Leave a comment

عید قربان

لو جی ایک بار پھر ہم پر چھری چل گئی اور ہمیں لکھنے پر مجبور کر دیا گیا- ہم پیشہ ور لکھاری تو ہیں نہیں کہ ہر موضوع پر قلم کشائی کر سکیں مگر یہ بات لودھی کو سمجھانے سے بہتر ہے کہ بندہ بھینس کے آگے بین بجا لے- ہم کورا جواب دیں تو روٹھی ہوئی بیگم کی طرح اٹوانٹی کھٹوانٹی لئے پڑے رہتے ہیں سو ہم ہی یہ سوچ کر دو چار سطریں لکھ مارتے ہیں کہ اس عمر  میں ان کی عادتیں سنوارنے سے بہتر ہے کہ بندہ صفحے کالے کر لے-

اس بار ہم نے سوچا کہ دیکھا جائے کہ صدرِ مملکت کیسے عید مناتے ہیں سو ہم سلیمانی ٹوپی اوڑھ کے صدارتی محل جا پہنچے اور موقع ملتے ہی اندر گھس گئے- اور ایک کمرے میں صدر صاحب کو جا لیا- ہم ایک کونے میں جا بیٹھے کہ جہاں سے ہم ساری کارروائی بآسانی دیکھ اور سن سکیں-  تو آئیے دوستو آپ کو تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں-

صدر: اس بار عید کب ہے ؟

سیکرٹری: جناب ڈائری دیکھ کے بتاتا ہوں- (ڈائری میں نہیں ملتی تاریخ تو سیکرٹری تھوڑا پریشان ہوتا ہے مگر جواب دیتا ہے) جبناب جس دن آپ چاہیں  عید کا اعلان کر دیں گے-

صدر: ہم سب کو ساتھ لے کر چلیں گے- ہم مفاہمت پر یقین رکھتے ہیں -متحدہ والوں سے پوچھ لو کہ کب عید کریں؟

سیکرٹری: جناب اطلاع آئی ہے کہ عید سات تاریخ کو ہے-

صدر: سات تو آنے والی ہے۔ ہم اس بار عید سادگی سے منائیں گے کیونکہ ابھی مادرِ جمہوریت کے انتقال کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔سیکرٹری کیا اس عید پر قربانی کی جاتی ہے؟

سیکرٹری: جی سر کی جاتی ہے قربانی۔

صدر: اس بار ہم بھی قربانی کرنا چاہتے ہیں- کوئی سستا سا جانور بتائو۔

سیکرٹری: جناب سستا جانور قربانی کے لئے جائز نہیں ہے اور جو جائز ہے وہ سستا نہیں ہے-

صدر: ہم فلسفہ نہیں سننا چاہتے۔ ہم قربانی کرنا چاہتے ہیں۔

سیکرٹری: جناب معمولی سے معمولی قربانی پچاس ہزار سے کم نہیں ہے۔ بلی جتنا بکرا آتا ہے اتنی رقم میں-

صدر: ہماری رقم تو باہر ہے اور وہ اندر نہیں آ سکتی ۔ اب ہمیں اس مسئلے کا حل بتائو-

سیکرٹری: جناب آپ کو قربانی کی کیا ضرورت ہے؟ قربانی تو سال میں ایک دفعہ کرنی ہوتی ہے تا کہ یہ احساس دل میں رہے کہ اللہ کی  رضا کے لئے کچھ بھی قربان کیا جا سکتا ہے- آپ تو روز عوام کی قربانی کرتے ہیں- سولہ ہزار عوام تو آپنے چار سال میں  قربان کر دئے ہیں-

صدر: وہ تو ہماری مفاہمت کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ہم تمام لوگوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں- ہم کوئی رائے ونڈ کےمولوی کی طرح سیاسی تنہائی کا شکار تو نہیں ہیں ناں- ہماری سیاست کھپے کھپے کھپے-

سیکرٹری: بجا فرمایا حضور آپ نے۔ آپ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے- آپ کا نام تاریخ میں سنہری حروف میں لکھا جائے گا- آپ کے دور میں ہی تو اٹھارویں تومیم ہوئی۔ حقوقِ بلوچستان بل منظور ہوا۔ اپنے اختیارات آپ نے ہی تو پارلیمنٹ کو بخشے۔ آپ عظیم ہیں عظیم

صدر: ہمیں قربانی کرنی ہے- اور رقم نہیں ہے قومی خزانے میں-(کیونکہ ہم وہاں کچھ رہنے ہی نہیں دیتے)۔ آخر سفیروں نے ہمیں عید ملنے آنا ہے تو ہم انھیں کیا پیش کریں گے؟

سیکرٹری: جناب آپ وزیرِ خزانہ سے مشورہ لیں۔

صدر: نہیں وزیرِ خزانہ اپنا رونا شروع کر دیتا ہے- تم وزیرِ داخلہ اور سابق وزیرِ قانون کو بلا لائو- وہ ہر مسئلے کو سلجھا لیتے ہیں-

(دونوں حضرات کو بلایا جاتا ہے اور سلام دعا کے بعد مسئلہ بیان کیا جاتا ہے)

سابق وزیرِ قانون: یہ سب تختِ لاہور والوں کی سازش ہے مگران سیاسی اداکاروں کو آخر کار مات ہونی ہے۔ ڈینگی تو ان سے قابو آتا نہیں اور قربانی کر رہے ہیں- یہ عوام کی خون پسینے کی کمائی  قربانی پر ضائع کے رہے ہیں مگر یاد رکھیں کہ مشکل وقت آیا تو یہ جدہ بھاگ جائیں گے۔ہماری پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ ابھی چند دن پیلے ایک اور شہید بھی ہماری پارٹی سے ہے- یہ لوگ تو مچھروں سے ڈر کے بیرونِ ملک بھاگ جاتے ہیں جبکہ ہم لوگ جیلیں کاٹتے ہیں اور قربانیاں دیتے ہیں-

وزیرِ داخلہ: ہماری دہشت گردوں پر نظر ہے اور جلد ہی ہم انھیں پکڑ لیں گے۔ انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور انھیں حکومتِ پنجاب کی حمایت حاصل ہے۔ تا ہم میں واضح کر دوں کہ ہم سب سے آہنی ہاتھوں سے نبٹیں گے- آپ ہمارے عزم کا اندازہ ہمارے کراچی آپریشن سے لگا سکتے ہیں-

ابھی ہم اس گفتگو سے محظوظ ہو رہے تھے کہ ہمارے موبائل پر کال آنے لگی- کال گھر سے تھی، ہم سے اٹھائی تو گھر والے ہمیں بلا رہے تھے کہ گھر پہنچو ابھی جانور ڈھونڈنے بھی جانا ہے- سو ہم نے یہ کارروائی نظرانداز کر کے گھر جانے کا فیصلہ کیا اور صدر ہائوس سے باہر نکل آئے

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s