرار کی سب راہیں بند کر دے گا۔ہماری ایک مصنفہ دوست کا بھتیجا بھی ایسا ہی ہے۔ اگر وہ کوئی ایسی بات کریں جو اسے ناگوار گزرے  تو ان کا ہاتھ پکڑتا ہے اور انھیں ان کے رائٹنگ ٹیبل پر چھوڑ آتا ہے کہ یہاں بیٹھ کر لکھو اور مجھے تنگ نہ کرو۔

ہمارے ایک دوست کا بیٹا اوپری منزل پر کھیل رہا تھا کہہ اسے حاجت ضروریہ پیش آئی۔اوپری منزل پر بس سٹور اور کھلا ٹیرس تھا۔ اس کا دبائو بھی شاید زیادہ تھا اور بچوں میں برداشت بھی کم ہوتی ہے۔ اس نے ریلنگ کے سوراخ سے ہی اپنی ضرورت پوری کر لی۔ نیچے اس کے ابا موجود تھے۔کیا دیکھتے ہیں کہ اچانک پانی چھت سے ٹپکنے لگا۔ اوپر نگاہ دو ڑائی تو علم ہوا کہ اپنے ہی لختِ جگر کا پرنالہ کھلا ہوا ہے۔

بچوں کا دماغ چونکہ سلیٹ کی مانند ہوتا ہے تو اس پر با آسانی سب کچھ لکھا جا سکتا ہے۔ اور بچوں کی قوت مشاہدہ بھی بہت تیز ہوتی ہے۔ وہ جو چیز دیکھتے اور سنتے ہیں اپنے حافظے میں نقش کرتے جاتے ہیں۔ جب ہم ماسٹرز کے طالب علم تھے تو ہمارے ایک ہم جماعت اس وقت میجر تھے۔ انھوں نے ایک دن اپنی تین سالہ بیٹی سے کھیل کھیل میں کہا کہ چلو ایسا کرتے ہیں کہ پاپا ضحٰی بن جاتے ہیں اور آپ ضحٰی بن جائو۔ بیٹی نے کہا کہ ٹھیک ہے۔ میجر صاحب نے کہا ‘پاپا آج ہمیں پارک لے جائیں’۔ ان کی بیٹی نے انتہائی سنجیدگی سے کہا’ بیٹا آج میری کلاس ہے۔ ویک اینڈ پر لے جائوں گا’۔

آج کل چونکہ بچوں کو گھر سے باہر کھیلنے کودنے کے مواقع بہت کم  ملتے ہیں تو وہ گھر کے اندر ہی اپنے لئے سرگرمیاں ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ہمارے بعض دوستوں کے بچے کھیل کھیل میں خود ہی امی ابو بن جاتے ہیں۔بیٹا ہوا تو وہ ابو بن گیا اور بیٹی امی۔ پھر وہ اپنے ابا امی کی نقل کرنے لگتے۔

‘اسلم آپ گھر دیر سے کیوں آئے؟’

بیگم آفس میں کام ہی اتنا تھا۔

میں نے آج کچھ نہیں پکایا

اب میں کھائوں گا کیا؟

میں کیا کرتی آپ کے بچوں نے ہی اتنا تنگ کر رکھا تھا۔

اور یہ مکالمے اس مہارت اور خوبی سے ادا کرتے ہیں کہ ان کے والدین بھی انھیں دیکھ کر حیران و پریشان۔

کچھ بچے تو بہت ہی سادہ بھی ہوتے ہیں۔ ایک جوڑے کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام ‘خدیجہ’ تھا۔ ظاہر ہے

 والدین اسی کا نام لیتے تھے اور اس نے انھیں یہ نام لیتے سنا تھا۔ چنانچہ اس کو اپنے والدین کو مخاطب کرنا پڑتا تو وہ بھی انھیں ‘خدیجہ’ کہہ کر ہی بلاتی تھی۔

اک صاحب کی بیٹی اپنی بڑی بہن کو ‘بابا’ کہتی تھی۔ اس کے والدنے بتایا کہ جب وہ یا اس کے والدہ اس بچی کو ڈانٹیں تو وہ اپنی بڑی بہن کے پاس جاتی ہے اور ‘بابا’ کہہ کر گلے لگ جاتی ہے۔

اکثر والدین اپنے بچوں کو بہلا پھسلا کر کام نکالتے ہیں۔ کبھی لوگ کوئی چیز دیتے ہیں’ کبھی تعریف کرتے ہیں اور کبھی جذباتی کر کے کام نکلواتے ہیں۔ ہمارے ایک  چچا کو اپنے بیٹوں سے کام ہوتا تھا تو وہ کہتے تھے کہ تو مینڈا پتر نئیں( کیا تم میرے بیٹے نہیں ہو)۔  ایک بار یوں ہوا کہ ان چچا کو شہر جانا تھا اور ان کے چھوٹے بیٹے کا بھی دل کر رہا تھا جانے کو۔ جب اس نے دیکھا کہ والد صاحب نہیں مان رہے یعنی کہ گھی سیدھی انگلیوں سے نہیں نکل رہا تو بولا ‘ ابا مینوں گھن ونج ناں۔ ابا تو مینڈا پتر نئیں( ابو مجھے لے جائو۔ ابو کیا آپ میرے بیٹے نہیں ہو)۔ اس مکالمے کے بعد چچا جان سعادت مند بیٹے کی طرح اسے ساتھ لے کر شہر گئے۔ 

بچے جیسے بھی ہوں من کے سچے ہوتے ہین اور جھوٹ بولنا انھیں نہیں آتا۔گھر والوں کا اکثر بھانڈا وہ بیچ چوک میں پھوڑتے ہیں۔ ہمارے بچپن کی بات ہے کہ ہماری والدہ اور نانی ہمارے چھوٹے بھائی کو کسی کے گھر لے گئیں۔ وہاں انھوں نے کھانے کو کافی کچھ رکھا تھا اور چھوٹے بھائی نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ جب ہم ان کو بلانے گئے تو بھائی نے میزبانوں کے سامنے ہمیں کہا۔ ‘بھائی اندر آ جائو۔ بہت مزے کی چیزیں ہیں۔ اپ بھی کھائو۔ ہمارے گھر میں تو یہ چیزیں ہوتی ہی نہیں’۔

 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s