Leave a comment

ہم ‘سو حرفی کہانی’ کیوں نہیں لکھتے

علامہ اقبال کے ایک شعر ہے

سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

اس شعر کی حقیقت ہمیں اب سمجھ آتی ہے جب ہم اپنے ارد گرد کی تبدیلیوں کو دیکھتے ہیں۔ اب زندگی انتہائی تیز رفتار ہو گئی ہے سو وہ کام جو پہلے دنوں میں ہوتے تھے اب وہ گھنٹوں میں ہونے لگے ہیں اور جو کام گھنٹوں میں ہوتے تھے وہ اب منٹوں میں انجام پاتے ہیں۔ پہلے خطوط اور ٹیلی فون رابطے کا ذریعہ ہوتے تھے۔ٹیلی فون محلے میں ایک آدھ گھر میں ہوتا تھا۔ تو بات کرنے والے کو پہلے ٹیلی فون کر کے ٹیلی فون کے مالک سے سلام دعا کے بعد عرض کرنی پڑتی تھی کہ فلاں گھر سے فلاں کو بلا لائیں میں دس منٹ بعد یا آدھ گھنٹے بعد پھر کال کرتا ہوں۔ خطوط کا جواب تو دنوں بعد اور اگر پردیس بھیجا ہو تو مہینوں بعد ملتا تھا۔ اس دوران اکثر جس صورتحال میں خط لکھا جاتا تھا وہ مکتوب الیہ تک پہنچتے پہنچتے وہ تبدیل ہو چکی ہوتی تھی۔ پھر عاشق اگر محبوب کو خط لکھتا تو کبھی یوں بھی ہوتاکہ وہ محبوب کی بجائے اس کے والد محترم کھول لیتے اور پھر عاشق صاحب  کو باقی زندگی  محبوب کے بچوں کے ماموں بن کر گزارنی پڑتی۔

اب  صورت حال دیگر ہے۔ ڈاک اور ٹیلی فون قریب قریب متروک ہو چکے ہیں۔ اب ہم ہوےئ تم ہوئے یا میر ہوئے۔۔۔سب کے پاس ہی موبائل فون ہے۔ اسی سے کال کریں۔ اسی پر پیغام رسانی کریں اور اگر کوئی لمبی بات کرنی مطلوب ہے تو برقی  ڈاک یعنی کہ ای میل کا استعمال کریں۔ بات چند ثانیوں میں مخاطب تک پہنچ جائے گی اور ظالم سماج کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔

ایسی ہی کچھ تبدیلی کی لہر ہمارے نصاب میں بھی در آئی ہے۔ ہماری بی ایس سی انجنئرنگ تک کی تمام تعلیم سالانہ نظام تعلیم پر مشتمل تھی۔ نویں اور دسویں کا تو پورا نساب دو سال تک رٹا تھا اور پھر میٹرک میں بورڈ کے امتحان میں اللہ نے عزت رکھی۔ انٹرمیڈیٹ میں یوں آسانی تھی کہ سال اول اور سال دوم کے الگ الگ بورڈ کے امتحانات تھے تو ہمیں نصاب حفظ کرنے کی مدت محض ایک برس تھی۔ اس کے علاوہ اردو، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات میں تو بعض اساتذہ و ممتحن صفحے گن کر نمبر دیتے تھے۔ بات مسلم لیگ کی ہو،قراردادِ مقاصد کی یا پھر 1973ء کے آئین کی ابتدا اس کی ہمیشہ جنگ آزادی ء1857 سے ہوتی تھی بلکہ کبھی کبھار تو محمد بن قاسم کی سندھ آمد سے بھی ابتداء کرنی پڑتی تھی۔ اردومیں کسی بند یا شعرکی تشریح سے پہلے دو صفحے حوالہء متن اور سیاق و سباق کے زمرے میں لکھنے پڑتے تھے اور پھر کہیں تشریح کی باری آتی تھی۔ جب یونورستی گئے تو وہاں بھی سالانہ نطام تھا۔ ہر مضمون کے دس بارہ  اسباق یاد کرنے ہی پڑتے تھے۔

ہمارے جاتے ہی بورڈ والوں نے تبدیلیاں کر دیں۔ نویں میں بھی بورڈ ہو گیا گویا کہ حافظے کو ایک سال کی چھٹی مل گئی۔ اب اتنے لمبے لمبے جوابوں کا فیشن نہیں۔ نصف سے زائد پرچہ کثیر الانتخابی سوالات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً کس کو ضرورت کے وقت باپ بنایا جا سکتا ہے۔ چچا، اونٹ، گدھایا ماموں۔ ظاہر ہے کہ گدھے کے علاوہ کوئی جواب قابل قبول نہیں ہو گا۔ایک درجن میں کتنے انڈے ہوتے ہیں؟ چار، آٹھ،بارہ، سولہ۔اس کا جواب آ پ خود دیجیے۔ معاشرتی علوم میں سوال ہوتے ہیں۔ پاکستان کس نے بنایا تھا؟ نہرو، انگریز، قائد اعظم یا بھٹو۔ قائداعظم کے چودہ نکات میں کل کتنے نکات تھے۔چھ، دس، چودہ یا سولہ۔ اب بورڈ میں بچوں کے نمبر بھی ستانوے اٹھانوے فیصدی آتے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ باقی دو ڈھائی فیصد نمبر کس بات کے کاٹے ہیں یا شاید بچوں نے خود ہی نمبروں کی زکوٰۃ دے دی۔ ہمارے دور میں تو کسی کے اسی فیصر نمبر آ جاتے تو اس کی ٹوہر(چال) دیکھنے والی ہوتی تھی۔

جامعات میں بھی نظام تدریس سمسٹر اور ٹرم میں بدل گیا۔ عجیب افراتفری ہے۔تین ساڑھے تین ماہ میں پورا نصاب ختم کرو۔ سمسٹر کے وسط میں تین چار ابواب کا امتحان ہوتا اور وہ بھول جائو۔ پھر سمسٹر کے اختتام پر اختتامی چند ابواب کا امتحان ہوا اور طلباء کا اچھا جی پی اے آیا اور سب خوش۔  یہ بات کوئی نہیں سمجھتا کہ سالانہ نظام میں دہرائی کا زیادہ موقع ملتا تھا تو طلباء کی بنیاد مضبوط ہوتی تھی۔ اب بس بھاگ دوڑ لگی رہتی ہے سمسٹر میں اور بنیاد نام کی چیز پر کوئی دھیان ہوتا ہی نہیں۔

یہی حال ادب کے ساتھ بھی ہوا۔ پہلے ناول افسانے شاعری تھی۔ ہم نے اپنے نصاب میں ن، م راشد کا نام اشفاق احمد صاحب کے ایک سفرنامے میں پڑھا تھا تو علم ہوا تھا کہ یہ صاحب آزاد شاعری کرتے ہیں۔ہماری میڈم نے ہمیں بتایا تھا کہ آزاد شاعری وہ ہوتی ہے کہ جس میں مصرعوں کے وزن کی قید نہ ہو۔ہمیں آزاد شاعری نے بہت ہی کم اپنی جانب مائل کیا مگر اب تو صورت حال بالکل ہی ابتر ہےہر کوئی شاعری کر رہا ہے بلکہ کہنا چاہیے کہ شاعری پر جبر کر رہا ہے۔اب تو شاعری مادر پدر ہی آزاد ہو گئی ہے۔ صنف کوئی بھی ہو کلاسیکی بنیاد کے بغیر وہ پائیدار اثر نہیں رکھے گی بلکہ ایسے ہی جیسے کے ٹی تونٹی بظاہر مار دھاڑ والی کرکٹ ہے مگر اس میں کامیاب وہی کھلاڑی ہیں جو ٹیسٹ میں اچھے ہیں مثلًا ڈی ویلیئرز اور کوہلی ۔

ایسے ہی اب نثر میں نئی صنف سو حرفی کہانی کی آئی ہے۔ یہ قدرے بہتر ہے۔ اس میں آپ چند حروف میں معاشرتی حقائق بیان کرتے ہیں۔ یہ مقبول بھی ہو رہی ہے کہ لکھنے والا چند الفاظ میں اپنا مافی الضمیر بیان کر دیتا ہے گویا کہ کوزے میں دریا بند کر دیتا ہے جبکہ ایک دو منٹ میں قاری پڑھ بھی لیتا ہے۔ وہی بات جو ناول  ایک ہزار صفحوں میں بیان کرتا ہے یہ چند سطروں میں کہہ لی جاتی ہے۔ہماری رائے میں تو یہ اردو کا مستقبل ہے کہ انٹرنیٹ پر اور فیس بک پر بیٹھے بیٹھے بندہ پڑھ لیتا ہے۔ تاہم اس کے نام پر ہمیں تحفظات ہیں کہ کیا یہ کہانی ہوتی ہے؟ ہماری ناقص رائے میں تو اسے ‘سو حرفی تحریر’ کہنا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر الفاظ کم یا بیشتر ہو جائیں تو پھر بھی کیا یہ سو حرفی کہانی ہی رہے گی؟

ہم سے بھی کئی بار یہ مطالبہ کیا گیا کہآپ بھی سو حرفی کہانی لکھیں۔ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اتنا کچھ لکھ کے امتحانات دیتے رہے ہیں اور اس پر امتزاد یہ کہ اب وابستہ بھی تدریس سے ہیں۔ جہاں ہمارا ایک لیکچر ڈیڑھ گھنٹے کا ہوتا ہے۔ سو بولنا اور لکھنا تو ہمارا کام ہے۔ ہمارے لئے ممکن نہیں کہ لیکچر کو دس پندرہ منٹ میں ختم کر دیں۔ اگر لیکچر کم ہو تو پھر پچھلے اسباق کو بطور سیاق و سباق استعمال کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے آج تک سو حرفی کہانی نہیں لکھی کیونکہ مختصر نویسی ہمارے بس کی بات نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے میراتھن ریس کے ماہر سے آپ سو میٹر میں حصہ لینے کو کہیں۔ پھر چونکہ ہمارا شعبہ مزاح ہے تو ہم نے اس پر کسی کی طبع آزمائی اب تک نہیں دیکھی۔ ہم نے اگر اس میں کچھ لکھا تو وہ کہانی کی بجائے لطیفے کے زمرے میں آ جائےگا سو ہم اس سے باز ہیں۔

 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s