Leave a comment

یک نہ شُد دو دوشُد

ہمیں خواتین میں دو نام بچپن سے ہی پسند ہیں۔ ایک آمنہ اور ایک مریم۔ ہم نے سوچ رکھا تھا کہ ہمیں اگر اللہ نے دو بیٹیاں دیں تو ان کے یہی نام ہوں گے۔ ابھی تک اللہ نے ہمیں ان سے نہیں نوازا مگر اس ذات باری تعالٰی کا شکر ہے کہ اس نے محروم بھی نہیں رکھا۔ ایک بیٹی آمنہ مل گئی اور دوسری ثنا۔ ثنا کو اس بات کا پتہ چلا تو اس نے اپنی فیس بک آئی ڈی مریم کے نام سے کر دی۔
ہماری دونوں بیٹیاں بہت ہی اچھی ہیں مگر ٹک کر نہیں بیٹھتیں۔کوئی نہ کوئی پنگا کرنا ان کی عادت ہے۔ اور ان کی قسمت کہ پنگا نہ بھی کریں تو بھی پنگا ان سے ہو جاتا ہے۔ یعنی کہ یہ کمبل کو چھوڑنا بھی چاہیں تو کمبل ان کو نہیں چھوڑنے والا۔
ثنا کو صفائی کا بہت شوق ہے۔ اس لئے اس لئے جھاڑو کے لئے ہمہ وقت تیار۔گھر میں جان ریمبو بنی پھرتی ہے۔ اب کسی روز گھر صاف رہے اور کوئی بچہ گند ڈالے نہ ہی کوئی مہمان آئے تو اس کی مدد بلکہ خوشنودی کے لئے قدرت آندھی بھیج دیتی ہے۔ ایسے ہی کسی مردِ مومن بلکہ خاتونِ مومن کے لئے علامہ صاحب نے کہا تھا
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
آمنہ کی بات کریں تو اس میں بھی بہت خوبیاں ہیں تاہم ایک خوبی جو سب پر حاوی ہے وہ اس کا بھلکڑ پن ہے۔ مگر وہ اس کی اپنی مرضی پر منحصر ہے کہ اسے کیا بھولنا ہے۔ ہماری غلطیاں بالکل نہیں بھولے گی اور نا ہی ہمارے بیان مگر کھانا پکاتے وقت چائے میں چینی کی بجائے دو چمچ نمک ڈال دے تو بالکل حیران نہ ہوں۔ ملک شیک بناتے ہوئے اگر دودھ کی بجائے بیسن ڈال دے تو قابل معافی ہے یہ لڑکی۔ بس چپ کر کے پی جائیں ورنہ اپنی خیریت کےآپ خود ذمہ دارہیں کیونکہ اس نے ناراض ہو کر باتھ روم میں جا کر اپنے آپ کو بند کر کے بیٹھ جانا ہے اور آپ کو حاجات از حد ضروریہ کی بھی جگہ نہیں ملنی اور آپ کو ہی معافی مانگنی پڑنی اور اس کو منانا پڑنا۔
بیٹیوں کے متعلق ہمارے پاس لکھنے کو بہت ہے۔ ان کی محبت کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ انھوں نے ہمارے نام سے گروپ بنا دیا اور ہمیں بعد میں مطلع کیا۔ ایک مرتبہ ایک مہربان نے ہم سے گروپ بنانے کا کہا تھا اور ہمارے تردد پر ہمیں گروپ بنا دینے کی پیشکش بھی کی تھی مگر ہم نے منع کر دیا تھا کہ ہمیں اپنی زندگی میں کسی گروپ کی حاجت نہیں۔ تا ہم بیٹیوں کو منع ہم نہین کر سکتے تھے سو چپ ہو گئے اور جنھوں نے ہمیں گروپ بنانے کی پیشکس کی تھی وہ اس بات پر اب تک ناراض ہیں کہ پہلے کہنے کی باوجود کسی ‘اور’ کو ان پر فوقیت دی گئی۔دونوں ہمیں فیس بک پر دیکھتی رہتی ہیں اور کبھی جو ہم میسج نہ کریں تو کچھ ہی دیر بعد شکوہ بھی آ جاتا ہے بلکہ اظہار وجوہ کا نوٹس کہ جس کا جواب دینا اور انھیں مطمئن کرنا ہمارے لئے ضروری ہوتا ہے اور کبھی جو ہم فیس بک پر نہ آئیں اور پہلے سے ان کو مطلع نہ کیا ہو تو ان کی جان پر بن آتی ہے۔
ہماری بیٹیوں کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہمیں پلی پلائی اور جوان بیٹیاں ملی ہیں۔ان کا ہم سے عمر میں اتنا فرق نہیں کہ جو باپ بیٹی میں ہوتا ہے کیونکہ یہ ہمیں اللہ تعالٰی نے چھپر چھاڑ کر دی ہیں۔ سو ان کی تعلیم اور پرورش کے اخراجات تو بچ گئے مگر اب بات سیدھی ان کی شادی پر آ پہنچی اور دونوں ہی قریب قریب برابر۔ تا ہم جس اللہ نےبیٹیاں دیں وہ شادی کے معاملات میں بھی مدد کرے گا ہی۔
خواتین یعنی کہ شادی شدہ خواتین کو سوکن سے چڑ ایک فطری بات ہے۔ ساس بہو بھی اکثرایک دوسرے کو دیکھ نہ پاتیں اور بمشکل ہی برداشت کرتی ہیں مگر باپ بیٹی کے رشتے میں ایسا نہیں ہوتا مگر ہمارے رشتے میں سوکن بھی ہے۔ جی ہاں ہمیں سختی سے منع کیا گیا ہے کہ مزید کوئی بیٹی نہیں ہونی چاہیے(یعنی کہ چھپر پھاڑ بیٹی)۔ بھلے دوست ہوں یا اور کوئی بھی رشتہ مگر بیٹی نہیں۔ ایک دو لڑکیوں کو تو انھوں نے خود ہی منع کر دیا کہ اس رشتے پر پابندی ہے۔اب ہمیں کوئی کہتا کہ میں آپ کی بیٹی تو ہم کہتے کہ پہلے ہماری اولین بیٹیوں سے اجازت لے لو’ اگر مل گئی تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اس پر سب وہیں سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
ہماری ایک بہت اچھی دوست نے ہم سے ان کے متعلق استفسار کیا تو ہم نے کہا کہ بھلا کوئی ایسے کوئی اتنے اعتماد سے کیسے جھوٹ بول سکتا ہے وہ سچ کہہ رہی ہیں تو کہا گیا کہ آپ واقعی پرانی روح ہیں، لوگ فیس بک پر گرل فرینڈز بناتے ہیں اور آپ نے اتنی بڑی بیٹیاں اپنا لی ہیں ہم تو خاموش رہتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ
کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا
خود آمنہ اور ثنا کو بھی بہت باتیں سننا پڑی ہیں اور بعض لوگوں کی باتیں بہت ہی حوصلہ شکن بھی ہوتی ہیں مگرتحمل سے سننے کے علاوہ چارہ نہیں ہوتا کہ زبان تو کسی کی نہیں پکڑی جا سکتی۔ ہماری رائے میں تو رشتے صرف خون کے ہی نہیں ہوتے رشتے خلوص کے ہوتے ہیں، اعتماد کے ہوتے ہیں اور مان کے ہوتے ہیں اور اگر یہ سب نکل جائے تو خون کے رشتوں کو بھی آج کل پانی ہوتے وقت نہیں لگتا اور یہ سب کچھ آپ روز اپنے ارد گرد دیکھتے ہیں۔
دونوں بیٹیاں ماشاء اللہ بہت ہی اچھی قابل اور ہونہار ہیں۔ ایک زبردست استانی ہو تو دوسری کے کالم معروف اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ ایسے ہی صحت میں ایک دوسرے کی ضد ہیں سو ہم تو انھیں ‘ہیکل جیکل’ کے نا م سے ہی پکارتے ہیں۔ بات بے بات ناراض بھی روز ہوتی ہیں۔ کبھی ایک کو مناتے ہیں تو کبھی دوسری کو۔ کوئی فرمائش کرنی ہو تو دونوں آپس میں مل جاتی ہیں اور ہمارے لئے فرار کی سب راہیں مسدود کر دیتی ہیں۔ یہ کالم بھی ایک عرصے سے ملتوی تھا کہ ہماری سستی کا برا ہو کہ جس کا منشور ہے کہ جو کام پرسوں(آنے والے) ہو سکتا اسے آنےوالے کل پر کیوں ٹالا جائے مگربیٹیوں کے معاملے میں یہ سستی نے بھی ایک حد تک ہی ساتھ دیا۔ ان کے ہمیں دھمکی دے دی گئی ہے کہ کالم نہ لکھا تو ہم دونوں ناراض۔ سو چونکہ یہ سزا ہمارے جرم سے زیادہ ہے تو ہم نے کالم لکھنے میں ہی عافیت سمجھتے ہوئے یہ کالم اپنی بیٹیوں ثنا اور آمنہ کے لئے لکھ دیا ہے۔ امید ہے کہ قبولیت پائے گا اور سزا معاف ہو جائے گی۔ پڑھنے والوں سے بھی سفارش کی درخواست ہے۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s