Leave a comment

حیات بخش یا حیات کُش مشروب

ایک پوسٹ نظر سے گزری ہے جس میں گوالوں، دودھ اور پائوڈر کا تذکرہ ہے۔ پوسٹ میں درج ہے’جس ملک کے گوالے دودھ میں میت کو لگانے والا پوڈر استعمال کریں، اس ملک کے عوام کے معدوں اور زندگیوں کا اللہ ہی حافظ ہی پھر تو۔ ہسپتالوں میں یہ پوڈر عام طور پر میتوں کو لگاتے ہیں تا کہ وہ ایک ہفتہ تک محفوظ رہیں۔ گوالوں کو خدا سمجھے اس زہر کو دودھ میں ملا رہے ہیں تا کہ وہ خراب نہ ہو۔’

 ہمارے از حد محترم  ابن انشاء ‘اردو کی آخری کتاب میں’ بھینس کے باب میں لکھتے ہیں۔’ بھینس دودھ دیتی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہوتا لہذٰا  باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور ان کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے۔’ معلوم ہوا کہ دودھ میں ملاوٹ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ پرانے زمانے سے یہ رسم جاری ہے بلکہ سچ کہا جائے تو یہ ہماری معاشرت اور ثقافت کا ایک جزو ہے۔اور ایسی چیزوں سے قوم کی  شناخت ہوتی ہے تو  اپنی ثقافت کی حفاظت بھی قوم کی اجتماعی ذمہ داری ہوتی ہے اور باقی معاملات کا تو ہمیں علم نہیں مگر اپنی اس ثقافت کا قوم نہیں تو گوالے برادری تو  تن من دھن سے  حفاظت کر رہی ہے کہ اس کو گردشِ حالات سے بچایا جا سکے۔   اس زمانے میں سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی تو گوالے بھی محض پانی ہی ڈالتے تھے دودھ میں۔پوڈر وغیرہ ڈالنے کا خیال ان کے ذہن میں کبھی نہیں آیا۔

اما بعد نیا زمانہ آیا اور نئی نئی ایجادات ہوئیں۔کسان جو  بیلوں سےہل چلاتے تھے ان کی جگہ ٹریکٹروں نے لے لی۔ گوبر کی جگہ کھاد آ گئی اور اس کھاد کی بنا پر ہماری خوراک میں خود بخود  کیمیائی اجزاء شامل ہو گئے۔ الیکٹرونک ایجادات عام ہوئیں۔ بجلی ہر گھر کی ضرورت بنی اور روزمرہ کی اشیا کو فریجوں اور سٹوروں میں محفوظ کیا جانے لگےا جس سے ان کی عمر میں اضافہ ہو گیا۔ پاکستانی عوام کی اکثریت نا آشنا تھی جبکہ اب وہ ہماری روزمرہ میں شامل ہیں۔ ایسی ہی چھوٹے بچے کچھ عرصہ تو والدائوں کا دودھ پیتے تھے اور اس کے بعد گائے یا بکری کا۔  مگر پھر پوڈر کی شکل میں دودھ دستیاب ہو گیا بچوں کا۔ اب تو یہ عالم ہے کہ بڑوں کے لئے بھی خشک دودھ کے ڈبے موجود ہیں۔ پتی بھی ٹی بیگز کی شکل میں دستیاب ہے۔

وقت کے ساتھ گوالوں نے بھی ان ایجادات سے مستفید ہونا شروع کر دیا۔ پہلے دودھ مقامی طور پر فروخت ہوتا تھا۔ اور روز کا روز استعمال ہوتا تھا۔ یہی حال گوشت کا تھا۔ قربانی پر گوشت کا بڑا حصہ تقسیم کر دیا جاتا تھا تا کہ ضائع نہ ہو مگر فریج کی بدولت اس مشکل سے لوگوں کی جان چھوٹی اور اب قربانی کے گوشت کا بھی کبیر حصہ فریج کے پیٹ بھرنے کے کام آتا ہے۔

 پہلے دودھ کو زیادہ عرصہ تک محفوظ کرنے کے لئے رکھنا اک کارِ دشوار تھا۔  فریج اور سٹورز کی مدد  سے اب یہ قریبی شہروں میں بھی پہنچنے لگا۔ پھر ٹیکنالوجی میں ترقی کے باعث دور دراز شہروں میں بھی دودھ برآمد ہونے لگا۔ یہ سلسلہ دو ہزار کے ابتدائی سالوں  تک چلا۔ جب بجلی کا بحران شروع ہوا تو اس کا اثر دودھ کی صنعت پر بھی پڑا کہ ان کا دودھ بجلی کی بندش کے باعث جلدی خراب ہونے لگا۔ ان دنوں ہم نے سنا کہ دودھ میں کھاد ڈالی جاتی ہے تا کہ جلد خراب نہ ہو۔ ہمیں یہ بات زیادہ ناگوار نہیں گزری کہ کھاد بڑے کام کی چیز ہے۔ فصلوں کو کئی گنا زیادہ کر دیتی ہے۔ضرور دودھ کو بھی زیادہ کر دیتی ہوگی۔ آخر یہ بھی تو انسانوں کے استعمال کی چیز ہے۔ خود چوپائے بھی تو چارے میں وہ فصلیں نوشِ جان کرتے ہیں جو کہ اس کیمیائی کھاد کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ سو دودھ تو بنتا ہی اسی کیمیائی کھاد سے ہے تو اگر اس میں دوبارہ کھاد ملا لی جائے تو اس میں کیا حرج ہے؟

تاہم مردوں پر استعمال ہونے والے پوڈر کا استعمال ہمیں برا لگا۔ ہم نے پاکستان مین ایک گوالے سے پوچھا کہ یہ کیا حرکت ہے؟انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ پانی کافی نہیں تھا جو تم لوگ اب دودھ میں ایسا مضر صحت بلکہ انسان کش پائوڈر بھی ملانے لگے ہو۔   کہنے لگا کہ اس میں حرج ہی کیا ہے۔ یہ بالکل بھی انسان دشمن پائوڈر نہیں بلکہ  وٹامن سے پھرپور پائوڈر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بناسپتی گھی وٹامن اے اور ڈی سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس کی افادیت دیکھیں کہ مردے کے اجزاء جو لمحہ لمحہ جدا ہو رہے ہوتے ہیں، ان کو بھی یک جان رکھتا ہے تو ایک زندہ انسان کے لئے یہ پائوڈر کس قدر سودمند ثابت ہو گا۔ بقول شاعر

چال میں تیر ی سستی اور آنکھوں میں نمی ھے

 اے قوم پوڈر والا دودھ استعمال کر تجھ میں کیلشیم کی کمی ھے

ہم نے کہا کہ ایک تو  غلط کام کرتے ہو اور اس پر بحث بھی کرتے ہو۔ چوری اور سینہ زوری۔ اس پر وہ تھوڑا شرمندہ ہوا۔ ایک لمحے کے لئے کچھ سوچا اور پھر کہنے لگا۔’ ہم دودھ بھی تو مردوں کو ہی دیتے ہیں۔ بھلا سانس لینے کو کوئی جینا کہتا ہے۔ خود ڈاکٹر بھی کئی زندہ مریضوں کو ‘طبی مردہ’ قرار دیتے ہیں۔ قوم مردہ ہے تو ہی یہ دھندہ چل رہا ہے ورنہ یہ ملک ایسے تھوڑی چل رہا ہوتا۔ ستر سال میں کوئی نظام ہی بن پایا۔ ہمیں تو خود لوگوں نے اجازت دے رکھی ہے۔ یوں بھی یہ قوم خالص چیز برداشت ہی نہیں کر سکتی۔ کوئی ایک ایسی چیز بتا دیں  کہ جس میں  ملاوٹ نہ ہو۔اسلام تک میں ملاوٹ کر لیتی ہے یہ قوم۔ اگر اس کو ہم خالص دودھ دے دیں تو اگلے دن شکایت آئے گی کہ یہ تم کیسا دودھ لے آئے سارے گھر کا معدہ خواب ہو گیا۔ پہلے والا دودھ ٹھیک تھا۔ ۔ یوں بھی پوڈر اس قوم کے رگ و پے میں بسا ہی ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر ہو، دہشت گردی ہو، مہنگائی ہو، لوڈ شیڈنگ ہو، بد عنوانی ہو قوم تو ویسے ہی پوڈر پی کر سوئی ہوئی ہے۔ بس بیان دیا یا پھر فیس بک پر پوسٹ لگائی۔ یہی فرض تھا قوم کا ، اس نے ادا کر دیا  اور پھر پوڈر کے زیر اثر ہو گئی۔ ہم تو پوڈرکے الگ سے پیسے بھی وصول نہیں کرتے۔ اپنے پلے سے خرچہ اٹھاتے ہیں۔

دیگر یہ  کہ آپ لوگ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے پوڈر  دے دیتے ہو۔ وہ اس  کا عادی ہو جاتا ہے۔ مائوں کا دودھ تو بچے پیتے ہی نہیں، ہرانے زمانے میں مائوں کو کوئی بات منوانی ہوتی تھی تو کہتی تھیں کہ میری بات مانو ورنہ تمھیں اپنا دودھ نہیں بخشوں گی۔ اب کبھی ایسا جملہ آپ نے نہیں سنا ہو گا کیونکہ بچے کو دودھ ہم پلاتے ہیں یا پھر ‘مےجی’ اور ‘ایوریڈے’ والے’۔اس پر ہمیں اکبر الہ آبادی مرحوم یاد آئے جو ایک صدی قبل ہی کہہ گئے تھے

طفل سے بو آے کيا ماں باپ کے اطوار کى

دودھ تو ڈبے کا ھے، تعلیم ھے سرکار کى

اب ہمارے پاس کہنے کو کچھ نہ تھابات تو گوالے کی بھی سچ تھی۔اور سچ تھا بھی کڑوا کہ اس حالت کے ہم سبھی ذمہ دار ہیں۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s