Leave a comment

ثنا ہمارا ہی پرتو ہے

ثنا خان کو ہم ایک سال سے جانتے ہیں۔ کسی پوسٹ کو دیکھ کر اس نے دوستی کی پیش کش کی تھی جو کہ قبول ہوئی اور اس کے بعد ثنا سے بات چیت بھی ہوئی اور اب تک جاری ہے۔ثنا سے ہمیں پہلی بار معلوم ہواکہ خان پٹھانوں کے علاوہ بھی ہو سکتے ہیں(ہماری معلومات کا حال دیکھ لیں آپ)۔والدین اس کے حیات نہیں ہیں۔ بڑے بھائی کو ہی اپنا والد و سرپرست سمجھتی ہے اور ان کا اتنا احترام کرتی ہے کہ ہمیں یقین ہے کہ کبھی عشق بھی کیا تو پہلے ان سے اجازت لے گی۔
ہم نے ثنا کو دیکھا نہیں مگر ہمارا گمان یہ ہے کہ یہ درمیانے قد و قامت کی لڑکی ہے۔ تاہم اپنے بالوں کے متعلق بہت فکرمند۔بال کسی بیماری کی وجہ سے چھوٹے اور پتلے ہو گئے ہیں جس کا غم یہ غلط نہیں کر پا رہی باوجود کوشش کے۔ اچھے لباسوں اور شاپنگ کی شائق۔ پسند اس کی سب کی پسند بن جاتی ہے سو نہ چاہتے ہوئے بھی مروتًا جانا پڑتا ہے۔ شاپنگ میں تو صنف نازک کی جان ہوتی ہے۔اس لئے مروت کے لفظ کو ہم نے بھی مروتًا ہی استعمال کیا ہے۔
انتہائی حساس اور پیار کرنے والی۔ اپنے بھانجے سد ان میں تو ا سکی جان ہے۔فیس بک پر اپنی شناختی تصویر بھی بھانجے کی ہی لگا رکھی ہے۔بھانجا بھی اس کے بغیر نہیں رہتا۔ یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ محبت ہمیشہ یک طرفہ نہیں ہوتی۔
ثنا بیک وقت ہماری دوست سہیلی بیٹی استانی اور پتا نہیں کیا کیا ہے۔ بہت اچھی ہے اور سلجھی ہوئی لڑکی ہے۔ شاعری کا شغف ہے۔ پہلے شاعری سے رغبت نہیں تھی مگر اب تو موضوع کے حساب سے ایسے بروقت اشعار کہتی ہے کہ ہمیں لگتا کہ کسی ریختہ کی روح اسی میں سما گئی ہے۔ ہم تو شعر سن کے بات بدل دیتے ہیں کہ بیت بازی کا مقابلہ اپنی دسترس سے باہر۔
کتابوں سےلگائو ہے۔اتنی کتابیں اس کے پاس ہیں کہ ہم اس پر صرف رشک کر سکتے۔ہم نے اتنی کتابیں لائبریری کے علاوہ کبھی دیکھی نہیں جتنی یہ پڑھ چکی۔ جس دن اس کو بھائی نے اپنی ذاتی لائبریری کی کتابیں دیں۔مارے خوشی کے ثنا سو ہی نہیں پائی۔سونےسے یاد آیا کہ رات کو کم ہی سوتی ہے۔دن میں کلاس میں ہی سولیتی ہے۔ کم از کم اس کی کلاس کے بچوں کے پرچے دیکھ کر تو یہی اندازہ ہوتا ہے۔
اپنی دانست میں سخت گیر استانی بھی ہے۔ بچوں پر بہت رعب جھاڑتی ہے۔ نظم و ضبط کی پابند ہے مگر آج کل کے بچے ان فضول رسموں سے نا واقف و مرنا ہیں سو چکنے گھڑے بنے رہتے ہیں اور میڈم ثنا اپنا خون جلاتی رہتی ہیں۔ چونکہ ہماری بھی استانی ہے تو کئی بار خیالوں ہی خیالوں میں ہمارے بھی کان کھینچ چکی ہے۔ بار ہا ہمیں میز پر بھی کھڑا کیا گیا۔مگر طلباء کی اپنی نفسیات ہوتی ہے اور اس کا عمر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سو ہم بھی ان کی بات ایک کان سے سنتے ہیں۔۔۔باقی تو آپ سمجھ دار ہیں۔
چائے کے معاملے میں ثنا ہم پر گئی ہے۔چائے کی بے انتہا شوقین ہے۔ سر درد ہو بلکہ کوئی بھی درد ہو چائے ہی اس کا علاج ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے بعض لوگوں کے لئے نسوار امرت دھارا کا کام کرتی ہے۔ درد نہ بھی ہو تو چائے کوئی بھی دے، کہیں بھی۔کبھی بھی ثنا نے انکار نہیں کرنا۔ہم نے تو سنا کہ چائے رنگت کو کالا کر دیتی ہے۔ عملی تجربہ ہمیں اس لئے نہیں کہ ہم بچپن سے ہی ایسے ہیں کہ اب چائے تو کیا کوئی اور چیز بھی ہمارے پکے رنگ کو کچا نہیں کرتی۔ مگر ثنا تو لڑکی ہے اور لڑکیاں تو ان معاملات میں بہت حساس ہوتی ہیں مگر شاید رنگت میں ثنا بھی ہم پر گئی ہے۔
ثنا کی ایک بہت ہی اچھی خوبی یا خامی اس کی حماقتیں ہیں۔ حماقتیں تو اتنی اس سے سرزد ہوتی ہیں کہ سو بندے مل کر بھی نہ کر پائیں۔لوگ اس کو خامی گردانیں گے مگر ہمیں تو یہ بھی خوبی ہی دکھتی کہ غلطیاں حماقتیں، بیوقوفیاں اس کے انسان ہونے کی دلیل ہیں۔ ورنہ ہمارے ارد گرد تو فرشتے ہی بستے ہیں۔سو ایسے میں اپنے جیسے ایک انسان کا وجود خواہ اس سے مشینی رابطہ ہی کیوں نہ ہو، ایک خوشگوار احساس دلاتا ہے کہ ابھی بھی دنیا میں ہم جیسے انسان موجود ہیں۔
کھانے پینے کے معاملے میں بھی اس کی پسند ہم سے کافی ملتی ہے۔ جیسے چاول ہم دونوں کی پسندیدہ غذا ہے۔
پھر کاہلی اور سستی میں بھی وہ ہماری ہی شاگرد ہے۔ یہ واحد میدان ہے جس میں ہمارا کوئی ثانی نہیں سو چاہ کر بھی ثنا یہاںہماری استانی نہیں بن پائی تو مجبورًا شاگرد ہی بن بیٹھی۔ ہمارےلئے سب سے اچھا دن وہی ہوتا ہے جس دن ہمیں کام نہ کرنا پڑے۔ اور اچانک کوئی کام آ جائے تو ہمیں تو ہماری حالت نہ ہی پوچھیں۔ دل چاہتا ہے کہ کام کہنے والے کی تکہ بوٹی ایک کر دیں مگر چاہ کر بھی کر نہیں پاتے۔یہی خوبی ثنا میں بھی موجود ہے۔ کسی دن اسے باورچی خانے میں کام نہ کرنا پڑے تو اس کی خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ الٹا مہمانوں سے بھی بلا تکلف کام کرواتی ہے کہ آپ اس گھر کو اپنا ہی سمجھیں۔ اور اپنے گھر میں آپ کام تو کرتے ہی ہوں گے تو یہاں بھی کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے آپ کو۔
چند دن قبل ہمیں معلوم ہوا کہ ہماری عادات میں مشابہت کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ستارا یعنی کہ برج ایک ہے۔ یعنی کہ دونوں دلو ہیں۔ ہمیں ستاروں پر اعتقاد تو نہیں مگر ہماری عادات کافی حدتک مشابہہ ہیں۔ ادب و موسیقی بھی ہماری طرح کلاسیکل ہی پسند ہے۔ تاہم ثنا ہم سے آٹھ دن بڑی ہے اگر ہم سالوں کو نظر انداز کر دیں تو۔ کل ثنا کی سالگرہ ہے اور یہ اپنی سلور جوبلی پہلے ہی منا چکی ہے اور اب مچلز جوبلی کی طرف رواں دواں ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ ہمیشہ خوش و خرم رہے اور خوشیاں بانٹتی رہے۔ کوئی بھی غم اس کے قریب نہ پھٹکے۔ ثنا کی سالگرہ پر ایک حقیر سا نذرانہ ابن ریاض کی جانب سے۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s