Leave a comment

کھیلو گے کودو گے بنو گے نواب

اردو محاورات و ضرب الامثال کی ہم سے کوئی پرانی دشمنی ہے۔ بالخصوص وہ جن سے ہمارا واسطہ پڑا ہے انھوں نے ہمیں دھوکہ ہی دیا ہے۔’ سانچ کو آنچ نہیں’ کو ہی دیکھ لیجیے۔ ہماری زندگی میں تو کوئی ایسی مثال نہیں کہ جس میں سچ بولنے والوں کو مصائب و آلام سے نہ گزرنا پڑا ہو اور جھوٹ بولنے والے کو دنیاوی فوائد نہ ملے ہوں۔ایک اور محاورہ ‘بدنامی سے گمنامی بھلی’ کو بھی ہم نے منہ کی کھاتے دیکھا ہے۔ لوگ اب گمنامی کو دقیانوسیت سمجھتے ہیں اور خود کو نمایاں کرنے کےلئے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ کوئی ایسا کام کریں کہ راتوں رات گمنامی سے نام نامی میں آجائیں اور یہ تو آپ کو علم ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہوتا ہے مگر ‘گر ہوئے بدنام تو کیا نام نہ ہو گا’ سے خود کو دلاسا دیا جاتا ہے۔

  ایک اور محاورہ  جو بچپن میں ہمیں سمجھایا جاتا تھا کہ ‘کھیلو گے کودو گے ہو گے خراب پڑھو گے لکھو گے بنو گے نواب’۔ ہم بچپن سے ہی سادہ تھے تو بڑوں کی باتوں میں آ گئے۔ ساری عمر پڑھائی کی بلکہ اب تک جاری ہے مگر نوابی تو کیا ملنی تھی نوکری کی تلاش میں نجانے کہاں کہاں کے دھکے کھائے اور کتنی ہی جوتیاں اس راہ میں قربان ہو گئیں۔ یہ ہمارا ہی حال نہیں ہے ہم نے سب پڑھے لکھوں کو ایسے ہی رلتے دیکھا۔ اپنی تعلیمی و تجربہ کی اسناد لئے کبھی ایک جگہ نوکری کی درخواست جمع کرواتے ہیں تو کبھی دوسرے ادارے میں

۔ ہم نے جب بیچلرز کی تھی تو ملک کے حالات کافی اچھے تھے۔ بجلی کا بحران تھا نہ ہی دہشت گردی کا عفریت۔ سو ملک میں صنعت کا پہیہ چل رہا تھا اور یوں نوکریوں کے امکانات بھی تھے۔ مزید براں پورے پنجاب میں دو ہی انجنئرنگ یونیورسٹیاں تھیں اور وہ سال میں ایک بیچ نکالتی تھیں۔ جب سے تعلیم کاروبار ہوئی ہے تب سے ہر شعبے کے ماہرین کی کھپت ہرسال میں کم از کم دو بار نکل رہی ہے جبکہ ملک میں نوکریوں کی قلت ہے۔ بجلی کے بحران اور دہشت گردی کی وجہ سے صنعتوں کا پہیہ جام ہے اور کچھ صنعتیں تو بیرون ملک چلی گئی ہیں تو نوکریوں کا حصول بھی کارِ دشوار ہی ہے۔

تاہم جو لوگ باعزت نوکری کر رہے ہیں اور کسی اچھے عہدے پر ہیں ان کی تنخواہیں بھی بہت کم ہیں۔ کسی کالج یا یونیورسٹی کے پروفیسر ہوں، کوئی سائنس دان ہو، ڈاکٹر ہو یا کسی بھی شعبے کا ماہر اس کی تنخواہ چند لاکھ سے زیادہ نہیں ہو گی۔ وہ زندگی بھر اپنا گھر بنانے اور چلانے کی فکر میں رہے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی عمریں علم کے حصول میں لگا دی ہیں۔

اس کےبرعکس اگر ہم ان لوگوں کو دیکھیں کہ جنھوں نے شروع میں ہی جان لیا کہ پڑھائی ان کے بس کا روگ نہیں اور کسی اور شعبے میں ہنر آزمائی کی وہ کہیں بہتر حالت میں ہیں۔ آپ اداکار، گلوکار، کھلاڑی اور دیگر شعبوں کےماہرین کو دیکھ لیں اور پڑھنے لکھنے والوں کو تو آپ کو ایک واضح فرق نظر آئے گا۔ اس میں کلام نہیں کہ ان شعبوں میں بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو کہ بمشکل اپنا گھر چلا رہے ہیں مگر ایسا تعلیم کے شعبے میں بھی۔ اسکول کے اساتذہ اور کالجوں اور جامعات کے لیکچرز کی تنخواہ خاصی کم ہے مگر ہم صرف اوپر کا موازنہ کر لیں تو بھی فرق واضح ہے۔

 اس کا خیال ہمیں کل سے زیادہ شدت سے آ رہا ہے جب سے ہمارے قومی کھلاڑیوں کے پچھلے سال کی آمدنی کی تفصیلات اخبارات میں چھپی ہیں۔ سبھی قابلِ ذکر کھلاڑیوں کی آمدن کروڑوں میں ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہ لوگ کبھی کبھی ملک کا نام روشن بھی کرتے ہیں مگر کیا علم دوست لوگ ایسا نہیں کرتے؟ کچھ لوگ کہیں گے کہ یہ تو بیس کروڑ میں سولہ لوگ ہیں گنے چنے تو عرض ہے کہ اب لیگز کی وجہ سے باقی کھلاڑی بھی اچھا خاصا کما لیتے ہیں اور وہ دور ختم ہو گیا کہ بس صرف قومی ٹیم کے کھلاڑی ہی اچھا کماتے تھے۔اگر کوئی بڑا مقابلہ جیت جائیں تو انعام اتنا کہ کوئی پروفیسر پورے سال بھی اتنا نہ کما سکے۔مزید یہ کہ خراب کارکردگی پر بھی متعلقہ اداروں کی جانب سے کوئی بازپرس نہیں، ہاں میڈیا پر ضرور شور مچ جاتا ہے جسے یہ لوگ نیک شگون خیال کرتے ہیں۔ بیرون ملک فائیو سٹار ہوٹلوں میں قیام اور وی آئی پی پروٹوکول اس کے علاوہ۔کوئی پروفیسر کیا وائس چانسلر بھی ایسا رتبہ پا سکتا ہے؟  اب تو ایک دو فرسٹ کلاس میچ کھیلیں اور پھر دنیا بھر کی لیگز میں سے کمائو۔ یہی حال دیگر کھیلوں کا (بھلے پاکستان میں ان کی حالت بری ہی کیوں نہ ہو) اور  فنون لطیفہ کا بھی ہے۔ اتنے چینل کھل گئے ہیں کہ اب اداکاروں، گلوکاروں، پروڈیوسر ڈائریکٹر، نیوز ریڈر۔ اینکرز، مولویوں، دینی ماہرین سب کی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں ہے۔ بلکہ سب نے اپنے اپنے محافظ رکھے ہوئے ہیںجان و مال کی حفاظت کے لئے۔  صرف وہی لوگ آپ کو نہیں دکھیں گے جو درس و تدریس سے وابستہ ہیں یا شاید کہیں کوئی سال میں ایک دو بار کسی پروگرام میں نظر آ جائیں۔

ہمارا یہ مقصد بھی نہیں کہ کھلاڑی اگر بری کارکردگی کا مظاہرہ کریں تو ان کی تنخواہ پروفیسروں کو دے دی جائے بلکہ مدعا یہ ہے کہ پڑھنے لکھنے والوں کی آمدن بھی معقول ہونی چاہیے۔ بلاشبہ کھیل ضروری ہیں مگر پڑھائی اور  مہذب معاشرہ اس سے کہیں زیادہ ضروری ہے اور یہ کام استاد کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ اس سے حکومتوں کی تعلیم سے معتلق ترجیحات کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔ میڈیا بھی اس معاملے میں حکومت کا ہمنوا ہی سمجھیے۔ باقی ہر معاملے پر بولے گا مگر خاموش رہے گا تو اس پر۔

علم ہماری ترجیحات میں کبھی بھی شامل نہیں رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ آج اس حال میں ہے کہ اخلاقی و معاشرتی بلکہ ثقافتی اعتبار سے بھی انحطاط کا شکار ہے۔وہ لوگ جنھیں معاشرے کو بدلنا ہے وہ روزی روٹی کے چکر میں پھنسے رہتے ہیں اور جونہی ان کی قسمت یاوری کرتی ہے وہ بیرون ملک جا کر ان کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔

ابن انشاء نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف’ اردو کی آخری کتاب’ میں بھی اس تفاوت کا ذکر اپنے انتہائی معصومانہ اور دلکش انداز میں کیا ہے۔مشہور بادشاہ اکبر کے باب کے بعد ان کا سوال دیکھیے۔’ آپ ان پڑھ رہ کر اکبر بننا پسند کرو گے یا پڑھ لکھ کر اس کے نو رتن؟’ علم کے باب میں ان کا سوال ہمارے اس کالم کے موضوع کے زیادہ قریب ہے۔ فرماتے ہیں۔ ‘علم ایک دولت ہے مگرجس کے پاس دولت ہے اس کے پاس علم نہیں اور جس کے پاس علم ہے اس کے پاس دولت نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟’ 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s