Leave a comment

جگہ دل لگانے کی

یک بار ایک ممبر نے کسی تھریڈ میں ہم سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ کو کہیں گھومنے کا موقع ملے تو آپ کس ممبر کوساتھ لے جانا پسند کریں گے- اس سوال کا جواب ہم بوجوہ گول کر گئے تھے- کیونکہ کسی ایک کا یا چند لوگوں کا نام لے کر ہم باقی ساتھیوں کی دلآزاری کے مرتکب نہیں ہونا چاھتے تھے-
ہم نے سوچا کہ کیوں نہ آج آپ کو کسی اچھے سے مقام کی سیر کرا دی جائے- لیکن اگر آپ موضوع پڑھ کر یہ گمان کرہے ہیں کہ ہم آپ کو کسی خواتین کے کالج لئے جا رہے ہیں تو ہم یہی کہ سکتے ہیں کہ بلی کو چھچھڑوں کے خواب-دوستوں اگر آپ اسلام آباد یا راولپنڈی سے شمال کی جانب سفر کریں تو تقریبٌا بیس پچیس کلومیٹر کے فاصلے پرچھوٹا سا ایک شہر ہے- یہ شہر چار دانگ عالم میں مشہور ہے اور پاکستان میں اس کی وجہ شہرت وہی ہے جو فیس بک پہ ہماری ہے-یعنی کہ پاکستان کا سب سے قدیم مقام ہے۔ چنانچہ یہاں آپ کو آثار قدیمہ بکثرت ملیں گے جن میں جنڈیال، سرکپ اور بھڑمائونڈ کے آثار زیادہ مشہور ہیں- اس کے علاوہ ایک عجائب گھر بھی ہے جسے دیکھ کے ایسامحسوس ہوا کہ کسی نے ہمارے گھر کا سامان وہاں رکھ دیا- سب پرانا اور ٹوٹنے کے قریب۔ چاہے وہ برتن ہوں یا کام کے اوزار۔ کچھ سکے بھی دیکھے مگر وہ شیشوں میں بند تھے سو ہم چاہ کر بھی ان کو نہ اٹھا چائے۔کچھ مجسمے بھی ہیں وہاں-اگر ہمارے مذھب میں ان کی ممانعت نہ ہوتی تو شاید بعد از مرگ ہمارا مجسمہ بھی وہ لوگ لگا ہی دیتے بلکہ انھیں تکلیف سے بچانے کے لئے ہم خود اپنا مجسمہ بنوا کے انھیں تحفے میں دے دیتے۔ بعد میں کیا معلوم وہ لگانے سے انکار کر دیں یا وسائل کی کمی آڑے آ جائے؟ سو جو کام اپنے ہاتھ سے ہو جائے وہی اچھا۔
عجائب گھر میں جس چیز نے وہاں ہمارے توجہ اپنی جانب مبذول کی وہ سر جان مارشل کا کمرہ تھا جہاں ان کے زیر تصرف اشیا رکھی تھیں- ان کا میز، کرسی ، پانی پینے والا گھڑا اور کچھ دیگر اشیاء۔موصوف کا عرصہ حیات 1857 تا 1934 تھا اور غالباً انھوں نے 1913 کے بعد قریب ایک عشرہ ٹیکسلا کی تہذیب کی دریافت میں صرف کیا- موصوف آثار قدیمہ کے ماہر تھے اور پاک و ہند کے کئی تاریخی مقامات جوآج دنیا کے سامنے ہیں ان کے مرہون منت ہیں- ان کا کمرہ دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ جب ہماری قوم اندھیروں میں گھری ہوئی تھی اور خود سے بیگانہ تھی اس وقت ایک شخص برطانیہ سے مہینوں سفر کر کے یہاں آیا کہ ہماری ثقافت پر تحقیق کر سکے حالانکہ علم تو ہماری میراث تھی- کچھ شک نہیں کہ برطانیہ ہم پر حکمرانی کا حقدار تھا-
آج کل جب دنیا تہذیبی ورثے کے تحفظ کی جانب مائل ہے تحصیل انتظامیہ ٹیکسلا کا کردار قابل ستائش ہے جو اپنی بساط بھر اس ورثے کے تحفظ اور فروغ میں کوشاں ہے- انتطامیہ کی خواہش تھی کہ ٹیکسلا منفرد اور قدیم شہر نظر آئے- چنانچہ فیصلہ کیا گیا کہ شہر والوں سے بجلی اور گیس کی سہولت واپس لے لی جائے- جس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے جن سے وفاقی حکومت بھی اب فائدہ اٹھا رہی ہے- دوسرا قدم یہ اٹھایاگیا کہ تمام سڑکیں کھود دی گئیں حتٰی کہ جی ٹی روڈ کو بھی نہیں چھوڑا گیا-اب جو شخص ان پر سفر کرتا ہے اس کا انجر پنجر ہل جاتا ہے اور کھانا بھی یہیں ہضم ہو جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم نے یہاں معدے کے ڈاکٹرز نہیں دیکھے۔ سڑکوں کی حالت دیکھ کر یہ گمان کرتا ہے کہ شاید پورس نے بنوائی تھی-اور انتطامیہ نےاسے اس کی اصل حالت میں بحال رکھا ہوا ہے۔ انتظامیہ اس کی تشہیر بھی ایسے ہی کرتی ہے ۔ اس کا مقصد ملک میں سیاحت کی صنعت کوزندہ رکھنا ہے جو کہ امن و امان کی صورت حال کے باعث دم توڑ رہی ہے۔
کرسچین آئی ہاسپٹل جو کہ ٹیکسلا میں واقع ہے ملک کا ایک معروف ہسپتال ہے آنکھوں کے امراض کے حوالے سے۔ یہ بھی ایک بہت پرانا ہسپتال ہے اور اس میں عیسائی مشنری ڈاکٹرز آنکھوں کے امراض کا فی سبیل للہ(اپنے اللہ کے لئے) علاج کرتے ہیں باوجود اس کے کہ لوگ انھیں آنکھیں دکھاتے ہیں۔
ٹیکسلا کے قریب ہی واہ کے پاس مغلیہ باغات ہیں اور ان کی بھی وہی حالت ہے جو کہ اس وقت مغلیہ سلطنت کی ہے۔ مزید براں خانپور ڈیم بھی ٹیکسلا میں ہی واقع ہے۔ اس سے نکلنے والی نہر سے نہ صرف قرب و جوار کے علاقوں کی زمین سیراب ہوتی ہے بلکہ یہ ایک تفریحی مقام بھی ہے۔ہفتہ وار تعطیل پر یہاں خوب رش ہوتا ہے۔ لوگ اپنی فیلمیز کے ساتھ آتے ہیں اور خوب ہلہ گلہ کرتے ہیں۔ڈیم میں کشتی کی سہولت بھی موجود ہے اور لوگ کشتی رانی سے بھی مستفید ہوتے ہیں۔
ٹیکسلا میں کئی سکول و کالج ہیں اور جامعات بھی ہیں- ان میں یو ای ٹی ٹیکسلا، ہائی ٹیک یونیورسٹی، کاسیٹس واہ اور یونیورسٹی آف واہ شامل ہیں۔ ان میں سب سے پرانی یو ای ٹی ٹیکسلا ہے اور اس کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ ہم بھی ایک زمانے میں یہاں طالب علم رہے ہیں اور اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اس نے ہمیں بھی ڈگری سے نواز رکھا ہے- حالانکہ پڑھائی کے دنوں میں ہم اس سے ایسے بھاگتے تھے جیسے کافر کلمہ سن کر اور ہماری حکومت احتساب کا نام سن کے- کامسیٹس واہ میں بھی ہم نے بطور مددگار پروفیسر(یعنی کہ اسسٹنٹ پروفیسر) چار برس کام کیا۔
ٹیکسلا یونیورسٹی سے ہمارا ناتا کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں جب ہم تھے تو سوچتے تھے کہ اب یہاں کبھی نہیں آنا۔بس ڈگری مل جائے۔ ڈگری ملی تو ہم نے سکون کا سانس لیا کہ جان چھوٹی اس جامعہ سے مگر ہم یہ نہیں جانتے تھے کہ قضا ہمارے ساتھ کیا کھیل کھیل رہی ہے۔ یونیورسٹی کے بعد چند سال تو آرام سے گزرے۔ ہم بس ڈگری لینے گئے جامعہ میں ایک مرتبہ۔ اس کے بعد یوں ہوا کہ ہماری شادی بھی اسی جامعہ کی ہی ایک لڑکی سے ہو گئی۔ اب تو جامعہ جانا ہمارے لئے از حد ضروری ہے۔ اب جب ہم جامعہ جاتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جامعہ ہمیں منہ چڑا چڑا کے کہ رہی ہو کہ اب بھاگ کے دکھائو مجھ سے۔
امید ہے کہ آپ کو ٹیکسلا کا یہ دورہ پسند آیا ہو گا- ٹیکسلا کے ذکر کے ساتھ ہمیں بے اختیار یہ شعر یاد آ جاتا ہے

جگہ دل لگانے کی ٹیکسلا نہیں ہے
عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s