Leave a comment

گداگری کی صنعت


چند روز قبل ایک پوسٹ نظر سے گزری جس میں ایک محترمہ اس امر پر حیرت کا اظہار فرما رہی تھیں کہ پاکستان کی جان لیوا مہنگائی کا اثر ہے کہ کراچی کی شدید گرمی کا کہ دورانِ سفر ان کی گاڑی میں ایک بھکاری آیا اور صدا لگائی ـــکہ میری بہنوں میری مدد کرو۔میں بہت غریب ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے یتیم بچے ہیں۔ ہم نے ان محترمہ سے کہا کہ وہ بھکاری بالکل سچ بول رہا تھا اور آپ کو اس کے سچ کی قدر کرنی چاہیے کیونکہ آج کل کم ہی لوگ اتنے راست گو ہیں۔ ان کے استفسار پر ہم نے بتایا کہ بابائے قوم قائدِ اعظم محمد علی جناح اس قوم کے بانی اور باپ تھے اور ظاہر ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں تو نہ صرف وہ بھکاری یتیم ہے بلکہ اس کے بچے بھی یتیم ہیں۔
ایک مرتبہ ایسا ہی ہماری والدہ کے ساتھ بھی ہوا تھا۔ وہ سفر کر رہی تھیں کہ ایک سٹاپ پر بس رکی تو ایک عورت ایک چھوٹا سا بچہ اٹھائے گاڑی میں داخل ہوئی اور لگی صدا لگانے کہ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں میری مدد کرو۔ والدہ نے کچھ رقم نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھی اور ازراہِ ہمدردی دریافت کیا کہ بچو ں کا والد کہاں ہے ۔ جواب آیا کہ ۔او شودا دوئی گڈی وچ منگنا پیا وے۔یعنی وہ بیچارہ دوسری بس میں بھیک مانگ رہا ہے۔
بھکاریوں کی تعداد ہماری آٓبادی کے تناسب سے بڑھی ہے۔پہلے ہمیں بازاروں میں چوراہوں پر فقیر بیٹھے نظر آتے تھے۔ وہ اِدھر اُدھر دیکھتے رہتے تھے۔ جوں ہی کوئی راہگیر نظر آتا ، اندھے بن کر آنکھیں پٹپٹانے لگتے اور آنکھو والو، آنکھیں بڑی نعمت ہیں کی صدا لگاتے۔بعض کے اعضا کٹے ہوتے اور ان پر مکھیاں بھنبھنا رہی ہوتیں۔ مسجد کے باہر بھی کبھی کبھار کوئی نظر آ جاتا تھا مگر ایسا شاذو نادر ہی ہوتا تھا۔
اب توصورت حال بہت ہی دگرگوں ہے۔ جدھر دیکھتا ہوں ادھر تُو ہی تُو ہے والا معاملہ ہے۔ بازاروں ، پارکوں اور ہوٹلوں کو تو چھوڑیے، جہاں جایئے بھکاری آپ کے ساتھ ساتھ،مسجد یعنی کہ اللہ کے گھر میں اللہ کو چھوڑ کر مگر اللہ ہی کا واسطہ دے کر بندوں سے عرضِ تمنا کی جاتی ہے۔ہم جیسے جو مسجد میں کم ہی جاتے ہیں وہ بھی محفوظ نہیں کیونکہ گھر بھی محفوظ نہیں۔ ہر گھنٹے دو گھنٹے بعد گھنٹی بجتی ہے اورانسان کسی بہت اپنے کو دیکھنے کی آس میں دروازہ کھولتا ہے تو مانگنے والوں کی صدا سن کر اسے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کونین کی گولیوں کا پورا پیکٹ چبا لیا ہو۔ اگر کسی کو ازراہِ ہمدردی یا مستحق سمجھ کر کچھ دے دیا جائے تو بندے کو اپنی غلطی کا فوری اندازہ ہوتا ہے جب مانگنے والوں کا پورا جتھہ اس کے سر پر سوار ہو کر اس کی واپسی کی سب راہیں مسدود کر دیتا ہے کہ اس کو دیا ہے تو ہمیں بھی دو۔جس کو دی اس کے کوئی سرخاب کے پر تھے جو ہم میں نہیں۔ اکثر تو جس کو بھیک دو وہ خود ہی سب کو بتا دیتا ہے کہ یہی آسامی ہے اس کو پکڑ لو۔
اکثریت ان بھکاریوں کی ایسی ہوتی ہے کہ وہ کما کر کھا سکتے ہیں اور انھیں بھیک کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ ان کی جھگیوں میں تمام آسائشاتِ زندگی موجود ہوتی ہیں۔بلکہ اکثر تو ایسے ہوتے ہیں کہ وہ شاید خود کئی لوگوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ایسے بھکاریوں کی وجہ سے اکثر مستحق بھی محروم رہ جاتے ہیں۔کسی کا نقصان ہی کسی کا فائدہ ہے۔ اس دور میں جیسے کھیل و سیاحت محض شوق نہیں رہے بلکہ صنعت بن چکے ہیں بالکل ایسے ہی گداگری بھی ایک صنعت ہے ۔دیگر صنعتوں کے طرح یہ صنعت بھی مشکلات کا شکار ہے۔ مہنگائی اور ملک میں امن و امان کی صورت حال سے یہ انحطاط کا شکار ہے۔ بھیک مانگنا ایک مشکل اور تکلیف دہ کام ہے۔ جگہ جگہ بھیک کے لئے مارا مارا پھرنا،لوگوں کی باتیں اور طعنے سننا کوئی آسان کام نہیں ہے۔اس کے باوجود اس پیشے سے منسلک افراد کی وہ عزت نہیں ہے کہ جو دیگر شعبہ حرفہ سے متعلق افراد کی ہے۔تاہم گداگر مشکلات کے باوجود تن دہی سے اپنے فن سے پیوستہ ہیں۔مشکلات و تکالیف کے باوجود اپنے بچوں کو بھی اسی شعبے سے وابستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کہیں یہ صنعت بھی وقت کے بے رحم ہاتھوں ختم ہی نہ ہو جائے۔یہاں بھکاریوں کے بچوں کی سعادت مندی کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی کہ وہ دیگرشعبوں کے افراد کے بچوں کی مانند ناخلف نہیں ہیں اور اپنے آبا کے لئے شرمندگی کا باعث نہیں بنتے۔دیگر شعبوں کی نسبت یہ صنعت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ اسے سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔حکومت ہر چند ماہ بعد کاسہٗ گدائی لے کر بیرون ممالک کے دورے کرتی ہے تا کہ گداگروں کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔اس لحاظ سے یہ بات یقینی ہے کہ حالات کیسے ہی دگرگوں کیوں نہ ہو جائیں یہ صنعت قائم رہے گی۔بات یہیں ختم نہیں ہوتی میڈیا والے بھی اس صنعت کی حوصلہ افزائی میں مقدور پھر حصہ لیتے ہیں اور ایسے شو بڑے فخر سے پیش کرتے ہیں کہ جن سے عوام میں گداگری سے رغبت پیدا ہو۔ ماہِ رمضان میں تو ان پروگراموں کی برسات ہی ہو جاتی ہے۔
ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں اور گداگری بھی محض تاریک رخ پر مشتمل نہیں ۔ ایک روشن پہلو بھی ہے اس کا کہ بھکاری ہمارے محسن ہیں کیونکہ وہ ہمیں معافی مانگنا سکھاتے ہیں۔ورنہ ہم پاکستانی تو اتنے انا پرست ہیں کہ عمریں گزرجاتی ہیں اور ہماری لڑائیاں نہیں ختم ہوتیں۔اب بھکاریوں کو معاف کرو معاف کرو کہنے کی اتنی عادت ہوتی ہے کہ یہ تکیہ کلام بن جاتا ہے۔پھر جب بھی کبھی لڑائی ہو یا بحث مباحثہ تو باتوں باتوں میں بولنے والے کے منہ سے نکلتا ہے کہ معاف کرو اور یوں جنگِ عظیم چھڑنے سے رہ جاتی ہے۔
گداگری کی صنعت ہم تک محدود نہیں۔ اب تو سعودی عرب میں بھی بھکاری بکثرت ملتے ہیں بلکہ حرمین میں بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ کبھی شامی کوئی اپنے حالات کا رونا روتا ہے تو کبھی یمنی۔ اکثر تو ہمیں پاکستانی ملے اور کہا کہ ان کے پاس اتنے ریال تھے مگر جیب کٹ گئی۔وہ جگہ بھی ایسی ہے کہ ہم جیسے جز رس بھی اپنی استطاعت کے مطابق مدد کر دیتے ہیں۔ایک مرتبہ ہم غارِ حرا کی زیارت کو گئے۔غارِ حرا اور غارِثور دونوں پہاڑوں میں کافی بلندی پر واقع ہیں اور ان تک پہنچنے میں دو تین گھنٹے لگ جاتے ہیں۔غارِ ثور کی مرتبہ تو ہم محروم رہے مگر غارِ حرا کی مرتبہ ہم جب نصف چڑھائی چڑھ چکے توغار کے دیدار سے پہلے بھکاریوں کا دیدار شروع ہو گیا۔ان میں ایک بھکاری معذور تھا۔ وہ لوگوں کو دیکھ کر کوئی تبصرہ کر دیتا جسے دیکھ کرزائرین مسکرا اٹھتے اور اسے چندہ بھی دے دیتے تھے۔ایک زائر نے رقم دینے کی بجائے کہا کہ میں ابھی پولیس کو بلواتا ہوں کہ تم یہاں بھیک مانگ رہے ہو۔اس نے بغیر کسی پریشانی کے کہا کہ کوئی مسئلہ نہیں۔ اتنا اوپر پولیس ٓ نہیں سکتی اور نیچے میں نہیں جا سکتا ۔

Leave a comment

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبیﷺ کی…Articles Published in Newspaper(2)!

aflak

Daily Metrowatch _ Islamabad

universal.png

Leave a comment

وہ خاکِ پا بھی نہیں نبیﷺ کی…Articles Published in Newspaper!

kashmir roznama.png

daily lahore post.png

bol

jazba jahlam

Leave a comment

سرعام حوصلہ شکنی….Article published in Newspaper…

sherpk

Leave a comment

   وہ خاکِ پا بھی نہیں نبیﷺ کی

ہمارے  نبی کریم ﷺ کو جب اللہ نے نبوت سے سرفراز کیا تو آپﷺ نے مکہ والوں کو جمع کیا اور ان سے پوچھا کہ اگر میں تم سے کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کی فوج موجود ہے تو کیا تم میری بات پر یقین کرو گے۔  سب نے کہا کہ ہاں ہم یقین کریں گے کہ ہم نے آُﷺ کو جھوٹ بولتے کبھی نہیں سنا۔ اس کے بعد آپﷺ نے انھیں اللہ کا پیغام سنایا اور ایک اللہ کو معبود ماننے کی دعوت دی۔
صلح حدیبیہ کا واقعہ کا تذکرہ بھی بہت اہم ہے۔ اس معاہدے میں ایک اہم شرط یہ تھی کہ کوئی مسلمان اگر مسلمانوں کی پناہ میں آ گیا تو وہ کفار کو واپس کر دیا جائے گا۔  معاہدے پر ابھی دستخط نہیں ہوئے تھے۔ محض زبانی رضامندی کا اظہار آپﷺ نے کیا تھا کہ ابوجندل رضی اللہ تعالٰی کفار سے بھاگ کر اور چھپتے چھپاتے وہاں آ گئے۔ ان کی حالت دیکھ کر ہر کوئی بآسانی اندازہ کر سکتا تھا کہ انھیں کن کن صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے مگر اس کے باوجود محمد مصطفٰے نے اپنے قول کا پاس رکھا اور انھیں کفار کو واپس کر دیا۔
یہ تو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور زبان کی پاسداری کے دو واقعات ہیں۔ تاریخ پڑھتے جائیں اور جھومتے جائیں۔ ایک مرتبہ نبوت سے بھی قبل کسی تاجر سے اس کے آنے تک وہاں رکنے کا معاملہ کیا تو تین دن تک وہیں ٹھہرے رہے۔ یہاں تک کہ وہ  واپس آیا اور معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔
دیانت داری کا تزکرہ کیا جائےتو بہترین مثال ہمیں ہجرت کے موقع پر نظرآتی ہے کہ وہ لوگ کہ جو آپﷺ کی جان کے درپے تھے انھوں نے ہی اپنی امانتیں آپﷺ کے پاس رکھوائی ہوئی تھیں۔ ادھر امین ﷺ کو اس کا اتنا خیال کہ ساری امانتیں اپنے چچازاد بھائی اور شیرِ خداحضرت علی رضی اللہ تعالٰی کے  سپرد کر کے آئے کہ انھیں ان کے مالکوں تک پہنچا کر ہجرت کر آنا۔

امانت کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ یہ محض لین دن تک محدود نہیں۔ بلکہ اپنی صلاحیتوں کا درست اور مکمل استعمال بھی امانت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حجہ الوداع کے موقع پر ایک لاکھ بیس ہزار صحابہ کرام سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا میں ﷺنے تمھیں اللہ کا پیغام ٹھیک ٹھیک پہنچا دیا؟  تما صحابہ نے جواب دیا۔بے شک آپﷺ نے اللہ کا پیغام ہمیں پورا پورا پہنچا دیا۔ اس پر آپﷺ نے اللہ کو گواہ بنایا۔ہمارے نبی کریم ﷺ نے زندگی بھر ان اصولوں پر عمل کیا تو انھیں ان کے دشمن ‘صادق’ اور ‘امین’ پکارنے لگے۔ یہ آپﷺ کے دشمنوں کا آپﷺ کو بہترین خراجِ تحسین ہے اور ہم بے عمل مسلمانوں کے لئے ایک بہت بڑا اعزاز۔
آج کل ہمارے سیاستدان اور میڈیا والوں نے ان الفاظ کو مذاق بنا دیا ہے۔ ہمارے سیاستدان جو الیکشن کے دوران لوگوں کو سبز باغ دکھاتے ہیں اور کسی اسمبلی کی سیٹ ملنے کے بعد عوام کو سالوں شکل نہیں دکھاتے۔ وعدے پورے کرنا تو بہت دور کی بات ہے۔ یاد دہانی پر نئی تاریخ دے دیتے ہیں۔ جو اپنے معاہدوں اس لئے کرتے ہیں کہ ان سے پھر جائیں اور کوئی یاد دلائے تو کہتے ہیں کہ معاہدہ ہی تو تھا کوئی قرآن و حدیث تو نہیں تھی۔ ادھر ایمانداری کا یہ عالم ہے کہ قریب قریب سبھی کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں۔ چند سال میں  ان کے کاروبار کئی گنا ہو جاتے ہیں لیکن ٹیکس ان کا کسی سرکاری ملازم سے بھی کم ہوتا ہے۔ جو اپنے ہم وطنوں کو دوسرے ممالک کوبیچ دیتے ہیں۔ سالوں اسمبلیوں میں شکل 

نہیں دکھاتے اور ٹی اے ڈی اے اور تمام الائنس باقاعدگی سے لیتے ہیں۔ جو سرکاری خرچوں پر اپنےعلاوہ اپنے گھر والوں اور دوستوں کو سیریں کرواتے ہیں۔ جن پر ان کی پارٹیوں کے لوگ اعتراض کرتے ہیں۔جو ہر منصوبے سے اپنا کمیشن وصول کرتے ہیں اور جن کی پوشیدہ جائیدادوں ، بیگمات اور اولادوں کا عوام کو ٹھیک سے علم نہیں۔ جو عوام کی خدمت کا دعوٰی کرکے سیٹیں اور وزارتیں پاتے ہیں اور اس کے بعد اسی عوام کے ٹیکسوں کی دولت سے اپنی عیاشیاں کرتے ہیں۔ وہ ایک گوشوارہ جمع کروا کے اپنے عام کو سرِ عام اور دھڑلے سے ‘صادق’ اور ‘امین’ کہتے ہیں۔ وہ گوشوارہ بھی کس طرح پر کیا جاتا ہے وہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ ساری جائیدادیں رقمیں اپنے گھر والوں کے نام کرو اور ان کے مقروض ہو جائو۔
اگر یہ صادق ہیں تو اپنے بیانات سے کیوں پھرتے ہیں۔ اور اگر امین ہیں تو جو پاکستان قریب سو ارب ڈالر  کا مقروض ہے وہ پیسہ کہاں لگا ہے؟ کون سا صوبہ، ڈویژن، ضلع،شہر یا گائوں ترقی کا منظر پیش کر رہا ہے۔ مدینہ جیسا کوئی گائوں کوئی محلہ ہی دکھا دے کوئی۔ جب یہ ممکن نہیں ہے جو کہ واقعی ناممکن ہے تو اتنے خوبصورت القابات کی توہین بھی نہیں کرنی چاہیے۔جس نے گوشوارہ ٹھیک جمع کروایا اور تمام معلومات درست درج کیں اور جس پر بدعنوانی کا کوئی کیس نہیں بنا  وہ یقیناً محترم ہے مگر محض اس بنا پر وہ ‘صادق’ اور ‘امین’ نہیں ہو جاتا۔ ‘صادق’ اور ‘امین’ وہ معیار ہے کہ جس تک پہنچنے میں عمریں بیت جاتی ہیں اور بڑے بڑے ولی اللہ اس کا دعوٰی نہیں کر سکتے کجا کہ ہم جیسے دنیا دار اتنا بڑا بوجھ خود پر لاد لیں۔  بقول مظفر وارثی صاحب

ہزاروں لوگ ایسے محترم ہیں
جو صاحبِ خامہ و علم ہیں
وہ خاکِ پا بھی نہیں نبی ﷺ کی
سب اکٹھے بھی اس سے کم ہیں
ایسے اچھے اور قابل لوگوں کو راست باز، راست گو اور دیانت دار اور ایمان دار کہہ کر پکاراجائے یا کوئی بھی اور الفاظ جو اہلِ زبان مناسب سمجھیں۔
ایسا بالکل ممکن ہے کہ یہ سب نادانستہ ہو اور ہمارے سیاست دان اور میڈیا اینکر آئین کے آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کی وجہ سے اسے استعمال کرتے ہوں مگر آئین میں تو اقتدارِ اعلٰی بھی اللہ تعالٰی کا ہے۔ اس کا بھی تو نفاذ نظر نہیں آتا۔سو اگر میں ترمیم  کر دی جائے یا ایسا کچھ کہ یہ عام الفاط نہ رہیں تو یہ بہت بہتر ہو گا۔ان الفاظ کے ایسے کھلےعام استعمال سے ان کی توقیر گھٹ جائے گی اور ان کا تاثر غیر مسلموں اور آزاد خیال مسلموں پر  خوانخواستہ ایسا ابھرے گا جیسا کہ مسلمان سے دہشت گرد۔جیسا کہ اسلام پر عمل کرنے والا بنیاد پرست۔ ابھی سے ہمیں اس کے تدارک کی تدبیر کرنی چاہیےاور سیاست دانوں اور میڈیا والوں کے ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے

Leave a comment

Article Published in Newspaper…(مردم شماری کی ضرورت کیوں پیش آئی)

mardam shumari bad e shumal

mardam shumari

mardam shumariii

Leave a comment

Articles Published in Newspaper…(ہم مقابلوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے)

hm muqablon m hisa q nahe lyte nai adalat

hm muqablon m hisa q nahe lyte

hm muqablon m hisa q nahe lytee

Leave a comment

Articles published in Sama Newspaper…(ہم مقابلوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے)

daily sama muqablon m hisa q nhe lyte

Leave a comment

Articles published in Newspaper…(ہم مقابلہ میں حصہ کیوں نہیں لیتے)

muqablon m hisa

Leave a comment

Article Published in Newspapers–2–(مردم شماری کی ضرورت کیوں پیش آئی)

mardam shumari

mardam shumari1

Leave a comment

Article published in Newspapers….(ہم مقابلوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے)

ibn-e-riaz article in newpapaere

ibn-e-riaz article in newpapaera

Leave a comment

ہم مقابلوں میں حصہ کیوں نہیں لیتے

بچپن سے ہی ہمیں  غیر نصابی سر گرمیوں میں حصہ لینے کا شوق تھا۔ ہم سکول مقابلوں میں ہر مقابلے مین اپنا نام لکھواتے تھے۔ کرکٹ، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں ہمارا نام تو لکھ دیا جاتا مگر ہمیں ان میں اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ہی نہیں ملتا تھا۔ وہ شاید ہماری صحت دیکھ کر ہی ہمیں ناموزوں سمجھ لیتے تھے۔ اس کا تذکرہ  ہم پرانے ایک کالم  بعنوان ‘ بچپن کی ناآسودہ  خواہشیں ‘ میں کر چکے  ہیں۔ سر عام اس حوصلہ شکنی کے بعد ہم نے سوچا کہ اب کسی اور شعبے میں طبع آزمائی کی جائے۔

تقریری مقابلے بھی ہمیں بہت پسند تھے۔ جب مقررین  ہال میں موجود سامعین کے دلوں کو اپنے دلائل سے گرماتے اور انھیں بے اختیار تالیاں بجانے اور نعرے لگانے پر مجبور کر دیتے تو ہمیں ان پر رشک آتا تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم بھی ایسے عوامی مقرر بنیں۔ ایک بار کلاس میں تقریری مقابلہ ہوا۔ ہم نے سوچا کہ یہ ٹھیک رہے گا۔ ایک دم سے سکول مقابلے میں حصہ لینا کچھ مناسب نہیں۔ ہم اپنے ہنر کوپہلے کلاس میں آزمائیں گے اور یہ جیتنے کے بعد پھراگلی منزل پورے سکول کا مقابلہ ہو گا۔اس کے بعد پھر تحصیل، ضلع  ، صوبہ اور پھر ملک کی سطح تک  درجہ بدرجہ اپنے جوہر دکھانے کا  منصوبہ بنایا۔  الغرض ہم نے نام لکھوا دیا۔ تقریر کا موضوع ‘قائد اعظم’ تھا اور کل دو مقرر تھے بشمول ہمارے۔یعنی کہ ہمیں ایک ہی بندے کو زیر کرنا تھا اور ہماری رائے میں کچھ ایسا بھی مشکل کام نہ تھا۔ گھر جا کر ہم نے اپنےبڑوں سے ایک زبردست تقریر لکھوائی۔ ایک دو مرتبہ چلا  کر تقریر کی۔ گھر والوں نے ہمیں سمجھایا کہ کہاں آرام سے بولنا ، کہاں لہجہ مدہم رکھنا ہے اور کہاں اپنے پھیپھڑوں کا پورا زور لگا   کربولنا ہے اور ایک زوردار مکے سے ڈائس توڑ دینا ہے۔ ہم نے تمام ہدایتیں ازبر کر لیں اور تقریر بھی۔

اگلے روز کلاس میں گئے اور کچھ دیر بعد ہماری میڈم نے مقابلے کا آغاز کیا۔ ہمارے ساتھ پہلی زیادتی یہ ہوئی کہ ڈائس پر میڈم خود کھڑی ہو گئیں اور ہمیں سب کے سامنے کر دیا۔ ڈائس  کیا گیا ہمارے حواس ہی چلے گئے۔ کیوں کہ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ ہم مکہ کس پر ماریں گے۔ امتزاد یہ کہ میڈم نے پہلے ہمیں بلایا کہ آپ آئیں اور تقریر کریں۔ ہم سامنے آئے اور اپنی تقریر کھولی۔ یہ شعر پڑھا

ہزاروں سال نرگس اپنی بےنوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

اس کے بعد پھر یاد آیا کہ ڈائس غائب ہے کیونکہ ہماری ٹانگوں نے اچانک ہی عجیب قسم کا ڈانس شروع کر دیا تھا۔ ڈائس ایسے ہی مشکل وقتوں کا تو ساتھی ہوتا ہے۔ بد حواس تو ہم نے ہونا ہی تھا۔   ہم بھول گئے کہ کہاں مدہم  بولنا ہے اور کہاں  چلانا ہے۔ ہماری تقریر  خبرنامہ  کا منظر پیش کر رہی تھی   اور اس پر ہمارے جسم کے اعضا   االگ الگ رقص میں مشغول تھے۔اس  کا نتیجہ  بھی جلد ہی ظاہر ہو گیا جب میڈم نے  ہماری بجائے دوسرے لڑکے  کا نام سکول کے مقابلے کے لئے  نامزد کیا۔ اس واقعے کے بعد  تقریر  کرنے سے ہم نے توبہ کی۔

کوئز مقابلوں میں بھی ہم نے خوب حصہ لیا اور ہر بار منہ کی کھائی۔ ہم اپنی دانست میں ٹھیک جواب دیتے تھے اور اس کا حوالہ بھی موجود ہوتا  تھا مگر میزبان کا ہمیشہ یہی جواب ہوتا ہے کہ ہمارے پاس تو یہی لکھا ہے اور منتظمین پھر ہمیں مقابلے کا قواعد دکھانا شروع ہو جاتے تھے کہ جو لکھا ہوا ہے وہی درست ہے اور انتظامیہ کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ 2001میں پاکستان  مین سیف (سائوتھ ایشین فیڈریشن  ) کھیل ہونے تھے جو کہ  نو گیارہ کے واقعے کے بعد ملتوی ہو گئے تھے۔اس سلسسلے میں ایک کوئز پروگرام ہوتا تھا جس میں جیتنے والوں کو  کافی انعامات سے نوازا جاتا تھا۔  اول نمبر پر آنے والوں کو دس لاکھ ملتا تھا۔ہم نے  کچھ کوئز پروگرام ٹی وی پر دیکھے تو اندازہ ہوا کہ یہ کچھ مشکل نہیں ۔ یوں بھی کھیلوں سے متعلق تھا تو ہمارے لئے اور بھی آسان۔ کواب میں ہی ہم نے خود کو  دس لاکھ جیتتے دیکھ لیا۔ہم نے بھی اس مقابلے میں حصہ لینے کا   فیصلہ کیا  اور انکی شرائط پوری کر دیں۔ انھوں نے تیاری کے سلسلے  میں ایک کتاب دی تھی جس میں سیف گیمز اور  جنوبی ایشین ممالک کی تاریخ تھی جوکہ ہم نے رٹ لی۔ تاہم کھیل ملتوی ہونے کے باعث  یہ پروگرام بھی بند ہو گیا ۔ دو سال بعد یہ پروگرام دوبارہ شروع ہوا  تو ہمیں ٹیلی ویژن والوں نے نہیں بلایا اور ہم بھی دل ہی دل میں  ان کی شان میں ناقابلِ اشاعت  قصیدہ پڑھتے  رہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ہم بھول ہی گئے کہ  ہم نے اس مقابلے میں حصہ لینا تھا  کہ ہمیں ٹی  وی والوں نے  ہمیں مقابلے میں حصہ لینے کا خط بھیجا اور اس میں کہا کہ اب کوئز میں کتاب سے باہر معلوماتِ عامہ کے سوال بھی ہوں گے۔ ہم نے ایک کتاب خریدی اور اس کو  گھول کر پی لیا ۔ جب ہم مقابلے میں شریک ہوئے تو معلوم ہوا کہ پہلے سوال کے درست جواب کی صورت میں ہی آپ آگے کھیل سکتے ہیں ورنہ پہلے رائونڈ میں ہی واپسی کا پروانہ  تھما دیا جائے گا۔پی ٹی وی والوں نے دکھائی  بائیں تھی مگر ماری ہمیں دائیں تھی کہ سوال ہم  معلوماتِ عامہ تیار کر کے آئے تھے انھوں نھے اپنی دی ہوئی کتاب میں سے سوال پوچھ لیا۔ یوں ہم پہلے ہی سوال پر  عازمِ  گھر ہوئے مگر خود کو تسلی دی کہ پی ٹی وی پر تصویر تو آئے گی ناں کیا ہوا کہ پہلے ہی مقام پر باہر ہوئے۔

موجودہ دور میں فیس بک بھی میڈیا کا ایک اہم حصہ ہے۔ آج کل میڈیا صرف اخبارات و رسائل اور ٹیلی ویژن تک محدود نہیں۔ فیس بک اور واٹس ایپ بھی اب میڈیا ہی کے شعبے ہیں اور بعض معاملات بالخصوص رائے بنانے میں تو فیس بک سب سے آگے ہے۔ اب ہر اہم شخصیت فیس بک پر موجود ہے اور تمام لوگوں نے اپنے اپنے پیج بنائے ہوئے ہیں جن کی بدولت وہ اپنے مداحوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ان کے پیجز پر ان کی تحاریر ہوتی ہیں مگر تحریر روز روز لانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں(چاہے کسی اور سے بھی لکھوا کے لائیں) سو اس کا حل یہ ہوتاہے کہ صفحے کو قرآنی آیات، احادیث، اقوال زریں، لطیفوں سے بھرا جاتا ہے۔ جس کا پیج جتنا  چست (ایکٹو )ہو اتنا ہی وہ مقبول تسلیم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اپنے صفحے کو ایکٹو رکھنے کے لئے نت نئی سرگرمیاں کی جاتی ہیں تا کہ اپنے اراکین کی اپنے پیج پر دل چسپی کو قائم رکھا جا سکے۔