Leave a comment

اردو کے نفاذ کی کوششیں

 

ہمارے دوست محمد پرویز بونیری پٹھان ہیں مگر ان کی اردو سن کر کوئی بھی انھیں پٹھان ماننے پر تیار نہیں ہوتا۔تذکیر و تانیث کی غلطیوں سے پاک اورعمدہ الفاظ کا چنائو ان کے خاص اوصاف ہیں۔اردو کے قدر دان اور خیر خواہ ہیں اور اس کی ترویج و ترقی کے لئے مقدور بھر کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھوں نے ایک فیس بک صفحہ’کاروان اردو زبان’کے نام  سے بنا رکھا ہے۔ کاروان اردو زبان اردو کے نفاذکے حوالے سے عدالتِ عظمٰی کے فیصلے کے دو سال مکمل ہونے پر 8 ستمبر کو ‘یومِ قومی زبان’ منا رہی ہے۔ اردو زبان سے ہماری وابستگی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ہم کالم اردو زبان میں ہی لکھتے ہیں۔

اردو ہماری قومی زبان ہے تاہم اسے کبھی قومی زبان کا درجہ نہیں دیا گیا۔ کئی بار سرکاری سطح پر اردوکو دفتری و سرکاری زبان بنانے کی قراد دادیں منظور ہوئیں مگر حقیقت یہ ہے کہ خواص تو کیا عوام بھی اردو بولنے سے کتراتے ہیں بلکہ انگریزی ہمارے اندر ایسے رچ بس گئی ہے کہ ہم ہر جملے میں نادانستہ کئی الفاظ انگریزی کے بول جاتے ہیں اور انگریزی میں ہی خود کو پرسکون محسوس کرتے ہیں۔

مقتدرہ قومی زبان مختلف الفاظ کے اردو تراجم کرتا ہے مگر وہ اتنے مشکل اور ادق ہوتے ہیں کہ عام لوگ انھیں استعمال کرنے کی بجائے انگریزی کے الفاظ کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہمیں اپنے جامعہ اردو اسلام آباد میں گزارے دن یاد آ رہے ہیں کہ وہاں دفتری زبان اردو تھی۔ہمیں جب وہاں تقرری کا حکم نامہ ملا تو وہ ہم کھول کے بیٹھ گئے اور سوچنے لگے کہ ہمیں نوکری ملی ہے یا ایک اور جامعہ نے بے آبرو کر کے پروانہء رخصت تھما دیا ہے۔ آپ بھی تقرر نامہ ملاحظہ فرمائیے۔ اوپر جامعہ کا مونوگرامہے۔ اس کے نیچے دائیں ہاتھ پر تاریخ اور بائیں ہاتھ حوالہ نمبر ہے۔ اس کے نیچے ذرا واضح کر کے دفتری اعلامیہ لکھا ہوا ہے۔ اس کے بعد درج ذیل عبارت ہے۔ حاشیے میں الفاظ کے معنی ہم نے تحریر کیے ہیں تا کہ عبارت سمجھنے میں آسانی ہو۔

جناب ۔۔۔۔۔۔۔ کا تقرر بحیثیت لیکچرار( ٹیلی کام) بی پی ایس 17 میں کر دیا گیا ہے۔موصوف نے سول سرجن کی طرف سے جاری کردہ طبی موزونیت کا صداقت نامہ( میڈیکل سرٹیفیکیٹ) پیش کر دیا ہے۔

لہذا موصوف کو مورخہ ۔۔۔۔۔۔ سے رجوع بکار ( کام میں شامل ہونے )کی اجازت دی جاتی ہے۔

نقل برائے اطلاع

ذاتی معتمد(پرسنل سیکرٹری) شیخ الجامعہ

ناظم حسابات(  اکاءونٹس آفیسر) اسلام آباد

افسر تنقیح(آڈٹ آفیسر)

شخصی مسل(ذاتی فائل)

ایمانداری سے بتائیں کہ اردو میں ایم اے کرنے والا بھی ان میں سے کتنے الفاظ سے واقف ہو گا کجا کہ ہم جیسا انجنیر کہ جن کی اردو اور انگریزی دونوں ہی واجبی ہوتی ہیں اور انھیں صرف تکنیکی اصطلاحات ہی سمجھ آتی ہیں۔ ہمیں جامعہ اردومیں جس شعبے میں بھیجا گیا وہاں فاصلاتی مواصلات کی تختی لگی تھی جس کے معنی ٹیلی کام ہیں۔ جامعہ میں ڈھائی سال کے دوران کئی بار اردو کے نفاذکے لئے خطوط آئےاور ظاہر ہے کہ  نوکر کی تے نخرہ کی۔ انتظامی امور والوں کو خطوط آتے اور وہ تمام شعبوں کے حوالے کر کے بری الذمہ ہو جاتے۔ہم بھی پڑھ کے رکھ دیتے اور لیکچر انگریزی میں ہی دیتے کہ ہر اصطلاح نہ تو اردو میں ہے اور  اگر ہے ت وہمیں معلوم نہیں، معلوم ہوتی بھی تو طلباء تو یقیناً ناقواقف تھے تو اردو میں بتانے کا فائدہ نہیں تھا۔ مثال کے طور پر اگر تھرمامیٹرکو آلہ حرارت پیما کہہ دیتے تو پوری کلاس کبھی ہمارا   منہ دیکھتی اور کبھی ایک دوسرے کا۔ لڑکے ایک دوسرے سے اس کا مطلب پوچھنے کے بہانے راز و نیاز شروع کر دیتے اور کلاس کو دوبارہ ڈھب پر لانا مشکل ہو جاتا سو ہم نے اردو سے محبت کے باوجود  لیکچر ہمیشہ انگریزی میں ہی دیا۔

تمام جامعات میں کچھ اساتذہ ہوتے ہیں جو کہ جامعہ کے ملازم نہیں ہوتے۔ تاہم جامعہ ان کی خدمات کسی مخصوص مضمون کے لئے حاصل کرتی ہے اور اس کی انھیں اجرت دی جاتی ہے۔ انھیں عرفِ عام میں وزیٹنگ ٹیچرز کہا جاتا ہے۔جامعہ اردومیں ہمارے دور میں ہی ان کی اجرتوں کے لئے کچھ کام ہوا کہ ان اساتذہ کی اجرت قرب و جوار کی جامعات میں دی جانے والی اجرت سے کم تھی۔انتظامیہ متفق ہوئی اور ان کی نئی اجرتوں کا اعلامیہ جاری ہوا۔وہ اعلامیہ اردو میں تھا۔ وہ  جس نے پڑھا وہ ہنس ہنس کر دوھرا ہو گیا کیونکہ  اعلامیے میں وزیٹنگ ٹیچرز کو ‘گشتی اساتذہ’ لکھا گیا تھا۔اس عزت افزائی پر اکثر اساتذہ تو جامعہ ہی چھوڑ گئے۔

ایسا صرف جامعات میں ہی نہیں ہوتا۔باقی ادارے بھی اس سے مبرا نہیں۔ سرکارتو حکم دے دیتی ہے لیکن محکموں کے لئے مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسے ہی ایک بار سرکار نے اردو میں تختیاں لگانے کا حکم دیا۔ کسی محکمے میں جب سب کی تختیاں لگ گئیں تو ایک بوائلرانجنئر اپنا استعفٰی لے کر اپنے باس کے پاس گیا کہ یا تو میری تختی ہٹا دیں یا میرا استعفٰی قبول کر لیں کیونکہ اس کی تختی پر لکھا تھا ‘ مہندس دیگی’۔ بڑی مشکل سے تختی ہٹانے پر وہ مانا۔

چند روز قبل کی بات ہے کہ پنجاب میں نئے اساتذہ کی تربیت جاری تھی۔ انھیں اردو مین چارٹ بنانے کا کہا گیا اور اس کا موضوع تھا ‘آفیشل کمیونیکیشن’۔ اساتذہ کے ہاتھوں کے طوطے تو کیا کبوتر چڑیاں سب ہی پھر کر کے اڑ گئے کہ وہ ایک بھی نقطہ اردو مین بیان نہ کر پائے۔آخرکار نگران سے اجازت لے کر پورا چارٹ انگریزی میں بنایا۔

یہ غیر سرکاری اور عوام کی صورت حال ہے۔ محض قراردادیں پاس کرنے سے نفاذ نہیں ہو جاتا۔  لوگوں کو بتدریج اس تبدیلی کے لئے تیار کیا جائے۔

۔فوری طور پر تو اردوکا نفاذ دیوانے کا خواب ہی ہےتاہم کچھ اقدامات کیے جائیں تو اردو جلد ہی اپنے پائوں پر کھڑی ہو جائے گی۔ مقتدرہ قومی زبان کو ایسے الفاظ رائج کرنے چاہییں جو چھوٹے ہوں اور بولنے میں سادہ ہوں۔ اس کے علاوہ معزز عہدوں کے لئے ایسے الفاظ استعمال کرنے سےگریز کیا جائے کہ جن میں منفی معنی پوشیدہ ہوں۔ ایسے الفاظ کی ترویج کے لئے میڈیا کا سہارا لیا جائے۔ میڈیا ایک طاقتور آلہ ہے نئے خیالات کی ترویج کا۔  پچھلے چند سال میں میڈیا نے کیسے داڑھی والوں کو دہشت گرد  اور مسلمان ممالک کو دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ثابت کیا ہے یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ اسی میڈیا سے ہمیں اردو کی ترویج  کا کام لینا چاہیے۔سکولوں میں اردو کو عام کیا جائے۔ معاشرتی علوم اور اسلامیات اردو  میں ہی ہونی چاہیں۔  اردوکے الفاظ کو عام کریا جائےاور ان کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی جائے۔  شعراء اور مصنفین کو اردو زبان کے الفاظ کے استعمال کی ترغیب دی جائے۔میڈیا پر بھی اردو کو رائج کیا جائے۔  پروگراموں کے میزبانوں کو پابند بنایا جائے کہ وہ اردو کے الفاظ استعمال کریں ورنہ ان کے پروگرام کی ریٹنگ کم کر دی جائے۔  ایسے کچھ اقدامات سے ہی اردو کا نفاذممکن ہے ورنہ پرویز جیسے لوگ انفرادی سطح پر کوشش کرتے رہیں گے جس سے اردو زندہ تو رہے گی مگر ایسے ہی جیسے کوئی مریض وینڑی لیٹر پر ہوتا ہے، بڑھے اور پھلے پھولے گی نہیں۔

 

 

Advertisements
Leave a comment

تقریبِ رونمائی ‘شگوفہء سحر’

taqreeberunumait3t226 اگست 2017 بروز ہفتہ راولپنڈی آرٹس کونسل میں ‘ حرف اکیڈمی’ کے زیرِ اہمتام راقم کی کتاب ‘شگوفہء سحر’ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ ہمارے دوست تنزیل نیازی کے بقول یہ تقریبِ رونمائی نہیں بلکہ منہ دکھائی تھی تا کہ راقم ادبی حلقوں میں اجنبی نہ رہے۔ کتاب تو جنوری میں ہی شائع ہو گئی تھی مگر ہم چونکہ پاکستان میں نہیں تھے تو تقریب کا انعقاد ملتوی ہو گیا۔ جب پاکستان آئے تو رمضان تھا سو معاملہ مزید  تاخیر کا شکار ہوا۔

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیربھی تھا

تقریب کے انعقاد کا ارادہ ابتدا میں لاہور میں تھا مگر حالات کچھ ایسے بنے کہ لاہور میں کرنا تو کجا ہمیں اس کاانعقاد ہی خطرے میں محسوس ہوا اور ہم نے اس پر فاتحہ پڑھنے کا ارادہ کر لیا۔ایسے میں ابن نیاز کو حرف اکادمی کا خیال آیا اور عرفان خانی سے بات چیت کا کہا۔ ابن نیاز کی ملاقات  معروف مصنفہ ‘میمونہ صدف’ کی کتاب پلک بسیرا کی تقریب میں عرفان خانی سے ملاقات ہو چکی تھی۔ عرفان خانی بہت اچھے شاعر اور انسان ہیں۔جلدہی ہم گھل مل گئے اور انھیں اپنی مجبوری بتائی تو انھوں نے 26 اگست کو تقریب کا وعدہ کر لیا۔ہمیں امید تو نہیں تھی کہ وعدہ ایفا ہو گا مگر حرف اکادمی کو اس بات کا سہرا جاتا ہے کہ انھوں نے اپنا کہا سچ کر دکھایا۔

تقریب کا وقت شام پانچ بجے تھا مگر ہم سوا پانچ یا اس کے بعد پہنچے۔ ایک وجہ تو ہمارے دوست اور کتاب کے پبلشر سمیع اللہ صاحب تھے۔ وہ عین ٹائم پرشہر میں آئے اور انھیں تقریب کے مقام کا علم نہ تھا۔انھوں نے ہم سے معلوم کیا تو ہم نے انھیں اپنے ہاں ہی بلوا لیا کہ ہمارے ساتھ ہی جائیں وہاں۔ سو ان کے آمد اور کچھ آرام میں وقت صرف ہو گیا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم وقت پر پہنچ کر یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ ہم تقریب اور صاحبِ محفل بننے کے لئے بے قرارہیں۔ دوسروں کی تقاریب پر ہمیشہ ہم وقت پر پہنچے اور منہ کی کھائی۔ اپنی تقریب میں کچھ تو اس کا بھی حساب چکتا کرنا تھا۔

تقریب شروع ہوئی تو عرفان خانی نے میزبانی کے فرائض سنبھال لئے ۔ ہمارے لئے  عرفان صاحب خانی سے زیادہ ‘چھیڑخانی’ ثابت ہوئے کہ حاضرین کو ہمارے نجی واقعات بھی بتاتے رہے جو چند ملاقاتوں اور ہماری کتاب سے انھوں نے اخذ کیے۔۔اپنے تعارف میں انھوں نے راقم کو تقریب کا دولہا قرار دیا۔ یہ جو وہ بار بار سر پر ہاتھ پھیرتے تھے اس کی وجہ ہی یہی تھی کہ ہم ان سے تقریب کی دلہن سے ملاقات کا تقاضا کر رہے تھے ورنہ ایسی بھی گرمی نہیں تھی وہاں۔ ہم پینٹ کوٹ میں وہاں بیٹھ سکتے تھے تو وہ شلوار قمیص میں کیوں نہیں۔ ہم دلہن کا کہتے کہ دولہا کو بولنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ دل ہی دل میں وہ  دعا کر رہے تھے کہ ہماری گھر والے جلدی آئین اور جوں ہی وہ ہال میں داخل ہوئے انھون نے ہمیں اسٹیج پر بلا لیا۔ہم جو دلہن کا تقاضا کرنے کاارادہ کیے بیٹھے تھے، بیگم کو دیکھ کر ‘دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے’ پڑھ کر رہ گئے۔۔۔۔خانی کو دوچار ہم دل ہی دل میں کہہ گئے’۔ کتاب اور مزاح کے متعلق تھوڑی سی بات کی۔ اس کے بعد حاظرین اور حرف اکادمی کا شکریہ ادا کر کے اپنی کرسی کی راہ لی۔

ہمارے دوستوں نے ، ہمارےمتعلق بولنے سے گریزکیا۔شہبازاکبر الفت نے آنے کا وعدہ کیا مگر فرائض منصبی آڑے آ گئے۔، احتشام شامی نے تو مضمون بھی لکھ لیا تھا مگر عین وقت پر ان کی طبیعت ناساز ہو گئی۔ ابن نیاز نے تو پہلے ہی پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ آر ایس مصطفٰے اور نعیم احمد بھی نہیں آ پائے۔ پرویز نے بھی حامی بھر لی تھی مگر عین موقع پر جھنڈی دکھا دی۔ ایم اے تبسم کو دیکھ کر ہمیں حیرت بھری خوشی ہوئی کہ ہمیں ان کی آمد کی توقع ہی نہیں تھی۔ان سے کہا کہ اسٹیج کو رونق بخشیں تو انھوں نے بھی معذرت کر لی۔  ان میں سے کسی ایک نے بھی ہمارے حق میں بولنے کی کوشش نہیں کی کہ سب ہی ہمیں اچھے سے جانتے ہیں۔سو کسی کی غیرت نے گوارا نہ کیا کہ ہمارے متعلق تھوڑا جھوٹ بول لے۔ ہمیں اس کا اندازہ تھا سو پہلے ہی عرفان خانی سے کہہ رکھا تھا کہ ہمیں تعریف کی حاجت نہیں۔ ہم چایتے ہیں کہ کتاب پر تبصرہ بےلاگ ہو سو ایسے مہمانوں کو بولنے کا کہنا ہے جو ہمیں جانتے نہ ہوں ۔ہم اپنے معزز تبصرہ نگاروں کے تہہ دل سے مشکور ہیں کہ جنھوں نےہمارے اور کتاب کے متعلق وہ کچھ کہا کہ جس سے ہم بھی آگاہ نہیں تھے۔ بالخصوص نسیم سحر صاحب کے خطاب اور انداز بیاں  نے تو محفل ہی لوٹ لی۔

اسی تقریب کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستان میں جعلی فیس بک آئی ڈیز کی تعداد کتنی زیادہ ہے۔ جب ہم نے اپنی تقریب کا اشتہار اپنے اور دوستوں کی ٹائم لائن پر لگایا تھا تو بقول تنزیل کے  حامی بھرنے والوں  کی اکثریت  خواتین کی تھی۔ مگرتقریب میں انھیں اصلی  حالت میں ہی آنا تھا۔ کسی تقریب میں خواتین نہ ہوں تو وہ تقریب تقریب نہیں لگتی جے آئی ٹی محسوس ہوتی ہے۔ ہماری تقریب بھی اللہ کے کرم اور خواتین کی آمد سے رنگین تھی۔تقریب سے پہلے خواتین اور لڑکیوں کی تعداد چار یا پانچ تھی۔ ہماری ہمشیرہ، والدہ اور بیگم ان کے علاوہ تھیں۔ ایک دو لڑکیاں تو سکندرِ اعظم سے متاثر تھیں کہ عین تقریب میں اٹھ کر چلی گئیں۔ وہ آئی اس نے دیکھا اور ہو چلی گئی کی عملی تصویر۔ تقریب کو بھی ہماری کلاس سمجھ بیٹھیں۔

تقریب کے بعد ہمارے دوست سمیع اللہ ایک  کام سے گئے تو اپنا بیگ ہمیں پکڑا گئے کہ ذرا دھیان رکھنا۔ وہ ہم نے اپنے کندھے پر لٹکا لیا۔ ہم ساتھ ساتھ احباب کو آٹوگراف سے نواز رہے تھے۔ ہماری ہمشیرہ نے دیکھا کہ مشکل ہو رہی ہے تو انھوں نے وہ بیگ ہم سے لے لیاکیونکہ وہ سمجھیں کہ بیگ ہمارا ہے۔اب سمیع اللہ واپس آئے اور ہم سے بیگ کا پوچھا تو ہم نے اپنی ہمشیرہ سے لے کر دے دیا۔ہمشیرہ نے بیگ دے تو دیا مگر وہ سمجھیں کہ ہمنے کوئی چیز نکال کر دینی ہے سمیع اللہ کو۔ سو جب سمیع اللہ صاحب بیگ رکھتے ہماری ہمشیرہ ہمارا بیگ سمجھ کر اٹھا لیتیں اور سمیع صاحب دیکھتے ہی رہ جاتے۔ جب یہ چارپانچ بارہو چکا تو ہم نے اپنی بہن کو سمجھایا کہ بیگ انھی کا ہے ہم نے کچھ دیر کے لئے اسے اپنے پاس رکھا تو سمیع اللہ کو مال مسروقہ واپس ملا۔

ابن نیاز کا تقریب میں آنے کا ارادہ نہ تھا کہ وہ چھٹیوں پر اپنے آبائی علاقے میں تھا۔ ہمارے پرزور اصرار پر بڑی مشکل سے شامل ہوا اور جونہی تقریب سے نکلا موٹر سائیکل سواروں نے اس کا موبائل چھین لیا۔ اس کا ہمیں بہت افسوس ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے حق میں نہ بولنے کا نتیجہ ہے۔ممکن ہے کوئی اور وجہ ہو مگر ایک اطمینان ضرور ہے کہ ہماری کتاب کی تقریب کل یادِ ماضی بن کر لوگوں کے دلوں سے محو ہو جائے گی تو بھی ابن نیاز یہ دن کبھی بھلا نہ پائے گا۔

Leave a comment

2017-02-02-18_21_14-%d8%b1%d9%88%d8%b2%d9%86%d8%a7%d9%85%db%81-%d8%aa%d8%ad%d8%b1%db%8c%da%a9-published-from-pakistan-and-uk-simultaneously-_-daily-tehreek

Leave a comment

چیمپئنز ٹرافی ایک یادگار فتح

championstrophyرواں برس مئی کے وسط سے لے کر جون کے ابتدائی دو عشرے یعنی کہ پانچ ہفتے پاکستان کرکٹ کے لئے بےحد شاندار رہے۔مئی کے وسط میں پاکستان نے اپنی تاریخ میں پہلی بار ویسٹ انڈیز کو اس کے گھر میں ٹیسٹ سیریز میں زیر کیا اور یہ ایک شاندار جیت کے ساتھ ہی مصباح الحق اور یونس خان کا کیریئر اختتام پذیر ہوا۔تاہم یہ کامیابی اتنی غہر متوقع نہیں تھی کہ پاکستان بہرحال ویسٹ انڈیز سے بہتر ٹیم ہے۔

ٹیم کی اگلی مہم چیمپئز ٹرافی تھی اوریہ ایک مشکل امتحان تھا۔پاکستان ٹیم کی ایک روزہ میچوں میں ماضی قریب میں پاکستان کی کارکردگی قابلِ ذکر نہیں رہی اور اس کے نتیجے میں پاکستان کی ٹیم چیمپئز ٹرافی میں شریک آٹھ ٹیموں میں آٹھویں یعنی کہ آخری پوزیشن پر براجمان تھی۔ اس حالت میں پاکستان کا سیمی فائنل تک پہنچنا ہی شائقین کومطمئن کرنے کے لئے کافی تھا۔

پاکستان کے پولمیں بھارت، جنوبی افریقہ اور سری لنکا تھیں جنکہ دوسرا پول میزبان برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈاور بنگلہ دیش پر مشتمل تھا۔ پاکستان کا پہلا میچ بھارت سے تھا اور پہلے میچ میں پاکستان کے آٹھویں نمبر والی ٹیم کی کارکردگی ہی دکھائی۔ بھارت نے بآسانی پاکستان کو ایک سو تئیس رنز سے شکست دی۔ بیٹنگ، بائولنگ اور فیلڈنگ کسی شعبے میں بھی پاکستان ٹیم نے قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔

اس شکست کے بعد پاکستان کے لئے اگلے دونوں میچ ‘مرو یا مر جائو’ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ اگلا میچ عالمی نمبرون جنوبی افریقہ سے تھا۔ پاکستان نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو دو سو انیس تک محدود کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے ستائیس اوورز میں تین وکٹ پر ایک سو انیس رنز بنائے تھے کہ بارش ہو گئی۔ پاکستان ڈک ورتھ لوئیس طریقے کے مطابق فاتح قرار پایا۔

پاکستان اور سری لنکا کا میچ ایک لحاظ سے کورٹر فائنل تھا، جیتنے والی ٹیم سیمی فائنل میں جاتی اور ہارنے والی گھر۔ پاکستان نے سری لنکا کو دو سو اڑتیس تک محدودکیا اور اچھا آغاز  کے باعث جیت یقینی تھی کہ پاکستان کی وکٹیں دھڑا دھڑ گرنے لگیں۔ ایک موقع پر پاکستان کو ستر سےزائد رنز درکار تھے اور اس کی محض تین وکٹیں باقی تھیں۔ سرفراز اور عامر نے دھیرے دھیرے اسکور کو بڑھانا شروع کیا تو قسمت نے بھی پاکستان کا ساتھ دینا شروع کر دیا۔ ایک اوور تھرو پر پانچ رنز ملے تو جلد ہی سرفراز کے دو نسبتاً آسان کیچ سری لنکا کے فیلڈروں نے چھوڑ کر اپنی شکست پر مہر لگا دی۔پاکستان جیت کر سیمی فائنل میں جا پہنچا۔

سیمی فائنل میں پاکستان کا مقابلہ برطانیہ سے تھا جواپنے تینوں میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچا تھا۔ پاکستان نے ایک بار پھر پہلے بائولنگ کی اور انگلش ٹیم کو دو سو گیارہ پر ڈھیر کر دیا۔ مطلوبہ سکور پاکستان نے دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر کے فائنل میں جگہ پکی کر لی۔ دوسرے سیمی فائنل میں بھارت نے بنگلہ دیش کو زیر کر کے پاکستان سے مقابلے کے لئے جگہ پکی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش دونوں پاکستان کرکٹ پر وار کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے اور قدرت نے دونوں کو پاکستان سے کھیلنے پر مجبور کر دیا۔

فائنل میں پاکستان کو بھارت نے بیٹنگ کی دعوت دی۔ فائنل ایک حیرت انگیز میچ تھا کہ اس میں بہت کچھ توقعات کے خلاف ہوا۔ابتدا میں فخر زمان آئوٹ ہوئے مگر وہ نو بال نکل آئی۔ اسکے بعد اظہر علی جو کہ سست بیٹنگ کی وجہ سے جانے جاتے ہیں وہ فخر زمان سے تیز کھیلے دکھائی دیئے۔ اس کے علاوہ محمد حفیظ نے بھی کافی تیز بیٹنگ کی۔ فخر زمان نے شاندار سینکڑا سکور کیا۔ پاکستان نے توقعات سے زائد یعنی کہ تین سو اڑتیس رنز کا مجموعہ بورڈپر سجا دیا۔بھارت کی توقعات کا مرکز ان کے ابتدائی بلے باز تھے۔ شرما، دھون اور کوہلی کسی بھی بائولنگ کے لئے ڈرائونا خوابہو سکتے ہیں مگر اس دن محمد عامر کے ارادے بھی خطرناک تھے۔ عامر نے ان تینوں کو اپنے پہلے ہی اسپیل میں چلتا کر کے بھارت کی شکست پر مہر لگا دی۔ کوہلی کاایک کیچ اظہر نے گرایا مگر اگلی ہی بال پر شاداب نے کیچ پکڑ لیا۔ دھون کی مزاحمت بھی ابتدائی دس اوورز ہی رہی جبکہ شرما تو پہلے ہی اوور میں آئوٹ ہو گیا تھا۔ دھونی اور یوراج بھی جلد ہی آئوٹ ہو گئے۔ اس کے  بعد رسمی کارروائی باقی تھی۔ پاکستان نے بھارت کو ایک سو اسی رنز کے بھاری فرق سے شکست دے کر پہلی مرتبہ چیمپئن ٹرافی جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ عالمی کپ 1992 کے بعد پچاس اوورز کی کرکٹ میں پاکستان کا دوسرا بڑا اعزاز ہے اور اس مرتنہ بھی یہ اعزاز رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں نصیب ہوا۔اس مہینے میں اللہ کی رحمتیں عروج پر ہوتی ہیں اور اس کا مظاہرہ اس ٹورنامنٹ میں بھی ہوا۔ وہاب ریاض اور احمد شہزاد کی فارم بالکل ٹھیک نہیں تھی۔ وہاب ریاض ان فٹ ہوئے اور احمد شہزاد کی جگہ فخر زمان کو موقع ملا۔ اس کا پاکستان کو خوب فائدہ ہوا۔ اس کے علاوہ بھی جس کھلاڑی کو موقع ملا اس نے قابل ذکر کارکردگی دکھائی۔ شاداب خان،فہیم اشرف اور روما رئیس سب نے ہی اپنے انتخاب کو درست ثابت کیا۔

اس کارکردگی پر قومی ٹیم کی ستائش بھی جاری ہے۔ وزیرِ اعظم، کرکٹ بورڈ اور دیگر اداروں نے قومی ٹیم کو گرانقدر انعامات سے نوازا ہے اور یہ اس کے مستحق بھی ہیں۔پہلی بار ایسا ہوا کہ آٹھویں درجہ بندی کی ٹیم نے کوئی اتنا بڑا ٹورنامنٹ جیتا ہے۔تاہم کھلاڑیوں کو اپنے پائوں زمین پر رکھتے ہوئے مزید اچھی سے اچھی کارکردگی دکھانی چاہیے تا کہ یہ ٹرافی ‘تکا ‘ ثابت نہ ہو اور سب لوگ تسلیم کریں کہ پاکستان اس جیت کا مستحق تھا۔

Leave a comment

ابنِ ریاض کے پہلے مجموعہ”شگوفہ سحر” کی تقریب رونمائی

IMG-20170822-WA0027

Leave a comment

کالمسٹ ابن ریاض

taqreeb5

taqreeb4

taqreeb3

taqreeb6

taqreeb2

taqreeb1

taqreeb

taqreeb7

Leave a comment

شاعروں کے نرغے میں نہتہ کالم نگار


گذشتہ روز ہمیں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے انتظامات کے سلسلے میں حرف اکادمی کے دفتر جانا ہوا۔ یہ دفتر مریڑ راولپنڈی میں ہے۔ہمارے میزبان یہاں عرفان خانی صاحب تھے جو ایک صاحب طرز شاعر ہیں اور نئے ادیبوں اور شاعروں کو متعارف کروانے میں پیش پیش ہیں۔ ہمارا کام یہاں زیادہ نہیں تھا اور خیال تھا کہ بیس منٹ آدھ گھنٹے میں ہم فارغ ہو جائیں گے۔ دفتر میں ہماری ملاقات عرفان صاحب کے علاوہ طاہر بلوچ، نعیم جاوید اور سلطان حرفی سے ہوئی۔ معلوم ہوا سب ہی شاعر ہیں۔ یہ شاعروں سے ہماری پہلے بالمشافہ ملاقات تھی۔  ہمیں یہ جان کر حیرت ہوئی کہ سب ہی خوش لباس ہیں اور بال بھی بکھرے ہوئے نہیں ہیں۔ہمارے شاعر کے تصور کو ایک جھٹکا لگا۔ بھلا ایسے بھی شاعر ہوتے ہیں۔ نہ بکھرے بال اور نہ ہی چہرہ و لباس سے اداسی و یاسیت کی جھلک۔ تاہم ان سے تعارف ہوا اور بات چیت شروع ہوئی تو وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔ابھی ہم اٹھنا ہی چاہتے  تھے کہ عرفان صاحب نے ہمیں روک لیا کہ ہمیں کچھ لوگوں سے ملوانا ہے۔ یوں بھی ہماری پاکستان میں واقفیت بہت کم ہے تو ہم نے حامی بھر لی۔ کچھ دیر بعد  ڈاکٹر فیصل ودود اور شعیب خان صاحب بھی تشریف لےآئے۔ یہ دونوں شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ یک جان دو قالب ہیں بالکل ابن ریاض اور ابن نیاز کی طرح۔ بعد ازاں امداد حسین نقوی اور نجم الثاقب تشریف لائے اور یوں کورم پورا ہو گیا۔

سب تشریف لے آئے تو گپ شپ شروع ہو گئی تاہم طاہر بلوچ کو جلدی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ پروگرام شروع ہو کہ انھیں شاید بیگم نے بلایا ہوا تھا۔ پروگرام تو شروع نہ ہوا تاہم طاہر بلوچ کو ضرور کال آ گئی ۔ وہ نوکری کا کہہ کر جاتے بنے۔ معلوم نہیں نوکر کسی دفتر میں تھی یا گھر میں مگر ان کا جانا تو بنتا تھا سو وہ تو گئے۔

کچھ دیر بعد محفل شروع ہوئی۔ تعارف پر معلوم ہوا کہ فیصل ودود، شعیب خان اور امداد حسین نقوی ساحب سبھی شاعر ہیں۔ یہ سن کر دل کو ڈھارش بندھی کہ نجم الثاقب صاحب کالم نگار ہیں۔ڈاکٹر صاحب اور امداد نقوی صاحب مہمان خصوصی تھے اور شعیب خان صاحب  صدر۔ تلاوتِ کلام پاک کے بعد مہمانان سے تعارف ہوا۔ ڈاکٹر فیصل صاحب ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں۔ ساتھ ساتھ شعر بھی کہتے ہیں۔ جدید شاعری علم عروض اور دیگر اصناف پر ان سے سیر حاصل تبادلہ خیال ہوا۔ باقی لوگوں نے تو شاعری پر سوال داغے پر ہم تو اس میدان میں کورے تھے سو ہم نے ان سے دریافت کیا کہ کیا کبھی مریض کے آپریشن کے دوران کوئی خیال آیا؟  اگر آیا تو اس دوران آپ کا کیا حال ہوا اور مریض کا کیا بنا؟ قینجی بلیڈ اندر تو نہیں چھوڑ دیئے مریض کے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ کہہ کر اپنی جان بچائی کہ ایسا اتفاق کبھی نہیں ہوا۔امداد صاحب سے بھی انھی معاملات پر تبادلہ خیال کیا حاضرین محفل نے۔ تاہم وہ ڈاکٹر نہیں تو اس مشکل سوال سے بچ گئے۔

اس کےبعد مہمان شاعروں سے کلام سننے کا مرحلہ آیا۔ ہمارا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب اسٹیتھو سکوپ یا کسی سیرپ پر غزل کہیں گے مگر یہاں انھوں نے اپنے پیشے سے وفا نہ کرتے ہوئے غم جاناں و غم دوراں کو ہی موضوع بنایا۔ اشعار انتہائی معیاری اور دل میں اتر جانے والے مگر برا ہو ہمارے حافظے کا کہ وہ دغا دے گیا۔ ترنم کے ساتھ انھوں نے پڑھا تو بے اختیار مظفر وارثی صاحب یاد آ گئے۔ امداد صاحب بھی مہمان تھے۔ ان کا سنانا بھی لازم تھا۔ ان کا کلام بھی بہت  معیاری تھا۔ ان سے ترنم کی فرمائس کی گئی تو انھوں نے سلام کے چند اشعار پڑھے اور خوب داد سمیٹی۔ شعیب صاحب صدر تھے اور صدر کے پاس اختیارات نہ بھی ہوں تو بھی کلام سنانے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ان کا سنانا تو بالکل حق تھا مگر معاملہ تو اس کے بعد بگڑا۔ سلطان حرفی صاحب اتنی غزلیں سن سن کر پک چکے تھے۔ ان کو اپھارہ ہوا اور انھوں نے دو قطعے اور آٹھ اشعار پر مشتمل غزل سنا کر خود کو بشاش کیا۔ انھوں نے دیگر شعرا کی بھی راہ کھول دی۔ اب تو نعیم طاہر اور عرفان خانی کے بھی مزے ہو گئے۔ انھوں نے بھی غزلیں سننے کا پورا پورا حساب لیا۔ خانی صاحب دھان پان سے آدمی ہیں۔ ہمارا خیال تھا کہ شعر بھی ایسے ہی ہلکے پھلکے کیتے ہوں گے مگر ان کی شاعری ان کے صحت کے برعکس خاصی مضبوط ہے۔پھر طاہر نعیم  صاحب نے پڑھا اور پھر ایک دوست نے   فارسی غزل سنا کر داد سمیٹی ۔ یہ تمام شاعر ہیں اور ہمیں ان سے اس کی توقع تھی تاہم اطمینان تھا کہ ہم یہاں اکیلے نہیں ہیں نجم الثاقب ہمارا ساتھ دیں گے مگر ہمارا دل تب ٹوٹا جب  نجم الثاقب صاحب کے اندر سے بھی ایک شاعر برآمد ہوا اور باقی شاعروں نے تو اردو میں اشعار کہے ان کا اندر کے شاعر نے پنجابی کو بھی نہ بخشا۔

اردو تو اردو ہے پنجابی بھی نہ چھوڑی ہم نے

بے اختیار ابن نیاز یاد آیا مگر پھر اس خیال پر لاحول پڑھ دی کہ وہ بھی شاعری کرتا ہے۔اب ہم نے بھی اپنے تین چارکالم سنانے کا ارادہ کیا۔ ہم ترنم سے پڑھنے کو بھی تیار تھے۔ سماعتیں سننے والوں کی خراب ہونی تھیں ہمارا کیا تھا مگر عین اس موقع پر خانی صاحب چائے اور دیگر لوازمات لے آئے۔بلاشبہ سب کا کلام بہت اچھا اور معیاری تھا مگر اتنی غزلیں سن کر ہمارا تو ہاضمہ خراب ہونا ہی تھا۔  باقی دوستوں کا تو پیٹ غزلوں سے بھر چکا تھا سو اس پر ہمیں نے ہاتھ صاف کیے۔یوں بھی شادی کے بعد اتنے گھنٹے دوستوں کے ساتھ گزارنے پر گھر جا کر کھانا ملنےکے امکانات کافی کم ہوتے ہیں۔ چائے کے بعد کتابوں کا تبادلہ ہوا اور پھر ایک دوسرے کے ساتھ تصاویر بنوا کے ان یادگار لمحوں کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا گیا۔ اسکے بعد اجازت لے کر رخصت ہوئے تو باہر بارش نے استقبال کیا۔ تان سین کے گانے سے بارش ہوتی تھی ہمارے دوستوں کے اشعار
نے ہی بارش کا سماں باندھ دیا۔ اللہ سب کو خوش رکھے۔

Leave a comment

بالوں کے مسائل… Article Published In NewsPaper!!!

balon k masail

Leave a comment

بالوں کے مسائل


بال انسانی جسم کا بہت اہم  حصہ ہے اور انسانی خوبصورتی میں اس کا کردار بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو شاعری محبوب کی زلفوں کے گرد خوب گھومتی ہے۔ دورِ جدید میں جہاں اور بہت مسائل نے جنم لیا ہے وہیں بالوں کی کمزوری اور روکھا پن ہمارے ہاں عام ہیں اور ان میں مرد و زن کی تخصیص نہیں ہے۔ خواتین کو ان کی فکر بہر حال زیادہ ہوتی ہے۔ وہ ریشمی’ لمبے’ گھنے بالوں کی متمنی ہیں۔ تاہم موجودہ غیر خالص اور کیمیائی اجزاء سے بھرپور خوراک  یا کسی بیماری کے باعث ان کے بال نہیں بڑھ پاتے۔ اگر لمبے ہیں تو گرتے بہت ہیں یا پھر گھنے نہیں ہیں۔ شیمپو بنانے والی کمپنیوں کی چاندی ہے۔ دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹ رہی ہیں اور عوام بھی بخوشی لٹ رہی ہے۔ عورتیں یہ بھی نہیں سمجھتیں کہ جتنی لمبی زلفیں ہوں گی، اتنی ہی جوئوں کو رہائشی کالونیاں بنانے میں آسانی ہو گی۔ واحد معاملہ کہ جہاں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ نظر نہیں آتیں وہ ہے ٹنڈ کے معاملے۔ یہاں عورتیں  مردوں کے حقوق کا احترام کرتی ہیں اور برابری کا تقاضا نہیں کرتیں۔
عام لوگوں کا خیال ہے کہ مردوں کو  کچھ چھپانے کی ضرورت نہیں  مگر وہ اس معاملے میں غلط ہیں۔ عورتوں کو تو محض عمر چھپانی پڑتی ہے مگر مردوں کو تنخواہ، توند، پرانے معاشقے، موبائل کی گیلری، لڑکیوں کے نمبروں کے علاوہ ٹنڈ بھی چھپانی پڑتی ہے سو مردوں کی مشکلات کا اندازہ آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔ مردوں کا کام ہی مشکلات کا خندہ پیشانی سے مقابلہ کرنا ہے سو وہ تنخواہ ومعاشقے کے معاملے میں لب سی لیتے ہیں اور نمبر لڑکیوں کے رشید پلمبر اور پھجا نائی کے نام سے موبائل میں محفوظ کر لیتے ہیں مگر توند اور ٹنڈ تو پھر بھی اپنی بہار دکھا کر ہی دم لیتی ہیں۔
وحید مراد مرحوم کا شمار ہماری پسندیدہ شخصیات میں بچپن سے ہی ہوتا ہے۔ ہم ابھی سات سال کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہ وفات پا چکے تھے مگر ان سے ہماری عقیدت میں کمی نہیں آئی۔ ہم ان کی  نقل کرنا چاہتے تھے مگر ان جیسی زلفیں ہماری نہ تھیں۔ ہم کئی زلف تراشوں کے پاس گئے کہ ہمیں وحید کٹ کروانا ہے مگر وہ کہتے کہ بھائی  اتنے بالوں میں ‘وحید مراد’ کٹ تو نہیں ہو سکتا ہاں اگر آپ چاہیں تو ہم ‘ببو برال’ کٹ کر سکتے ہیں۔ یوں اک خواہش حسرت میں بدل گئی اور پاکستان کی فلمی صنعت اپنے پیروں پر نہ کھڑی ہو سکی۔ بالوں کا کیا ذکر کریں۔ اتنے ہیں کہ بال کاٹنے والا کاٹنے کے بجائے ڈھونڈنے کی اجرت لیتا ہے۔ اور سرپر خالی قطعے یوں بکھرے ہوئے ہیں جیسے سمندر میں جزیرے۔ سعودی عرب مین جانے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ اب ہم سیدھا سیدھا مشین یا استرا  استعمال کرنے کا کہتے ہیں۔ بال بس یہ سمجھئے کہ ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کے بالوں سے لمبائی میں زیادہ نہیں ہوتے۔ واقف کار سبھی یہ سمجھتے کہ عمرہ کر کے آیا ہے اور یوں ہم بھی موجب احترام ہو جاتے ہیں۔ ہم اور یہ مقام اللہ اللہ۔
گنجے پن کا علاج بھی اب آ گیا ہے۔ بال جسم کے کسی حصے سے لے کے اگا دیئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ وگ بھی مقبول عام ہے۔ خود ہمارے کھلاڑی اور سیاست دان اس سے خوب مستفید ہوتے ہیں اور عمر بڑھنے کے باوجود ہمارے سامنے مزید نوجوان بن کے ظاہر ہوتے ہیں تاہم ہمارامعاملہ دیگر ہے۔
ہمارے بال یعنی کہ ہمارے سر پر بال بچپن سے ہی بہت زیادہ نہیں رہے۔ کچھ اس کی وجوہات موروثی ہیں تو کچھ بچپن میں ہمارے پرنسپل کی قینچی نے بھی ان کے توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھنے سے پہلے ہی قلم کر دیا۔
اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
کچھ لوگ ہمیں کہتے بھی ہیں کہ جناب آپ بھی جدید ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھائیں اور وحید مراد کٹ کے مزے لیں۔ ہم انھیں ٹال دیتے ہیں کہ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی اور یہ بھی کہ اللہ نے انسان کوبہترین ترتیب کے ساتھ پیدا کیا ہے اور ایسا نہ ہو کہ ہم بال لینے جائیں اور موجودہ چار بالوں سے بھی جائیں۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا۔ دراصل ہمیں اپنا یہ گنجاپن بہت عزیز ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سنا ہے کہ جوں جوں گنجا پن عروج پر جاتا ہے توں توں ہی گنج(یعنی کہ خزانہ) کی آمد ہوتی ہے سو ہم اس خزانے کے منتظر ہیں’۔ ہر چیز قربانی مانگتی ہے تو ہم خزانے کے لئے اپنے ناخنوں کو قربان کرنے پر تیار ہیں۔
پھر بالوں کو معاملہ اور بھی عجیب ہے۔ بال وٹامن ایچ کی کمی سے کم اور ختم ہوتے ہیں یہ سائنس کہتی ہے۔ اگر سائنس ٹھیک ہے تو اس میں ہم برملا کہہ سکتے ہیں کہ وٹامن ایچ کی ہم میں کمی نہیں بلکہ افراط ہی ہے۔ ہمارے بازو، کمر،سینہ ٹانگیں سبھی بالوں سے پر ہیں۔سو وٹامن ایچ کی کمی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔بس مقام حیرت یہ ہے کہ وٹامن ایچ سارا گردن سے نیچے ہی کیوں رہ   گیاہم کھانے کم مرچوں والے کھاتے ہیں۔۔بالوں کی کمی کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ  جب ہمیں کھانے میں زیادہ مرچیں لگتی ہیں تو ہمارے تمام احباب کو معلوم ہو جاتا ہےکیونکہ مرچیں لگنے پر پسینہ سر سے بہتا ہے اور کوئی رکاوٹ نہ ہونے کے باعث ماتھے سے گرتا ہے۔ہم مروتاً پکانے والے کی کوشش کی تعریف کرتے ہیں مگر ہمارا پول یہ پسینہ کھول دیتا ہے۔
پنجاب میں بلکہ خود ہمارے علاقے میں موچھیں مرد کا زیور سمجھی جاتی ہیں۔بلکہ کچھ لوگ تو ‘مچھ نہیں تے کچھ نہیں’ کا ورد بھی کرتے رہتے ہیں۔ ابتدائے جوانی میں ہم نے بھی موچھیں رکھی تھیں اور انھیں ہم اپنی انگلیوں سے ‘وٹ’ بھی دیا کرتے تھے۔موچھوں والی ایک تصویر ہمارے پس موجود ہے کہ جسے دیکھ کر ہم خود سے ہی ڈر جاتے ہیں۔جب ہم شیو کرتے تھے تو کبھی ہماری ضعفِ بصارت آڑے آ جاتی اور کبھی غسل خانے میں روشنی کی کمی ہوتی۔کبھی موچھیں پاکستان کے ماضی کے ایک صدر کی مانند ٹیڑھی ہو جاتی تھیں اور کبھی استاد امانت علی خان مرحوم کی مانند ایک لکیر بنی ہوتی ناک اور ہونٹوں کے درمیان۔اکثر وہ لکیر بھی ٹیڑھی ہوتی تھی جب ہم غسل خانے سے باہر آتے توہمیں دیکھ دیکھ کر ہنستے تھے کہ ہم ہر بار ہی ایک نیا نمونہ بنے ہوتے تھے۔ بار بار کی اس عزت افزائی کا اثر یہ ہوا بقول فیض
فیض صاحب نے کام اور عشق دونوں کو ادھورا چھوڑا تھا ہم نے دونوں مونچھوں کو پورا توڑ دیایعنی کہ کلین شیو ہو گئے۔لوگ کسی بھی حال میں خوش نہیں ہوتے جب کلین شیو ہوئے تو فرمایا کہ یہ کیا چھیلے ہوئے آلو بن بیٹھے ہو۔۔کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا؟
ایک بات جو ہمیں پریشان کرتی ہے کہ داڑھی اور مونچھوں کے بال سر کے بالوں سے اٹھارہ بیس چھوٹے ہونے کے باوجود اکثر سر کے بالوں سے پہلے سفید ہونا کیوں شروع ہو جاتے ہیں۔

Leave a comment

گداگری کی صنعت


چند روز قبل ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں ایک محترمہ اس امر پر حیرت کا اظہار فرما رہی تھیں کہ پاکستان کی جان لیوا مہنگائی کا اثر ہے کہ کراچی کی شدید گرمی کا کہ دورانِ سفر ان کی گاڑی میں ایک بھکاری آیا اور صدا لگائی ـــکہ میری بہنوں میری مدد کرو۔میں بہت غریب ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں۔ ہم نے ان محترمہ سے کہا کہ وہ بھکاری بالکل سچ بول رہا تھا اور آپ کو اس کے سچ کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ آج کل کم ہی لوگ اتنے راست گو ہیں۔ ان کے استفسار پر ہم نے بتایا کہ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح اس قوم کے بانی اور باپ تھے اور ظاہر ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں تو نہ صرف وہ بھکاری یتیم ہے بلکہ اس کے بچے بھی یتیم ہیں۔
ایک مرتبہ ایسا ہی ہماری والدہ کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ سفر کر رہی تھیں کہ ایک سٹاپ پر بس رکی تو ایک عورت ایک چھوٹا سا بچہ اٹھائے گاڑی میں داخل ہوئی اور لگی صدا لگانے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میری مدد کرو۔ والدہ نے کچھ رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھی اور ازراہِ ہمدردی دریافت کیا کہ بچو ں کا والد کہاں ہے ۔ جواب آیا کہ ۔او شودا دوئی گڈی وچ منگنا پیا وے۔یعنی وہ بیچارہ دوسری بس میں بھیک مانگ رہا ہے۔
بھکاریوں کی تعداد ہماری آٓبادی کے تناسب سے بڑھی ہے۔پہلے ہمیں بازاروں میں چوراہوں پر فقیر بیٹھے نظر آتے تھے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتے رہتے تھے۔ جوں ہی کوئی راہگیر نظر آتا ، اندھے بن کر آنکھیں پٹپٹانے لگتے اور آنکھو والو، آنکھیں بڑی نعمت ہیں کی صدا لگاتے۔بعض کے اعضا کٹے ہوتے اور ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتیں۔ مسجد کے باہر بھی کبھی کبھار کوئی نظر آ جاتا تھا مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا تھا۔
اب توصورت حال بہت ہی دگرگوں ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تُو ہی تُو ہے والا معاملہ ہے۔ بازاروں ، پارکوں اور ہوٹلوں کو تو چھوڑیے، جہاں جایئے بھکاری آپ کے ساتھ ساتھ،مسجد یعنی کہ اللہ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر مگر اللہ ہی کا واسطہ دے کر بندوں سے عرضِ تمنا کی جاتی ہے۔ہم جیسے جو مسجد میں کم ہی جاتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں کیونکہ گھر بھی محفوظ نہیں۔ ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد گھنٹی بجتی ہے اورانسان کسی بہت اپنے کو دیکھنے کی آس میں دروازہ کھولتا ہے تو مانگنے والوں کی صدا سن کر اسے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کونین کی گولیوں کا پورا پیکٹ چبا لیا ہو۔ اگر کسی کو ازراہِ ہمدردی یا مستحق سمجھ کر کچھ دے دیا جائے تو بندے کو اپنی غلطی کا فوری اندازہ ہوتا ہے جب مانگنے والوں کا پورا جتھہ اس کے سر پر سوار ہو کر اس کی واپسی کی سب راہیں مسدود کر دیتا ہے کہ اس کو دیا ہے تو ہمیں بھی دو۔جس کو دی اس کے کوئی سرخاب کے پر تھے جو ہم میں نہیں۔ اکثر تو جس کو بھیک دو وہ خود ہی سب کو بتا دیتا ہے کہ یہی آسامی ہے اس کو پکڑ لو۔
اکثریت ان بھکاریوں کی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کما کر کھا سکتے ہیں اور انھیں بھیک کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ان کی جھگیوں میں تمام آسائشاتِ زندگی موجود ہوتی ہیں۔بلکہ اکثر تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ شاید خود کئی لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ایسے بھکاریوں کی وجہ سے اکثر مستحق بھی محروم رہ جاتے ہیں۔کسی کا نقصان ہی کسی کا فائدہ ہے۔ اس دور میں جیسے کھیل و سیاحت محض شوق نہیں رہے بلکہ صنعت بن چکے ہیں بالکل ایسے ہی گداگری بھی ایک صنعت ہے ۔دیگر صنعتوں کے طرح یہ صنعت بھی مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال سے یہ انحطاط کا شکار ہے۔ بھیک مانگنا ایک مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ جگہ جگہ بھیک کے لئے مارا مارا پھرنا،لوگوں کی باتیں اور طعنے سننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے باوجود اس پیشے سے منسلک افراد کی وہ عزت نہیں ہے کہ جو دیگر شعبہ حرفہ سے متعلق افراد کی ہے۔تاہم گداگر مشکلات کے باوجود تن دہی سے اپنے فن سے پیوستہ ہیں۔مشکلات و تکالیف کے باوجود اپنے بچوں کو بھی اسی شعبے سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں یہ صنعت بھی وقت کے بے رحم ہاتھوں ختم ہی نہ ہو جائے۔یہاں بھکاریوں کے بچوں کی سعادت مندی کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی کہ وہ دیگرشعبوں کے افراد کے بچوں کی مانند ناخلف نہیں ہیں اور اپنے آبا کے لئے شرمندگی کا باعث نہیں بنتے۔دیگر شعبوں کی نسبت یہ صنعت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔حکومت ہر چند ماہ بعد کاسہٗ گدائی لے کر بیرون ممالک کے دورے کرتی ہے تا کہ گداگروں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔اس لحاظ سے یہ بات یقینی ہے کہ حالات کیسے ہی دگرگوں کیوں نہ ہو جائیں یہ صنعت قائم رہے گی۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی میڈیا والے بھی اس صنعت کی حوصلہ افزائی میں مقدور پھر حصہ لیتے ہیں اور ایسے شو بڑے فخر سے پیش کرتے ہیں کہ جن سے عوام میں گداگری سے رغبت پیدا ہو۔ ماہِ رمضان میں تو ان پروگراموں کی برسات ہی ہو جاتی ہے۔
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اور گداگری بھی محض تاریک رخ پر مشتمل نہیں ۔ ایک روشن پہلو بھی ہے اس کا کہ بھکاری ہمارے محسن ہیں کیونکہ وہ ہمیں معافی مانگنا سکھاتے ہیں۔ورنہ ہم پاکستانی تو اتنے انا پرست ہیں کہ عمریں گزرجاتی ہیں اور ہماری لڑائیاں نہیں ختم ہوتیں۔اب بھکاریوں کو معاف کرو معاف کرو کہنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ یہ تکیہ کلام بن جاتا ہے۔پھر جب بھی کبھی لڑائی ہو یا بحث مباحثہ تو باتوں باتوں میں بولنے والے کے منہ سے نکلتا ہے کہ معاف کرو اور یوں جنگِ عظیم چھڑنے سے رہ جاتی ہے۔
گداگری کی صنعت ہم تک محدود نہیں۔ اب تو سعودی عرب میں بھی بھکاری بکثرت ملتے ہیں بلکہ حرمین میں بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کبھی شامی کوئی اپنے حالات کا رونا روتا ہے تو کبھی یمنی۔ اکثر تو ہمیں پاکستانی ملے اور کہا کہ ان کے پاس اتنے ریال تھے مگر جیب کٹ گئی۔وہ جگہ بھی ایسی ہے کہ ہم جیسے جز رس بھی اپنی استطاعت کے مطابق مدد کر دیتے ہیں۔ایک مرتبہ ہم غارِ حرا کی زیارت کو گئے۔غارِ حرا اور غارِثور دونوں پہاڑوں میں کافی بلندی پر واقع ہیں اور ان تک پہنچنے میں دو تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔غارِ ثور کی مرتبہ تو ہم محروم رہے مگر غارِ حرا کی مرتبہ ہم جب نصف چڑھائی چڑھ چکے توغار کے دیدار سے پہلے بھکاریوں کا دیدار شروع ہو گیا۔ان میں ایک بھکاری معذور تھا۔ وہ لوگوں کو دیکھ کر کوئی تبصرہ کر دیتا جسے دیکھ کرزائرین مسکرا اٹھتے اور اسے چندہ بھی دے دیتے تھے۔ایک زائر نے رقم دینے کی بجائے کہا کہ میں ابھی پولیس کو بلواتا ہوں کہ تم یہاں بھیک مانگ رہے ہو۔اس نے بغیر کسی پریشانی کے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اتنا اوپر پولیس ٓ نہیں سکتی اور نیچے میں نہیں جا سکتا ۔

Leave a comment

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبیﷺ کی…Articles Published in Newspaper(2)!

aflak

Daily Metrowatch _ Islamabad

universal.png

Leave a comment

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبیﷺ کی…Articles Published in Newspaper!

kashmir roznama.png

daily lahore post.png

bol

jazba jahlam