Leave a comment

پاکستان ہاکی اور ویسٹ انڈیز کرکٹ میں قدرِ مشترک۔۔۔۔۔۔۔(حصہ اول)

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان سیریز کا تیسرا ٹیسٹ میچ جاری ہے۔ اس سیریز میں تینوں ٹی ٹونٹی، تینوں ایک روزہ میچ اور دونوں ٹیسٹ پاکستان نے جیتے ہیں اور امید یہی ہے کہ تیسرا بھی پاکستان جیتے گا۔ اور آج ہماری قومی ہاکی ٹیم ایشین چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے ہاتھوں شکست سے دو چارہوئی۔ یہ دو مختلف ممالک کے دو مختلف کھیل ہیں مگر ان میں حیرت انگیز مماثلت ہے اور ان کے عروج و زوال کی داستان اور اس کی وجوہات مشابہہ ہیں۔
ویسٹ انڈیز نے کرکٹ 1929-30 میں شروع کی۔ ابتدائی چند سال اس کے لئے مشکل تھے مگر اس عشرے میں بھی انھیں جارج ہیڈلی جیسا بیٹسمین ملا جسے دنیا ‘بلیک بریڈمین’ بھی کہتی ہے۔ جلد ہی اس نے اپنا لوہا منوا لیا اور 1950ء کی دہائی میں ویسٹ انڈیز کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا تھا۔ تین ڈبلیوز، سر گیری سوبرز روہن کنہائی جیسے بلے باز اور ویسلے ہال، سونی راما دہن جیسے گیند باز ان کی طاقت تھے اور کسی بھی ٹیم کو ناکوں چنے چبوا سکتے تھے اور پچاس اور ساٹھ کی دیائی کے ابتدائی سالوں میں یہی ہوا اور ویسٹ انڈیز نے شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ پاکستان 1947ء میں آزاد ہوا اور بانیء پاکستان نے ہاکی کو پاکستان کا قومی کھیل قرار دیا۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ مشترکہ ہندوستان کی کرکٹ ٹیم ابھی ایام طفولیت میں تھی اور اکثر ہار اس کا مقدر بنتی تھی مگر ہاکی ٹیم 1928ء سے اولمپک چیمپئن تھی اور دھیان چند 1930 اور 1940 کے عشرے کے بہترین کھلاڑی تھے اور ان کا شمار آج بھی ہاکی کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔ قومی کھیل ہاکی میں ابتدا میں ہی پاکستان نے اپنے جھنڈے گاڑنے شروع کر دیئے۔ 1948ء اور 1952ء کے اولمپک کھیلوں میں پاکستان سیمی فائنل تک پہنچا۔ 1956ء میں میلبورن میں ہاکی کا فائنل کھیلا اور 1960ء میں روم میں پاکستان نے پہلی مرتبہ اولمپک چیمپئن کا تاج اپنے سر پر سجایا۔ اسی دوران 1958ء کے ٹوکیو ایشیائی  کھیلوں میں پاکستان نے اولین ایشین چیمپئن ہونے کا اعزاز بھی پایا۔
1960ء کا عشرہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز دونوں کے لئے ملا جلا رہا۔ پاکستان نے 1964ء کے ٹوکیو اولمپک میں چاندی جبکہ 1968ء کے میکسیکو اولمپک میں سونے کا تمغہ اپنے نام کیا۔ اس دوران 1962ء کے ایشیائی کھیلوں میں ہاکی میں جیت پاکستان کا مقدر بنی تو 1966ء میں دوسری پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔ اسی عشرے میں ویسٹ انڈیز نے ‘سرفرینک وورل’ آسٹریلیا میں ایک شاندار سیریز کھیلی جو آج بھی کرکٹ کی بہترین سیریزوں میں شمار ہوتی ہے۔ آسٹریلیا کو اپنے ملک اور برطانیہ کو برطانیہ میں شکست دی جبکہ آسٹریلیا میں شکست کامنہ دیکھنا پڑا اور برطانیہ نے بھی ویسٹ انڈیزکو اس کے گھر میں دھول چٹائی۔
1970ء اور 1980ء کے عشرےکھیلوں کے لحاظ سے پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے سنہرے ادوار تھے۔  اسی مدت میں
 پاکستان نے ہاکی میں اور ویسٹ انڈیز نے کرکٹ میں دنیا پر حکمرانی کی۔ ویسٹ انڈیز کی بات کریں تو دنیا کے بہترین کھلاڑی ان کی ٹیم میں تھے۔  گورڈن گرینج، ہینز، رچرڈسن،کلائیو لائی ویوین رچرڈز جیسے بلے باز اگر گیند بازوں کے لئے دہشت تھے تو گارنر، ہولڈنگ، مارشل  ایمبروز والش جیسے گیند باز کسی بھی بیٹنگ لائن کے لئے ڈرائونا خواب۔ اسی دورمیں انھوں نے ہر ملک کو ہر جگہ چاروں شانے چت کیا۔ بھلے برطانیہ کے میدان ہو جہاں سوئنگ کی حکمرانی ہوتی ہےیا آسٹریلیا کی تیزپچیں، بھارت کی سپنرز کے لئے سازگار حالات ہوں، نیوزی لینڈ  کے چھوٹے میدان ہوں یا پاکستان کے ریورس سوئنگکے لئے سازگار میدان انھوں نے ہر میدان پر اپنے جوہر دکھائے اور ہر ٹیم کو ہر قسم کے حالات میں زیر کیا۔ کونسا  اعزاز تھا جو کہ ان کے پاس نہیں تھا۔ ابتدائی دونوں عالمی کپ جیتے، شارجہ کپ ہو یا بینسن اینڈ ہیجز سیریز ہر اعزاز ان کے نام رہا۔ ان کا نام کامیابی کی ضمانت تھا اوردنیا ویسٹ انڈیز کو کالی آندھی کے نام سےجانتی تھی۔
ستر اور اسی کے عشرے میں پاکستان ہاکی بھی ویسٹ انڈیز کی کرکٹ کا ہی دوسرا نام تھا۔ یہ بھی کامیابیوں کی ایک داستان تھی۔ اس دور میں پاکستان کے پاس بھی اپنے وقت کے بہترین کھلاڑی تھے۔ سمیع اللہ، کلیم اللہ، حسن سردار، اصلاح الدین، شہناز شیخ اور شہباز احمد جیسے کھلاڑیوں کی خدمات میسر تھیں۔عالمی کپ اور چیمپئز ٹرافی کی تجویز پاکستان ہی کی تھی اور پہلا عالمی کپ اورابتدائی دو چیمپئز ٹرافی پاکستان ہی جیتا۔ اس کے علاوہ ایشیائی کھیلوں میں بھی پاکستان نے اپنی دھاک مخالفوں پر بٹھائی رکھی اور اولمپکس میں بھی اپنے معیاری کھیل سے تمام عالم میں شائقین کو اپنا گرویدہ بنایا۔ پاکستان تا حال واحد ملک ہے کہ جس نے عالمی کپ، اولمپکس اور چیمپئز ٹرافی تینوں اعزاز کم از کم تین بار جیت رکھے ہیں۔
1980ء کے عشرےکے اختتامی سالوں میں ان دونوں ٹیموں کے زوال کے آثارشروع ہو چکے تھے۔ 1986ء کا سال پاکستان ہاکی کے لئے ایک ڈرائونا خواب ثابت ہوا۔ پہلے تو ایشیائی کھیلوں کے فیصلہ کن معرکے میں جنوبی کوریا نے پاکستان کو شکست سے دوچار کیا۔ پھر لندن کے عالمی کپ میں پاکستان نے مقابلے میں شامل بارہ ٹیموں میں سے گیارہویں پوزیشن لی۔ اس پر پاکستان ٹیلی ویژن میں زبردست کامیڈی بھی ہوئی۔۔۔دو گانے ‘میں نہیں کھیڈنا کوریا دے نال’ اور ‘یہ ٹیم ہماری ہے، ہر میچ میں ہاری ہے’ تو ہمیں ابھی تک یاد ہیں۔ 1990ء میں پاکستان عالمی کپ کا فائنل کھیلا اور 1994ء میں پاکستان نے پہلی بار ایک ہی برس میں عالمی کپ اور چیمپئز ٹرافی جیتے مگر یہ کامیابیاں محض بجھتے چراغ کی آخری ہچکیاں ثابت ہوئیں اور اب یہ عالم ہے کہ پاکستان ان ٹورنامنٹس کو جیتنا تو درکنار ان میں شرکت کی اہلیت سے بھی معذور ہے۔
ویسٹ انڈیز کو پہلا جھٹکا 1987ء کے عالمی کپ میں لگا جب ابتدائی تینوں عالمی کپ کے فائنل کھیلنے والی ٹیم پہلی بار سیمی فائنل  تک رسائی بھی نہ پا سکی۔اس کے بعد یہ ٹیم محض 1996ء کے سیمی فائنل میں پہنچی۔ درمیانی مدت میں یہ ٹیم کچھ ٹورنامنٹ جیتی بھی جن میں 1993ء میں ٹوٹل سیریز جنوبی افریقہ جس میں پاکستان بھی شامل تھا اور آسٹریلیا میں بینسن اور ہیجز قابل ذکر ہیں مگر تا حال وہ اپنی کارکردگی میں تسلسل کے خواہاں ہیں۔ جیسا  پاکستان ہاکی اب عالمی ٹورنامنٹس میں شرکت کےلئے ترستی ہے، ایسےہی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کرکٹ کے عالمی ٹورنامنٹس میں شرکت کےلئے کوالی فائنگ میچوں میں حصہ لے گی۔
( پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے زوال کے اسباب بھی مشابہہ ہیں جو ان شاء اللہ اگلے کالم میں )
 

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s