Leave a comment

پاکستان ہاکی اور ویسٹ انڈیز کرکٹ میں قدرِ مشترک ۔۔۔(حصہ سوئم)جس جھولی میں سو جھید ہوئے

 پاکستان ہاکی اور ویسٹ انڈیز کرکٹ دونوں میں پیسہ نہیں ہے۔کھیلوں کے اچھے میدان نہیں ہیں اور نہ ہی علاقائی مقابلوں کے لئے وسائل ہیں۔ مقابلوں سے مراد ٹی ٹونٹی میچز یا سال میں کوئی ایک آدھ ہاکی ٹورنامنٹ نہیں۔ بلکہ ایک منظم انفراسٹرکچر کی کمی ہے دونوں ملکوں اور کھیلوں میں۔ہاکی کی جدید آسٹروٹرف ناپید ہیں اور یہی حال دوسرے ممالک کے کرکٹ میدانوں کا ہے۔ سکول کالج کی سطح پر مقابلوں کی کمی  سے  نئے کھلاڑیوں کی پیداوار قریب قریب رک چکی ہے۔ یہ سب مسائل موجود اور توجہ طلب ہیں مگر جیسے جھوٹ  سب برائیوں کی ماں ہے ایسے ہی ان تمام مسائل کی ماں ان مملک کے کھیلوں  میں انتظامی معاملات ہیں۔
انتظامی بےقاعدگیاں ہر کھیل کے  تنزل  کاباعث بنتی ہیں اور یہ کوئی نئی دریافت نہیں مگر درج بالا کھیلوں میں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جنھیں ان کھیلوں کو بچانا چاہیے تھا اور ان کی ترقی میں کرداد ادا کرنا تھا وہی ان کی جڑیں کاٹ رہے ہیں۔یہ وہ لوگ تھے کہ جنھیں ان کھیلوں نےنام، عزت اور شہرت دی- آپ پچھلے بیس برس میں ہاکی کی انتطامیہ میں دیکھیں۔صلاح الدین، رشید جونئیر، قاسم ضیاء قمر ابراہیم اور ایسے ہی دو چار نام کرسیوں پر میوزیکل چیئر کھیلتے نظر آئیں گے۔
ویسٹ انڈیز کا حال دیکھیں تو پاکستان کی سیریز سے قبل فل سمنز کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ جوئیل گارنر ان کے ساتھ ہیں بطور منیجر۔ اس سے قبل کرٹلی ایمبروز بھی کسی عیدے پر رہے۔ پاکستان کرکٹ پر بھی یک نظر ڈال لیں۔ پچھلے بیس سال میں انتخاب عالم، وسیم باری، ہارون رشید اور ذاکر خان ہی آپ کو کبھی ایک عہدے اور کبھی دوسرے پر دکھیں گے۔ درج بالا سبھی  کھلاڑی اپنے اپنے دور میں اپنے ملک اور ٹیم کی نمائندگی کر چکے ہیں اور اس میں انھوں نے نام بھی کمایا مگر اس بنا پر ان کو بورڈ میں عہدے دے دینا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ وقتاً فوقتاً یہ حقیقت کھل کر سامنے  آچکی ہے کہ  ان کی کارکردگی  کسی معیار کی تو درکنار  سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے کھیل کو فائدہ تو کیا پہنچایا ہونا، اس کا الٹا نقصان ہی کیا۔

ہ لوگ ہمیں آپ کو دلیل دیتے ملیں گے کہ ہم کھلاڑی ہیں۔ ہم نے اس کھیل میں ملک کا نام  روشن کیا ہے تو بورڈ اور فیڈریشن  چلانے کا کام ہمیں سونپا جائے۔ ہمیں علم ہے کہ کھیل کو کیسے چلانا ہے۔ لوگوں کو یہ تجویز بھلی بھی لگتی ہے اور اکثر ارباب اختیار اسی پر عمل کرتے  ہیں۔ تاہم یہ دلیل ایسی ہی ہے کہ جیسے کوئی پرائمری کلاس میں بیٹھنے والا بچہ بیس سال بعد کہے کہ اسے اسکول کا پرنسچل بنا دو کہ اس نے بھی اسکول کے امتحانات دیئے ہوئے ہیں۔ سکول میں پڑھنا اور اس کو چلانا بالکل مختلف بات ہے۔ کیونکہ پڑھائی میں امتحان ایک موجود کورس میں سے ہوتا ہے جب کہ بطور منتظم آپ کو نہ صرف امتحانات کی بروقت تکمیل یقینی بنانی ہوتی ہے بلکہ اپنے طلبا اور اساتذہ کے مفادات کا تحفظ، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اظہار اور نشو نما کے مواقع ، کلاسوں کا ماحول، سکول کا نظم وضبط، سہولیات کی فراہمی،  فیس و تنخواہوں کی مقررہ مدت میں وصولی و ادائیگی اور  بعض غیر متوقع  حالات سے بنزد آزما ہونا بھی اس کے فرائض میں شامل ہوتا ہے ۔ گویا کہ محض طالب علم ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ اچھے پرنسپل بن سکتے ہین، ایسے ہی کسی اچھے کھلاڑی کا اچھا منتظم ہونا بھی شاذ و نادر ہی ہوتا ہے۔کیونکہ  انتظامی طور پر آپ کو کھیل کو نہ صرف چلانا ہے بلکہ اس مین نیا خون بھی شامل کرنا ہے، وسائل بھی پیدا کرنے ہیں اور مختلف مملک کے بورڈز اور فیڈریشنز کے ساتھ اچھے تعلقات بھی رکھنے ہیں اور ان صلاحیتوں کے لئے محض  کھلاڑی ہونا کافی نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ  اب کھیلوں میں جو ٹیمیں عروج پر ہیں، ان میں آپ کو کھلاری انتظامی عہدوں پر نہیں ملیں گے۔ جیسے برطانیہ، آسٹریلیا اور بھارت کے بورڈز دیکھ لیں۔ ہاکی میں آسٹریلیا، ہالینڈ اور جرمنی کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ کھلاڑیوں کو کوچ اور سلیکٹر بنانے میں حرج نہیں کہ یہ انھی کا شعبہ ہے مگر منیجر، بورڈ کا صدر اور ایسے انتظامی شعبے ان کے حوالے کرنا کھیل اور شائقین کھیل کے ساتھ زیادتی ہے۔

آخر میں ایئر مارشل نورخان مرحوم کا تذکرہ کرنا ہے کہ بطور  منتظم ان سے اچھی مثال ہو ی نہیں سکتی۔ وہ ظاہر ہے کہ پائلٹ تھے اور ایئر فورس کے چیف آف ائیر سٹاف کہ جن کی زیرِ قیادت پاکستان نے 1965 کی جنگ لڑی۔ اس میں پاکتسان کی فضائی فوج کے کارنامے زریں الفاظ میں ہی لکھے جاتے ہیں اور لکھے جاتے رہیں گے۔ اس کے بعد وہ جب پی آئی اے کے چیئرمین بنے تو ان کے دور مین پی آئی اے دنیا کی پانچ بہترین ائیرلائنز میں شامل تھی۔ چلیں یہ تو ان کا اپنا شعبہ  ہوا مگر جب وہ ہاکی میں گئے تو انھوں نے ہی عالمی کپ اور چیمپئز ٹرافی کا تصور دیا۔ کرکٹ کے منتظم بنے تو وہ عالمی کپ برطانیہ سے باہر لائے۔ غیر جانبدار ایمپائر کا تصور بھی انھی کا تھا کہ  جس کو بعد ازاں عمران خان نے بھی اپنایا۔ اسکوائش کے منتظم بنے تو جہانگیر خان پاکستان اور عالمی سکوائش کو دیا۔ وہ ان کھیلوں کے کھلاڑی نہیں تھے مگر بہترین منتظم تھے سو وہ جس کھیل میں بھی گئے وہ کھیل پاکستان کی پہچان بنا۔ کھیلوں مین ان سے کہیں بڑے نام ہوں گے اور بہت باریکیاں بھی جانتے ہوں گے مگر کوئی ایک منتظم ان سے آدھا کام تو کر دکھائے۔
سو ان کھیلوں کے احیاء اور تنِ مردہ میں جان ڈالنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کو اچھے منتظم دیئے جائیں کہ جن میں بصیرت ہو جو بین السطور پڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ یہاں پر 2010ء میں ہونےوالے سپاٹ فکسنگ کیس کا بھی ضمناً ذکر ہو جائے کہ اس دور مین بورڈ چیئر مین کرکٹر تھے یعنی کہ اعجاز بٹ۔ انھوں نے جس طریقے سے معاملے کو  سنجھالا پاکستان نہ صرف تین کھلاڑیوں سے محروم ہوا بلکہ جگ ہنسائی بھی ہوئی۔ 1990 کی دہائی میں مارک وا اور شین وارن نے بھی سری لنکا میں پچ کی معلومات بکیوں کو دینے کا اعتراف کیا تھا مگر ان  کے بورڈ نے ان پر خود ہی جرمانہ کیا اور معاملہ رفع دفع کر دیا ۔ جب کہ ان کے بورڈ کی انتظامیہ  میں کوئی کھلاڑی نہیں موجود تھ
‎ا۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s