Leave a comment

گداگری کی صنعت


چند روز قبل ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں ایک محترمہ اس امر پر حیرت کا اظہار فرما رہی تھیں کہ پاکستان کی جان لیوا مہنگائی کا اثر ہے کہ کراچی کی شدید گرمی کا کہ دورانِ سفر ان کی گاڑی میں ایک بھکاری آیا اور صدا لگائی ـــکہ میری بہنوں میری مدد کرو۔میں بہت غریب ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں۔ ہم نے ان محترمہ سے کہا کہ وہ بھکاری بالکل سچ بول رہا تھا اور آپ کو اس کے سچ کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ آج کل کم ہی لوگ اتنے راست گو ہیں۔ ان کے استفسار پر ہم نے بتایا کہ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح اس قوم کے بانی اور باپ تھے اور ظاہر ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں تو نہ صرف وہ بھکاری یتیم ہے بلکہ اس کے بچے بھی یتیم ہیں۔
ایک مرتبہ ایسا ہی ہماری والدہ کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ سفر کر رہی تھیں کہ ایک سٹاپ پر بس رکی تو ایک عورت ایک چھوٹا سا بچہ اٹھائے گاڑی میں داخل ہوئی اور لگی صدا لگانے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میری مدد کرو۔ والدہ نے کچھ رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھی اور ازراہِ ہمدردی دریافت کیا کہ بچو ں کا والد کہاں ہے ۔ جواب آیا کہ ۔او شودا دوئی گڈی وچ منگنا پیا وے۔یعنی وہ بیچارہ دوسری بس میں بھیک مانگ رہا ہے۔
بھکاریوں کی تعداد ہماری آٓبادی کے تناسب سے بڑھی ہے۔پہلے ہمیں بازاروں میں چوراہوں پر فقیر بیٹھے نظر آتے تھے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتے رہتے تھے۔ جوں ہی کوئی راہگیر نظر آتا ، اندھے بن کر آنکھیں پٹپٹانے لگتے اور آنکھو والو، آنکھیں بڑی نعمت ہیں کی صدا لگاتے۔بعض کے اعضا کٹے ہوتے اور ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتیں۔ مسجد کے باہر بھی کبھی کبھار کوئی نظر آ جاتا تھا مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا تھا۔
اب توصورت حال بہت ہی دگرگوں ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تُو ہی تُو ہے والا معاملہ ہے۔ بازاروں ، پارکوں اور ہوٹلوں کو تو چھوڑیے، جہاں جایئے بھکاری آپ کے ساتھ ساتھ،مسجد یعنی کہ اللہ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر مگر اللہ ہی کا واسطہ دے کر بندوں سے عرضِ تمنا کی جاتی ہے۔ہم جیسے جو مسجد میں کم ہی جاتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں کیونکہ گھر بھی محفوظ نہیں۔ ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد گھنٹی بجتی ہے اورانسان کسی بہت اپنے کو دیکھنے کی آس میں دروازہ کھولتا ہے تو مانگنے والوں کی صدا سن کر اسے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کونین کی گولیوں کا پورا پیکٹ چبا لیا ہو۔ اگر کسی کو ازراہِ ہمدردی یا مستحق سمجھ کر کچھ دے دیا جائے تو بندے کو اپنی غلطی کا فوری اندازہ ہوتا ہے جب مانگنے والوں کا پورا جتھہ اس کے سر پر سوار ہو کر اس کی واپسی کی سب راہیں مسدود کر دیتا ہے کہ اس کو دیا ہے تو ہمیں بھی دو۔جس کو دی اس کے کوئی سرخاب کے پر تھے جو ہم میں نہیں۔ اکثر تو جس کو بھیک دو وہ خود ہی سب کو بتا دیتا ہے کہ یہی آسامی ہے اس کو پکڑ لو۔
اکثریت ان بھکاریوں کی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کما کر کھا سکتے ہیں اور انھیں بھیک کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ان کی جھگیوں میں تمام آسائشاتِ زندگی موجود ہوتی ہیں۔بلکہ اکثر تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ شاید خود کئی لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ایسے بھکاریوں کی وجہ سے اکثر مستحق بھی محروم رہ جاتے ہیں۔کسی کا نقصان ہی کسی کا فائدہ ہے۔ اس دور میں جیسے کھیل و سیاحت محض شوق نہیں رہے بلکہ صنعت بن چکے ہیں بالکل ایسے ہی گداگری بھی ایک صنعت ہے ۔دیگر صنعتوں کے طرح یہ صنعت بھی مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال سے یہ انحطاط کا شکار ہے۔ بھیک مانگنا ایک مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ جگہ جگہ بھیک کے لئے مارا مارا پھرنا،لوگوں کی باتیں اور طعنے سننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے باوجود اس پیشے سے منسلک افراد کی وہ عزت نہیں ہے کہ جو دیگر شعبہ حرفہ سے متعلق افراد کی ہے۔تاہم گداگر مشکلات کے باوجود تن دہی سے اپنے فن سے پیوستہ ہیں۔مشکلات و تکالیف کے باوجود اپنے بچوں کو بھی اسی شعبے سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں یہ صنعت بھی وقت کے بے رحم ہاتھوں ختم ہی نہ ہو جائے۔یہاں بھکاریوں کے بچوں کی سعادت مندی کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی کہ وہ دیگرشعبوں کے افراد کے بچوں کی مانند ناخلف نہیں ہیں اور اپنے آبا کے لئے شرمندگی کا باعث نہیں بنتے۔دیگر شعبوں کی نسبت یہ صنعت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔حکومت ہر چند ماہ بعد کاسہٗ گدائی لے کر بیرون ممالک کے دورے کرتی ہے تا کہ گداگروں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔اس لحاظ سے یہ بات یقینی ہے کہ حالات کیسے ہی دگرگوں کیوں نہ ہو جائیں یہ صنعت قائم رہے گی۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی میڈیا والے بھی اس صنعت کی حوصلہ افزائی میں مقدور پھر حصہ لیتے ہیں اور ایسے شو بڑے فخر سے پیش کرتے ہیں کہ جن سے عوام میں گداگری سے رغبت پیدا ہو۔ ماہِ رمضان میں تو ان پروگراموں کی برسات ہی ہو جاتی ہے۔
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اور گداگری بھی محض تاریک رخ پر مشتمل نہیں ۔ ایک روشن پہلو بھی ہے اس کا کہ بھکاری ہمارے محسن ہیں کیونکہ وہ ہمیں معافی مانگنا سکھاتے ہیں۔ورنہ ہم پاکستانی تو اتنے انا پرست ہیں کہ عمریں گزرجاتی ہیں اور ہماری لڑائیاں نہیں ختم ہوتیں۔اب بھکاریوں کو معاف کرو معاف کرو کہنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ یہ تکیہ کلام بن جاتا ہے۔پھر جب بھی کبھی لڑائی ہو یا بحث مباحثہ تو باتوں باتوں میں بولنے والے کے منہ سے نکلتا ہے کہ معاف کرو اور یوں جنگِ عظیم چھڑنے سے رہ جاتی ہے۔
گداگری کی صنعت ہم تک محدود نہیں۔ اب تو سعودی عرب میں بھی بھکاری بکثرت ملتے ہیں بلکہ حرمین میں بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کبھی شامی کوئی اپنے حالات کا رونا روتا ہے تو کبھی یمنی۔ اکثر تو ہمیں پاکستانی ملے اور کہا کہ ان کے پاس اتنے ریال تھے مگر جیب کٹ گئی۔وہ جگہ بھی ایسی ہے کہ ہم جیسے جز رس بھی اپنی استطاعت کے مطابق مدد کر دیتے ہیں۔ایک مرتبہ ہم غارِ حرا کی زیارت کو گئے۔غارِ حرا اور غارِثور دونوں پہاڑوں میں کافی بلندی پر واقع ہیں اور ان تک پہنچنے میں دو تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔غارِ ثور کی مرتبہ تو ہم محروم رہے مگر غارِ حرا کی مرتبہ ہم جب نصف چڑھائی چڑھ چکے توغار کے دیدار سے پہلے بھکاریوں کا دیدار شروع ہو گیا۔ان میں ایک بھکاری معذور تھا۔ وہ لوگوں کو دیکھ کر کوئی تبصرہ کر دیتا جسے دیکھ کرزائرین مسکرا اٹھتے اور اسے چندہ بھی دے دیتے تھے۔ایک زائر نے رقم دینے کی بجائے کہا کہ میں ابھی پولیس کو بلواتا ہوں کہ تم یہاں بھیک مانگ رہے ہو۔اس نے بغیر کسی پریشانی کے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اتنا اوپر پولیس ٓ نہیں سکتی اور نیچے میں نہیں جا سکتا ۔

Advertisements

اپنی رائے سے نوازیئے۔

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s