Leave a comment

ایک روزہ کرکٹ میں پاکستان کے مسائل

پاکستان نے برطانیہ سے ٹیسیٹ سیریز 2-2 سے برابر کر لی اور اگر قسمت نے یاوری کی تو شاید پاکستان اگلے چند دن میں پہلی بار ٹیسٹ رینکنگ میں اول پوزیشن بھی حاصل کر لے گا مگر اصل امتحان کا ابھی آغاز ہونے والا ہے۔ وہ ہے پاکستان کی ایک روزہ میچز میں کارکردگی۔ گو کہ کل پاکستان نے آئرلینڈ کو بآسانی زیر کر لیا مگر اصل امتحان برطانیہ سے سیریز ہے۔ برطانیہ سے پاکستان 1974 کے بعد سے برطانیہ میں ایک روزہ سیریز نہیں جیتا ہے اور اس بار تو یہ اور بھی مشکل لگ رہا ہے کہ ہماری قومی ٹیم ایک روزہ میچوں کی درجہ بندی میں  نویں نمبر پر ہے۔ گویا کہ ایک کسی بھی قابل ذکر ملک سے نیچے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ہماری ایک روزہ کارکردگی معیار سے بہت کمتر رہی ہے۔ 2010 کے بعد سے اب تک ماسوائے ویسٹ انڈیز کے ہمیں ہر ملک نے شکست دی ہے اور برطانیہ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ نے تو ہمیں اپنے گڑھ یعنی کہ متحدہ عرب امارات میں بھی دو دو بار شکست سے ہم کنار کیا جبکہ بنگلہ دیش نے ہمیں اپنے ملک میں کلین سویپ کی خفت سے دو چار کیا۔ ہم بآسانی کپتان اور کوچ پر ملبہ گرا کر اور انھیں ذمہ دار قرار دے کر اپنے بھڑاس نکال لیتے ہیں جبکہ حالات ذرا گہری نظر سے جائزہ لینے کے متقاضی ہیں۔

اظہر علی اس وقت ٹیم کے کپتان ہیں اور ان کی کپتانی پر سوالیہ نشان ہیں۔ ان کی موجودہ فارم ان کی ٹیم میں شمولیت پر بھی سوال اٹھا رہی ہے مگر میری ذاتی رائے میں وہ ٹیم میں ہونے چاہییں۔ فارم ایک عارضی چیز ہے بلکہ اپنی فارم وہ ٹیسٹ سیریز میں ثابت کر چکے ہیں۔ بس ایک روزہ میں ابھی انھیں ایک اچھی اننگز کی ضرورت ہے۔ اب اگلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کپتان کون ہو؟ اس ٹیم میں سرفراز کے علاوہ کوئی بھی کھلاڑی ایسا نہیں کہ اس کی جگہ ٹیم میں مستقل ہو اور سرفراز تینوں فرامیٹس میں پاکستان کے وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں تو ان پر کپتانی کی ذمہ داری ان کے ساتھ زیادتی ہو گی۔سو اظہر علی کو کچھ عرصے تک کپتان رہنا چاہیےاور ان کو اعتماد دینا چاہیے۔ یاد رہے کہ ہم مصباح اور آفریدی کی کپتانی میں بھی سیریزیں ہارے ہیں اور آفریدی،مصباح، عبد الرزاق، سعید اجمل اور دیگر کھلاڑیوں کی معاونت بھی حاصل تھی۔

اس ٹیم میں کوئی بھی اتنا نامی کھلاڑی نہیں ہے بلکہ ہمارا کوئی بھی کھلاڑی خواہ وہ بلے باز ہو یا گیند باز وہ ابتدائی بیس بین الاقوامی کھلاڑیوں کی درجہ بندی میں شامل نہیں۔ بلاشبہ یہ درجہ بندی کھلاڑیوں کی اہلیت  مکمل طاہر نہیں کرتی مگر ان کی مستقل مزاجی کا تو ثبوت ہوتی ہے تو وہ بھی ہمارے کھلاڑیوں میں نہیں ہے۔

ہماری ہار کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے کرکٹ میں ہونے والی تبدیلیوں سے خود کو ہم آہنگ نہیں کیا۔ ہم ابھی تک 1990 کی دہائی کے ‘وننگ فارمولے’ سے باہر نہیں نکل پائے۔ نوے کی دہائی میں ہمارا ٹارگٹ قریب ڈھائی سو سکور کرنا ہوتا تھا اور پھر ہمارے بائولرز ہمیں ایسے نوے فیصد میچ جیتا دیتے تھے۔ ایک تبصرہ نگار کی بات بہت اچھی لگی ان کا کہنا تھا ‘ لوگ نوے کی دہائی میں پاکستان کی جیتوں کا سہرا ان کے گیند بازوں کے سر باندھتے ہیں۔ بلاشبہ وہ اعلٰی پائے کے گیند باز تھے مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ نوے کے عشرے کے پاکستانی بلے باز بھی اپنے ہم عصروں سے کہیں آگے تھے۔’ ہمارے پاس اب اس پائے کے گیند باز نہیں تو بلے باز بھی ہم دیکھنے کو ترستے ہیں۔

اس کے علاوہ ہماری ٹیم کا توازن بھی درست نہیں۔ نوے کی دہائی میں کرکٹ بالخصوص ایک روزہ ماہرین کا کھیل تھا۔ یعنی کہ پانچ بلے باز بانچ گیند باز اور ایک وکٹ کیپر۔ ایک آدھ اچھا آل رائونڈر بھی ٹیم کا حصہ ہوتا تو ٹیم کا توازن زیادہ اچھا ہو جاتا تھا مگر اب یہ طریقہ پرانا ہو چکا ہے۔ اب ٹیم میں کم از کم دو آل رائونڈرز ہونے چاہییں۔ یعنی کہ بوقت ضرورت بلے باز کچھ اوورز کروا سکے اور گیند باز کچھ رنز سے ٹیم کے سکور میں اضافہ کر سکے۔ ہمارے موجودہ بلے بازوں میں شعیب ملک ہی ایسے ہیں جو کہ کچھ اوورز کروا سکتے ہیں۔ دوسرا شعبہ یعنی کہ گیند بازوں کے رنز والا تو اور بھی کمزور ہے۔ ہماری ٹیل قریب قریب دنیا کی سب سے بڑی ٹیل ہے۔  ساتویں نمبر کے بعد چلتی پھرتی وکٹیں ہیں۔ جبکہ نوے کی دہائی اور 2000 کے شروع میں ہماری ٹیل معین/راشد، عبدالرزاق، اظہر محمود، وسیم اکرم جیسے کھلاڑیوں پر مشتمل تھی جو کہ بوقت ضرورت اہم اور تیز رنز بنا لیتے تھے۔

ہمیں ایسے بلے بازوں کی ضرورت ہے جو کہ سو کے سٹرائیک ریٹ سے کھیل سکتے ہوں غیر ضروری خطرہ لئے بغیر۔  اس سلسلے میں جسمانی فٹنس بھی اہم ہے کہ ہمارے کھلاڑی جہاں تین رنز بنتے ہوں وہاں دو لیتے ہیں اور جہاں دوسری ٹیمیں دو لیتی ہیں وہاں ایک رن لیتے ہوئے بھی اکثر وکٹ گنوا بیٹھتے ہیں۔ نیز ہماری کھلاڑیوں میں سنگلز ڈبلز کی افادیت ذہن نشین کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں کی ترجیح چوکے چھکے لگانا ہوتا ہے جو کہ بین الاقوامی کرکٹ میں ایسا آسان بھی نہیں جیسا کہ گمان کیا جاتا ہے۔

ہمیں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو’ذاتی بہتری’ پر یقین رکھتے ہوں۔ یعنی کہ ہمارا نیا کھلاڑی آئے گا اور اچھی کارکردگی دکھائے گا۔ صہیب مقصود، شاہد آفریدی، عمر اکمل، اور دیگر کچھ کھلاڑی ذہن میں اتے ہیں کہ ابتدا میں انھوں نے اچھی کارکردگی دکھائی مگر جب دوسری ٹیموں نے ان کی خامیاں ڈھونڈ لیں تو انھوں نے ان کو ٹھیک کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ابھی کل ہی شرجیل نے ڈیڑھ سینکڑا سکور کیا مگر دیکھنے کی ضرورت ہے کہ جب چند میچوں کے بعد مخالفین ان کی کمزوریاں ڈھونڈ لیں گی تو وہ ان کا جواب کیسے دیتے ہیں؟

 ہماری فیلڈنگ کا معیار انتہائی پست ہے۔ اگر کہا جائے کہ ون ڈے کرکٹ کھیلنے والی ٹیموں میں ہماری فیلڈنگ بنگلہ دیش اور زمبابوے سے بھی کم تر ہے تو یہ بے جا نہ ہو گا۔ سو کھلاڑیوں کو فیلڈنگ کے لئے ترغیب دینی ہو گی۔ کیچ اور رن آئوٹ پر انعام ہونا چاہیے۔ بلکہ اچھے فیلڈر کو دوسروں پر ترجیح دینی چاہیے۔ جونٹی رہوڈز کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ وہ ابتدا میں بطور فیلڈر ہی ٹیم میں شامل کیے جاتے تھے اور بیٹنگ ان کی اضافی خوبی تھی۔

تیس سال سے زائد کرکٹ سے وابستہ رہنے کے بعد جو سب سے بڑی خامی اس ٹیم میں نظر آئی ہے وہ ذہنی نا پختگی ہے۔ یاد رہے کہ بین الاقوامی کھلاڑیوں میں صلاحیت کے اعتبار سے انیس بیس کا فرق ہوتا ہے۔ انھیں جو چیز ممتاز کرتی ہے وہ ذہنی پختگی ہے۔ بڑا کھلاڑی وہ مانا جاتا ہے جو ناموافق حالات میں رنز بناتا یا وکٹیں لیتا ہے۔ ہمارے کھلاڑیوں میں اسی کی کمی ہے۔ بہت سے میچ ایسے ہیں کہ جو ہم بآسانی جیت سکتے تھے مگر تھوڑا دبائو آیا اور ہمارے کھلاڑیوں نے ہمت ہار دی۔2013 میں شارجہ میں ہمیں جنوبی افریقہ کے خلاف 37 بالوں پر 20 رنز چاہیے تھے اور چھ وکٹیں باقی تھیں اور ہم ایک رنز سے ہار گئے۔ 2014 میں آسڑیلیا کے خلاف آخری اوور میں دو رنز چاہیے تھے۔بائولر بھی کوئی بلا نہیں بلکہ پارٹ ٹائم میکس ویل تھا اور ہماری کھلاڑیوں سے وہ بھی نہ بنے۔ اس سال کے آغاز مین نیوزی لینڈ کے ابتدائی چھ کھلاڑی 99 پر آئوٹ کے لئے تھے۔ اس موقع پر ان کے ٹیل اینڈرز 280 کر گئے عامر وہاب کی موجودگی میں۔ یہ سب ذہنی نا پختگی کے ثبوت ہیں۔ ہمیں ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جن میں لڑنے کا جذبہ ہو۔ جو آخری وکٹ اور آخری رنز تک میچ کے لئے لڑتے ہوں ۔ نہ کہ عمر اکمل اور احمد شہزاد جیسی قدرتی صلاحیت والے کھلاڑیوں کی کیونکہ آپ لڑتے رہیں اور شکست نہ تسلیم کریں تو مواقع ملتے ہیں، جن سے فائدہ اٹھاکر میچ میں واپس آیا جا سکتا ہے

ابھی پاکستان ٹیم آئرلینڈ اور برطانیہ سے تمام میچ جیت لے( جو کہ ناممکن نہیں تو بھی انتہائی کارِ دشوار ہے) تو ہماری ٹیم ویسٹ انڈیز سے اوپر آجائے گی اعشاریہ کے فرق سے۔ اس کے بعد ہماری ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں سے سیریز ہیں۔ یعنی کہ آٹھویں پوزیشن اگر لے بھی لیں تو اسے برقرار رکھنا آسان نہیں ہو گا اور اگر ہماری ٹیم ستمبر 2017 تک آٹھویں پوزیشن پر نہ ہوئئ تو 2019 کے عالمی کپ میں شرکت کے لئے کوالی فائنگ رائونڈ کھیلنا مقدر ہو گا۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s