Leave a comment

ٹوٹی کہاں پر آکےکمند

پاکستا ن اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹیسٹ آج ختم ہوا اور اس میں آسٹریلیا نے پاکستان کو انتالیس رنز سے زیر کیا۔جب دو ٹیمیں کھیلتی ہیں تو ظاہر ہے کہ ایک جیتتی ہے اور دوسری ہارتی ہے (کبھی کبھی میچ ڈرا بھی ہو جاتا ہے مگر اس کا تناسب موجود ہ عشرے میں خاصا کم ہو گیا ہے) تاہم ایسے بہت ہی کم میچ ہوتے ہیں کہ جن میں ہارنے والی ٹیم جیتنے والی ٹیم سے زیادہ داد و تحسین کی مستحق ٹھہرے اور میچ ہار کر بھی شائقین کے دل جیت لے۔آخری ایسا میچ جو پاکستان ہارا مگر سب کے دل جیتا وہ 2000ء میں ویسٹ انڈیز میں تھا۔ جب ویسٹ انڈیز نے پاکستان کو ایک وکٹ سے زیر کیا تھا۔ اس میںثقلین مشتاق نے یقینی رن آئوٹ جب کہ دونوں بلے باز وکٹ کے ایک ہی طرف تھے، چھوڑ دیا تھا۔ اس کے علاوہ امپائر کے فیصلے بھی پاکستان کی شکست کی وجہ بنے تھے۔آج قریب ساڑھے سولہ برس بعد پاکستان ٹیم میچ ہار بھی سر اٹھا کر کھڑی ہو سکتی ہے کیونکہ اس نے اپنے شاندار کھیل سے اچھی کرکٹ دیکھنے والے لاکھوں شائقین کو محظوظ کیا۔
میچ کے تیسری شام کھانے کے وقفے پر آسٹریلیا نے اپنی باری ختم کر کے پاکستان کو چار سو نوے کا ہدف دیا تو عام تاثر یہی تھا کہ یہ میچ اگر اسی شام نہ ختم ہوا تو بھی چوتھا دن میچ کا آخری دن ثابت ہو گا اور پاکستان ہدف کا تعاقب تو درکنار ، اس کا نصف بھی کر پایا تو بڑی بات ہو گی۔ اس تاثرکو پاکستان کی پہلی اننگز کی کارکردگی سے تقویت بھی ملتی تھی کہ جہاں پوری ٹیم ایک سو بیالیس رنز ہی بنا پائی۔یہ بھی غنیمت تھا کہ ابتدائی آٹھ وکٹیں تو رات کی مصنوعی روشنیوں میں محض سڑسٹھ رنز بنا پائی تھیں اور اس مرتبہ بھی اننگز کا آغاز برقی قمقموں میں تھا۔
اس مرتبہ پاکستان نے پچھلی غلطیوں سے سبق سیکھا اور رات میں محض دو ہی وکٹ گنوائے۔ مگر پھر بھی دو دن اور چار سو بیس رنز۔دن کے ابتدا میں اظہر اور یونس خان نے مزاحمت دکھائی مگر بارش کے وقفے کے بعد اظہر آئوٹ ہو گئے۔ مصباح کچھ ہی دیر کے مہمان ثابت ہوئے۔ اس کے بعد یونس خان ایک ٖیر ذمہ دارانہ شارٹ پر آئوٹ ہو گئے۔ جب کھانے کا وقفہ ہوا تو پاکستان کی آدھی ٹیم دو سو پر پویلین میں موجود تھی۔ مصنوعی روشنیوں میں آسٹریلیا کو پھر نئی گیند ملی او ر اس پرسرفراز نے بھی دھوکا دے دیا۔ اب پاکستان کا سکور 220 پر چھ آئوٹ تھا۔یعنی کہ ہدف کا نصف بھی نہیں ہوا تھا۔ رات تھی نئی گیند تھی۔ آئوٹ آف فارم اسد شفیق تھے اور پاکستان کے ٹیل اینڈرز کہ جو چلتی پھرتی وکٹیں ہیں۔سو سبھی کو توقع تھی کہ بس میچ ابھی ختم ہوا کہ ابھی ہوا۔مگر اسد اورعامر نے جم کر مقابلہ کیا او شاندار بلےبازی کی۔ر پاکستان نے تین سو کا ہندسہ عبور کر لیا مگر عامر ذاتی نصف سینچری سے دو رنز قبل ہمت ہار گئے۔وہاب ریاض آئے تو انھوں نے اسدکےساتھ مل کر مشن جاری رکھا۔ اس موقع پر آسٹریلیا نے میچ ختم کرنے کے لئے مزید آدھ گھنٹے کی مہلت لی مگر اسد اور وہاب اپنے مشن پر ڈٹے رہے۔تاہم رات کے آخری اوور میں اسد کی سینچری ہوتے ہی وہاب بھی آئوٹ ہو گئے۔اب آخری روز پاکستان کو ایک سو آٹھ رنز کی ضرورت تھی اور دو وکٹیں باقی تھیں۔ پاکستان نے دن اک محتاط اور اچھا آغاز کیا۔ اسد کا ساتھ دینے یاسر آئے اور کمال مہارت اوراہلیت سے دونوں رنز بڑھاتے گئے۔ یہاں تک کہ ہدف پچاس رنز کے فاصلے پر رہ گیا۔ اس وقت یہ امید ہو چلی تھی کہ شاید ہمارے بلے باز ایک نئی تاریخ رقم کر لیں۔مگر کچھ ہی دیر بعد اسد ایک نہایت ہی اچھی گیند پر اپنی وکٹ نہ بچا سکے اور ان کے فوراً بعدیاسر رن آئوٹ ہوئے تو پاکستان کا سفر انتالیس رنز قبل ختم ہو گیا ۔
اگر پاکستان پہلی اننگز میں آسٹریلیا کی آخری وکٹ جلدی لے لیتا یا اگر دوسرے روز پاکستانی بلے باز تنکوں کی مانند نہ بکھرتے اور پاکستان اپنی پہلے اننگز میں دو سو ہی کر لیتا ، اگر مصباح کچھ رنز کر دیتے ،یونس غیر ذمہ دارانہ آئوٹ نہ ہوتا یا وہاب ریاض کل آخری اوور میں آئوٹ نہ ہوتاتو میچ کا نتیجہ شاید مختلف ہوتا۔تا ہم ہماری رائے میں دونوںاننگز میں ہماری آخری وکٹ رن آئوٹ سے ملی۔ ٹیسٹ میچ میں یہ جرم ہے اور ایسے میچ میں کہ جہاں فرق ہی محض چالیس رنز ہو وہاں تو یہ سنگین جرم ہے۔
اس میچ سے کچھ نتائج جو اخذ کیے جا سکتے ہیں وہ یہ کہ اگر آپ ہار نہ مانیں اور ڈٹے رہیں تو آپ کو مواقع ملتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر آپ بازی پلٹ سکتے ہیں۔اگر پاکستان اپنی صلاحیت کے مطابق کھیلے تو یہ سیریز یکطرفہ نہیں ہو نی چاہیے۔ پاکستان اگر جیتے ناںتو بھی سیریز برابر کر سکتا ہے مگر اس کے لئئے پاکستانی ٹیم کو اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لانا پڑے گا۔ہمارے بلےبازوں کو رنز بنانے ہیں تو بائولرز کو وکٹیں لینی ہیں اور اس کے لئے فیلڈرز کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔آسٹریلیا نے بھی اسد شفیق کا کیچ چھوڑا مگر اسمتھ کا کیچ پاکستان ٹیم کو سو رنز بھاری پڑا بلکہ اگر کہا جائے کہ آسٹریلیا اپنی فیلڈنگ کی وجہ سے جیتا تو بیجا نہ ہو گا۔کئی یقینی چوکے تو صرف وارنر نے بچائے اور یہی حال دوسرے حریف کھلاڑیوں کا رہا۔
اس میچ سے اندازہ ہوا کہ ہمارے گیند باز بھی اتنے برے بلے باز نہیں ۔اگر ان کو اعتماد دیا جائے اور ان پر ذمہ داری ڈالے جائے تو وہ ٹیم کے مجموعے میں اہم رنز کا اضافہ کر سکتے ہیں۔موجودہ کرکٹ میں گیندبازوں کے رنز اکثر ہار اور جیت میں امتیاز ثابت ہوتے ہیں۔ گو کہ پاکستان ٹیم غیر مستقل مزاج ہے اور اس کے متعلق کوئی پیشین گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے مگر اعتماد کےلئے یہ میچ ایساہی ثابتہو گا جیسا کہ 1995ء میں سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کا ایک روزہ میچ ۔ یاد رہے کہ اس میچ میں ویسٹ انڈیز نے پچاس اوورزمیں 333 رنز بنائے تھے۔ جواب میں سریلنکا نے شندار آغاز کیا مگر سو رنزپر پانچ آئوٹ ہوگئے۔اس کے بعد ہشان تلکا تنے اور بائولرز نے مقابلہ جاری رکھا اور سری لنکا کی ٹیم 329 رنز بنا کر آئوٹ ہوئی۔ گو سری لنکا میچ ہار گیا مگر ان کو وہ اعتماد ملا کہ جس کی بنا پر وہ 1996ء میں عالمی چیمپئن بن گئے۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s