Leave a comment

آمنہ ہماری بُلبل ہے

پچھلے برس رمضان میں ایک روز شام چار پانچ بجے ہمارے موبائل پر ایک کال آئی۔ہم اس وقت سو رہے تھے۔ نمبر غیر مانوس تھا۔ ہم نے اٹھایا تو ایک لڑکی کی آواز سنائی دی کہ کیا آپ ابن ریاض بول رہے ہیں؟ ہم نے اثبات میں جواب دیا تو کہا کہ آپ کا اکائونٹ ہیک ہو گیا ہے۔ ہم ے بے نیازی سے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے۔ بھلا ہمارے اکائونٹ سے کسی کو کیا ملنا تھا؟ خود ہی دیکھ کے واپس کر دے گا۔ ہماری بے نیازی دیکھ کر ہمیں مزید بتایا گیا کہ اس اکائونٹ سے لڑکیوں کی تصاویر شائع کی جا رہی ہیں۔ یہ بات سن کر ہم چونکے۔ ہم نے کہا کہ ہم بند کر دیں گے۔ خیر یہ بات چیت کوئی ڈیڑھ دو منٹ چلی ۔ چونکہ ہم سو کر اٹھے تو ظاہر ہے کہ یہ پوچھنا کہ ہمارا نمبر آپ کو کیسے ملا یاد ہی نہیں رہا۔یقیناً یہ نمبر آمنہ نے ہمارے کسی وافکار سے لے کر کال کی تھی۔ اس کے بعد ہم نے اپنے اکائونٹ کا پاس ورڈ تبدیل کیا اور دیگر ضروری امور سر انجام دینے کے بعد فیس بک پر واپس آئے۔ یہ آمنہ نسیم سے ہماری پہلی بات چیت تھی۔
آمنہ نسیم کو بطور کالم نگار ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ ان کے کالم ہماری نظر سے گزرتے رہتے تھے۔ یہ اہم اور سنجیدہ موضوعات پر لکھتی ہیں اور ان کا مطالعہ کافی وسیع اور موضوع پر گرفت قابل داد ہوتی ہے۔تاہم یہ ہمارے دوستوں کی فہرست میں نہیں تھیں۔ اس بات چیت کے بعد یہ ہمارے دوستوں کی فہرست میں آئیں مگر ہماری سلام دعا واجبی بلکہ بہت ہی کم تھی۔ اس کے علاوہ یہ روزانہ رات کو ہمیں ان فرینڈ کرتی تھی اور صبح جب ہم اٹھتے تو اس کی پھر سے دوستی کی پیشکش موجود ہوتی۔ہمیں سمجھ تو نہیں اتی تھی مگر ہر روز صبح ہم اس کو ایڈ کرتے اور شام کو پھرہم اپنی اوقات میں واپس آ جاتے۔ایک مدت تک یہ کھیل بلاناغہ چلتا رہا۔بعد ازاں اس نے ہمیں بابا کہنا شروع کر دیا اور یہ ہمارے لئے بھی بہت اعزاز کی بات ہے کہ کوئی ہمیں اتنے احترام سے بلاتا ہے اور اتنا ادب کرتا ہے۔
آمنہ ایک بہت ہی شوخ و چنچل سی لڑکی ہے۔ اس کی صحبت میں کوئی بیزار نہیں ہو سکتا۔ یہ بولتی ہے تو بے تکان بولتی ہے اور اس کی آواز ہے بھی بہت پیاری۔ اس کا اندازہ ہمیں پہلی بات چیت میں تو نہیں ہو پاتا تھا مگر بعد میں غور کیا تو واقعی بہت دلکش آواز ہے اس کی۔جب یہ بولتی ہے تو ریل گاڑی کی چھکا چھک کی طرح بولتی ہی چلی جاتی ہے۔ اس کو بتائو کہ کال بند کرنی ہے تو بھی بریک لگتے لگتے دو چار جنکشن نکل ہی جاتے ہیں۔ اب ہم کال کے اختتام سے دو چار منٹ قبل ہی زنجیر کھینچ دیتے ہیں مگر آمنہ بھی اس کی عادی ہے تو وہ بریک اپنی مرضی سے ہی لگاتی ہے۔
بہت ہی حساس ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑی بڑی آنکھیں آنسوئوں سے ایسے لبریز ہو جاتی ہیں جیسے ہمارے کھلاڑیوں اور سیاستدانوں کے کھاتے رقوم سے۔رونے کے لئے کسی وجہ کی ضرورت نہیں جو کہ خواتین کو ویسے بھی نہیں ہوتی۔بات بے بات ناراض ہونے کی ماہر ہے اور پھر رو رو کر خود کو ہلکان کر لے گی۔ یہ ہلکان دماغی ہی ہوتا کہ جسمانی طور پرتو وہ ہلکان ہونے سے رہی۔ ناراضی کے اظہار کا طریقہ بہت ہی آسان ہے۔ گروپ چھوڑ جائے گی۔ نمبر بند کر دے گی۔ اور اگر نمبر آن ہو گا بھی تو کال نہیں وصول کرے گی۔اگر رابطہ ہو جائے تو یہ مانے گی نہیں کہ ناراض ہوں بس چپ چپ بیٹھی رہے گی۔ پھر اچھی طرح زچ کرنے کے بعد راضی ہو گی تو تمام وجوہات بتائے گی ناراض ہونے کی۔
آمنہ کی ایک زبردست عادت اس کی بسیار خوری ہے۔ ہمارے احباب میں بہت سے لوگ ہیں کہ کبھی خوشی کے باعث کھانا نہ کھایا اور کبھی پریشانی میں بھوک اڑ گئی۔آمنہ ایسی نہیں ہے۔آمنہ افسردہ ہو یا خوش یا اس کو کوئی تنائو درپیش ہواس کی بھوک کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔اس صورت میں یہ اپنے علاوہ گھر والوں کا کھانا بھی تناول کر لیتی ہے۔

آمنہ اور ہم میں ایک قدرِ مشترک یہ بھی ہے کہ ہم دونوں ہی تدریس سے وابستہ ہیں۔ ہم تو دنیا دار لوگ ہیں اور دنیاوی علم ہی سکھاتے ہیں مگر آمنہ اپنی ہم عمر اور خود سے بڑی خواتین کو آخرت میں کام آنے والے اعمال سے آگاہ کرتی ہے یوں یہ ہم سے بہت بہتر ہے۔ جب بڑی بڑٰی خواتین اس کو میڈم کہہ کر پکارتیں تو عجیب سی شرمندگی محسوس کرتی اور ا سکا بھی وہی حال ہوتا جو ہمارا پہلے لیکچر میں ہوا تھا۔
دوسری قدرِ مشترک لکھنا ہے۔ہمارے کالم بھی مختلف اخبارات کی زینت بن چکے ہیں۔ آمنہ کے کالم بھی بہت مقبول ہیں اور سبھی قابلِ ذکر اخبارات میں شائع ہوتے ہیں۔ جنگ،ایکسپریس، نوائے وقت والے جو ہمارے کالم پڑھنے سے پہلے ہی مسترد کر دیتے ہیں آمنہ کے کالم بخوشی شایع کر دیتے ہیں۔ اس سے آمنہ کی تحریر کے معیار کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
لاہور سے تعلق ہے۔اور لاہور کے متعلق مشہور ہے کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی نہیں ہوا سو یہ اپنی پیدائش کے وقت ہی پیدا ہو گئی۔تاہم جون کے مہینے میں پیدا ہونے پر اس کی ہمت کو داد دینے کو دل چاہتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس کا مزاج اگر گرم ہے تو جون کی وجہ سے ہے یا جون کی گرمی اس کے مزاج کے باعث ہے؟

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s