Leave a comment

پاکستان بمقابلہ نیوزی لینڈ

پاکستان ایک بار پھر ہار گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلا میچ جیت کر سیریز میں برتری حاصل کی تھی مگر پھر اس کو برقرار نہ رکھ پائی اور پھر آخری میچ تو تحفے میں پیش کر دیا حریف ٹیم کو۔
جب ٹیم روانہ ہوئی تھی نیوزی لینڈ کے لئے تو کہا یہ گیا تھا کہ ورلڈ کپ کی تیاری کا اچھا موقع ملے گا۔ ہمارے کھلاڑیوں کو ایک اچھی ٹیم کے خلاف کھیل کر اپنا کھیل سدھارنے کا موقع ملے گامگر ایسا کچھ نہیں دکھائی نہیں دیا۔
پہلا میچ ہم نہیں دیکھ پائے کہ سفر میں تھے۔ شاید اسی لئے پاکستان جیت گیامگر اتنا ہمیں معلوم کہ پہلا اوور حفیظ نے میڈن کھیلا تھا۔ آفریدی نے 8 بالوں پر تئیس بنائے تو کچھ مناسب مجموعہ مل گیا۔ مگر ان کا سکور پھر بھی دس اوورز میں ایک وکٹ پر نوے تھا۔اگر ہمیں تین چار وکٹیں اوپر تلے نہ مل جاتیں تو میچ پاکستان یہ بھی ہار چکا تھا۔ ان کے کوچ نے میچ کے بعد کہا کہ ہمیں آفریدی کو قابو کرنا ہے۔
اگلے میچ میں پھر پاکستان نے پہلے بیٹینگ کی اور 168 کا مناسب مجموعہ بورڈ پر سجایا۔اگر آپ اس اننگز کا تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ پاکستان نے کم از کم 30 رنز کم سکور کئے۔ حفیظ نے 23 بالوں پر 2چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 19 رنز بنائے۔ گویا 3 بالوں پر چودہ اور بقیہ 20 بالوں پر 5۔ صہیب مقصود نے بھی ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے اتنے ہی رنز قریب اتنی بالوں پر بنائے۔ سوائے عمر اکمل کے سب ہی ایسا کھیلے۔ یعنی کہ ہماری ٹی20 کا مطلب صرف چوکا چھکا یا ڈاٹ بال ہے۔ کرکٹ نہ ہوئی گلی ڈنڈہ ہو گیا۔ پھر بھی مجموعہ ایسا تھا کہ امید تھی کہ بولرز اتنے ہدف کا دفاع کر پائیں گے۔ یاد رہے کہ پاکستان 2010 کےسیمی فائنل کے علاوہ کبھی 150 سے زائد رنز بنا کر نہیں ہارا تھا۔مگر اس بار نیوزی لینڈ والوں کے ارادے کچھ اور تھے۔انھوں نے پچھلے میچ مین اوپر تلے گرنے والی وکٹوں سےسبق سیکھا اور ایک بھی وکٹ گنوائے بغیر ہدف پا کر عالمی ریکارڈ بنا دیا۔
تیسرے میچ میں تو ہمیں امید تھی ہی نہیں کہ پاکستان نے 2002 کے بعدمحدود اوورز کی کرکٹ میں کسی بھی دوطرفہ سیریز کا فیصلہ کن میچ نہیں جیتا ماسوائے دو بار زمبابوے کو زیر کرنے کے۔ سو اللہ کا شکر کہ پاکستان نے یہ روایت بھی برقرار رکھی۔ اور اس کا آغاز پہلے فیلڈنگ کرنے کے فیصلے سے ہوا۔ عمران خان کے دور میں یہ حکمت عملی ہوتی تھی کہ اہم میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنا ہے کہ مخالف ٹیم پر رنز کا دبائو رہے اور وہ غلطی کریں۔ مگر ہماری ٹیم کی حکمت عملی تھی کہ پہلے بائولنگ کروا کر انھیں سو سے کم پر آئوٹ کر دینا ہے۔ اس کے لئے تمام تیاری مکمل تھی مگر افسوس کہ قسمت کے ساتھ ساتھ نیوزی لینڈ والے بھی دھوکہ دے گئے۔ آداب میزبانی تک بھول گئے اور جم کر مار لگائی ہمارے باولرز کی۔ ابتدائی تین اوورزمیں ہی بیالیس رنزبن چکے تھے۔ ہم نے تو سوا دو سو کی آس لگا لی تھی مگر پھر نیوزی لینڈ والوں کو ہمارے ایک وزیر نے کہا کہ ‘ کوئی شرم ہوتی ہے’ کوئی حیا ہوتی ہے’ تو کچھ کو تو آ ہی گئی حیا مگر کورے اینڈرسن کا کورا دماغ یہ بات نہ سمجھ سکا۔ بیس اوورز کے خاتمے پر دو سو کا مجموعہ منہ چڑا رہا تھا۔
مگر ہمارے شاہینوں کے ذوق پرواز میں بھلا رنز سے کیوں کوتاہی آتی۔ وہ اپنی سبک رفتار سے وکٹ سے اڑان بھرتے رہے اور سیدھا پویلین میں اترتےرہے۔ صرف سرفراز رہ گیا۔ وہ عین موقع پر دھوکا دے گیا مگر اس کا کیا قصور۔ اس کو پچھلے دو میچوں میں باری نہیں ملی تھی سو وہ اپنی باریاں پوری کرتا رہا۔اور سفینہ چند اوور قبل ہی کنارے پر ہی بھنور کا شکار ہو گیا۔
نوے کے عشرے میں پاکستان کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس کے بارے میں پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی۔ پاکستانی ٹیم اگر جیتا ہوا میچ ہار سکتی ہے تو اچانک پلٹا کھا کر ہاتھ سے نکلی بازی بھی جیت سکتی ہے اور پاکستان کی ناقابل پیشین گوئی صلاحیت پر اعتراض کیا جاتا تھا کہ پاکستان آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کی مانند قابل بھروسہ کیوں نہیں۔ سخت محنت اور کوشش کے بعد ہم کسی حد تک اب قابل بھروسہ ہو چکے ہیں۔ اب ہم صرف جیتا ہوا میچ ہار سکتے ہیں اور تو اور ہارا ہوا میچ ہارنا بھی ہمارے لئے چنداں مشکل نہیں۔ تاہم ہار کو جیت میں بدلنا ابھی ہمارے شاہینوں کو نہیں آتا کہ یہ شاہین کبوتروں کے معاشرے کے پروردہ ہیں۔
اب ایسے شاہینوں سے عالمی کپ میں بہت زیادہ توقعات وابستہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اقوام متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے حل کی توقع کرنا۔

23-01-2016

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s